Tuesday, July 21, 2026
 

کراچی کی تاخیر پہنچی گوجرانوالہ؟

 



کراچی کی معروف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر تعمیر ہونے والی ریڈ لائن پر ترقیاتی کام تاخیر پہ تاخیر کے بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے جو گزشتہ چار سال قبل تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی جسے 2024 میں مکمل ہونا تھا اور اب اپریل 2026 کے آخر میں اس کی تعمیر دوبارہ شروع ہوئی بلکہ اس میں تیزی بھی آگئی ہے۔ نمائش چورنگی سے شروع ہونے والے اس منصوبے کی لمبائی 24 کلو میٹر ہے جو چار سال سے زیر تعمیر اور شہریوں کے لیے سخت عذاب کا باعث بنا ہوا ہے جہاں محکمہ موسمیات تک زیر تعمیر سڑک گڑھوں کے ساتھ بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے ساتھ سیمنٹ کے بیریئر بھی لگے ہوئے ہیں اور سندھ حکومت ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں کی کڑی تنقید اور شرمندگی کا باعث تھی جس پر اب پرانے ٹھیکے کی منسوخی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو تعمیری کام منصوبہ ٹھیکے پر ملنے کے بعد نہ صرف کافی دنوں پر کام شروع، مشینری اور مزدوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نظر آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر وقت مقررہ پر ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل کا یقین دلایا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پہلے منصوبے کے تحت میٹرو بس سروس کے طور پر سرجانی سے نمائش چورنگی تک منصوبہ سالوں بعد مکمل ہوا تھا جس پر بسیں چل رہی ہیں۔وفاقی اور سندھ حکومت نے یونیورسٹی روڈ موسمیات سے نمائش چورنگی تک ریڈ لائن منصوبہ شروع کیا تھا جو ایم اے جناح روڈ سے ٹاور تک جانا ہے اور یہ منصوبہ پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ پنجاب میں لاہور کے بعد راولپنڈی، اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس سروس بغیر تاخیر مکمل ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی میٹرو منصوبوں پر کڑی تنقید کرتے اور’’ جنگلا بس ‘‘کہہ کر مذاق اڑاتے تھے پھر اس کی افادیت دیکھ کر پی ٹی آئی کی حکومت نے پشاور میں بھی میٹرو بس شروع کر دی تھی اور شہباز شریف کی پنجاب حکومت کے بعد وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں بھی میٹرو بس سروس کا کام شروع کرایا ہے جو کامونکی سے گوجرانوالہ سے گزر کر گکھڑ منڈی تک تقریباً 38 کلو میٹر طویل تو ہے مگر کراچی کے تاخیری منصوبے کی طرح اس بار حکومت نے بھی عجیب فیصلہ کیا ہے اور یہ طویل میٹرو منصوبہ ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے مگر اس طویل منصوبے کی اکٹھی تعمیر شروع کرا دی ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تھا کہ پانچ پانچ کلو میٹر پر کام پہلے مکمل کیا جاتا مگر 38 کلو میٹر تک کام شروع ہونے سے گوجرانوالہ میٹرو منصوبہ علاقے کے لیے ویسا ہی عذاب بن گیا ہے کہ جیسے کراچی کے لاکھوں لوگوں کے لیے ریڈ لائن منصوبہ عذاب بنا ہوا ہے اور پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ گوجرانوالہ کی طرح اکٹھا بننا شروع نہیں ہوا بلکہ فاصلوں سے بن رہا ہے جو پہلے نیپا چورنگی سے جیل چورنگی تک بننا شروع ہوا تھا اور بعد میں جیل چورنگی سے نمائش چورنگی اور یونیورسٹی روڈ پر نیپا سے موسمیات تک بڑھا دیا گیا اور جس سڑک پر پہلے کام شروع ہوا تھا اس کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ جیل چورنگی تک نامکمل رہتا اس لیے بعد میں اس کے دونوں طرف تعمیری کام شروع کرایا گیا اور 24 کلومیٹر ریڈ لائن منصوبے نے لاکھوں افراد کا سفر اجیرن کر رکھا ہے۔ کراچی میں ریڈ لائن منصوبہ درمیان سے شروع ہوا تھا اور مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ گوجرانوالہ میٹرو منصوبہ کامونکی سے گکھڑ منڈی تک ایک سال میں مکمل ہونا ہے جس میں کراچی کے ریڈ لائن منصوبے میں تکمیل کا بھی کوئی امکان نہیں کیونکہ پنجاب و اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر مکمل ہو جاتے ہیں مگر جس طرح گوجرانوالہ میٹرو منصوبے پر کام شروع ہوا ہے اس کی وجہ سے علاقے کے عوام سخت پریشانی میں مبتلا کر دیے گئے ہیں اور توقع تو نہیں کہ گوجرانوالہ میٹرو کراچی ریڈ لائن کی طرح تاخیر کا شکار ہوگی اور وہاں کراچی ریڈ لائن کی تقلید نہیں ہوگی کیونکہ وہ سندھ نہیں پنجاب کا منصوبہ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل