Loading
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فوج نے دسویں روز بھی ایران میں نئے حملوں کا آغاز کردیا ہے جن کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر حملوں کے نقصانات یا ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک ہیلی کاپٹر بھی متاثر ہوا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پینٹاگون نے درجنوں زخمی فوجیوں کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشنل سیکیورٹی کے باعث تمام معلومات فوری طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں۔
پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق جنگی کارروائیوں میں اب تک 427 امریکی فوجی زخمی ہوچکے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد 17 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 1,700 سے زائد ایرانی شہری بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ادھر امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آج رات کے حملوں کے بعد خطہ ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے پیش نظر کویت میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، جبکہ فضائی دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا ہے۔ کویتی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل