Tuesday, July 21, 2026
 

پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش، نشیبی علاقے زیر آب، بجلی کا طویل بریک ڈاؤن

 



خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رات بھر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث متعدد شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوگیا جبکہ ندی نالوں میں طغیانی سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔ پشاور میں رات بھر ہونے والی بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جو 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کئی علاقوں میں بحال نہ ہوسکی۔ گلبہار، کاکشال، ریگی، ملازئی، یونیورسٹی ٹاؤن، ذریاب کالونی، کوہاٹ روڈ، دوران پور اور دیگر علاقوں میں بجلی بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئیں جبکہ نکاسی آب کے نالے بھی ابل پڑے۔ محکمہ موسمیات نے 23 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ تحصیل رستم اور گردونواح میں بھی گزشتہ شب سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا اور ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جبکہ بارش شروع ہوتے ہی کئی علاقوں میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔ رسالپور اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے موسلادھار بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔ دیر لوئر میں بھی گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ شدید بارشوں سے بالائی علاقوں کی متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ بجلی کے تمام فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔ دوسری جانب نوشہرہ میں بارشی سیلاب کے دوران جہانگیرہ اسٹاپ کے قریب فضل بارگین کے مقام پر 14 گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 نوشہرہ کی ڈیزاسٹر ٹیمیں فوری طور پر ریکوری وہیکل اور ضروری آلات کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ ریسکیو 1122 نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین کے مطابق ریسکیو ٹیمیں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل