Loading
نئی دہلی: بھارت میں سوشل میڈیا سے جنم لینے والی کاکروچ جنتا پارٹی نامی احتجاجی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین نے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت پر امتحانات میں بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر گیا جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے۔
دہلی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 118 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں کئی سینئر افسران بھی تھے جبکہ تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین پر پرتشدد رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔
دوسری جانب احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے پولیس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ تحریک کے رہنما آشوتوش رانکا نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے تک احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
منگل کو بھی سینکڑوں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر موجود رہے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے۔
یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔
احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل