Loading
ڈاکٹر وحید الرحمٰن خان مزاح نگار، مصنف، نقاد اور اردو ادب کے استاد ہیں۔ وہ گزشتہ 17 برس سے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے منسلک ہیں۔ آج کل یونیورسٹی کی ’ڈویژن آف اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ‘ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک نشست میں ان کی ادبی سرگرمیوں، اردو ادب کی صورتحال، قومی زبان کی اہمیت اور ان کے حالیہ دورہ بنگلہ دیش پر گفتگو ہوئی، جس کی تفصیل قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔
پروفیسر وحید الرحمٰن خان کو اوائل عمر ہی سے طنز و مزاح سے فطری مناسبت تھی، چنانچہ اسی میدان میں ان کے تخلیقی جوہر کھلے۔ زمانہ طالب علمی میں ان کے فکاہیہ مضامین اخبارات و جرائد میں چھپنا شروع ہوگئے، اس طرح شعرو و ادب سے تعلق بڑھتا گیا۔ گورنمنٹ کمپری ہینسو سکول ملتان سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی اے کرنے کے بعد ایم اے اردو کے لیے اورینٹل کالج لاہور آگئے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے اردو کررہے تھے جب ان کی طنز و مزاح کی پہلی کتاب ’’گفتنی شگفتنی‘‘ شائع ہوئی۔ 1995ء کے آغاز میں آنے والی اس کتاب کو جہاں عمومی پذیرائی ملی وہاں کرنل محمد خاں اور مشفق خواجہ (خامہ بگوش) جیسے ثقہ لکھاریوں نے بھی ان کے طرز نگارش کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اس کے علاوہ ’’حفظ ماتبسم‘‘ اور ’’خامہ خرابیاں‘‘ ان کی طنزو مزاح کی کتابیں ہیں۔ انہوں نے اپنے تحقیقی کام میں بھی فکاہیہ ادب کو ترجیح دی۔ ایم فل میں خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے کالموں پر مقالہ تحریر کیا۔ ’’خامہ بگوش۔۔ ایک مطالعہ‘‘، ‘‘مطالعہ قابل‘‘، ’’اردو طنز و ظرافت، فن اور روایت‘‘، ’’ہم دم اقبال‘‘ اور ’’نقد سفر‘‘ ان کے تحقیقی کام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز گورنمنٹ کالج ملتان اور گورنمنٹ کالج خانیوال میں تدریس سے کیا۔ چار سال پنجاب یونیورسٹی، شعبہ اقبالیات میں ریسرچ آفیسر کے طور پر بھی کام کیا، بعد ازاں یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے وابستہ ہو گئے۔
ڈاکٹر وحید الرحمن کہتے ہیں کہ آج کل کے طالب علموں کو کتاب سے زیادہ فیس بک کا شوق ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ طالب علموں میں شعر و ادب کا شوق اور مطالعے کا ذوق پیدا کیا جائے۔ طالب علموں پر زور دیتے ہیں کہ انہیں کسی ایک صنف ادب کا اسیر ہوکر نہیں رہ جانا چاہیے بلکہ ادب کی تمام اصناف کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے استاد ہونے پر فخر ہے۔ ان کے بقول، ’’ان دنوں جامعات میں طلبہ کے داخلوں میں کمی کا تشویش ناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ شاید ایک عالمی مسئلہ بھی ہے کیوں کہ میری نظر سے امریکی کالم نگار آرٹ بکوالڈ کا ایک مزاحیہ کالم گزرا تھا جس میں امریکی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے داخلوں کی کمی کو موضوع بنایا گیا تھا۔ اس کالم کے مطابق یونیورسٹی کا ایک نمائندہ جاسوس کے ذریعے ایک نالائق طالب علم کا پتہ حاصل کرتا ہے اور اسے داخلے کے لیے مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی تمام شرائط پوری کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، حتی کہ طالب علم کو منشیات کے استعمال کی اجازت بھی دے دی جاتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا نہیں۔ یہ بہرحال تشویش ناک بات ضرور ہے۔ علوم اور فنون اپنی صورتیں بدل رہے ہیں۔ نئے علوم متعارف ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ اگر ہم نے خود کو زندگی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا تو ہماری درس گاہیں پھر سے آباد ہو جائیں گی۔‘‘
اردو زبان کی اہمیت کے بارے میں کہتے ہیں، ’’یہ ہماری قومی زبان اور پاکستانیت کا روشن حوالہ ہے۔ جب یہ باقاعدہ طور پر ایک سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ ہو جائے گی تو اس کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔ اگر سائنسی علوم کو انگریزی سے اردو میں منتقل کر لیا جاتا ہے اور اردو زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے تو ایک حیرت انگیز قومی، علمی اور سائنسی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں ایسے تراجم مشکل نہیں۔ مصنوعی ذہانت نے مشکلیں آسان کر دی ہیں اور آئندہ چند برسوں میں ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی کہ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔‘‘
مطالعے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر وحید الرحمن خان کا کہنا تھا، ’’میری کوشش ہوتی ہے کہ جو اعلیٰ درجے کے مزاح نگار ہیں ان کو بار بار پڑھا جائے۔ ان میں پطرس بخاری، مشتاق احمد یوسفی، محمد خالد اختر، کرنل محمد خاں، شفیق الرحمن اور ابن انشا شامل ہیں۔ دوسرے ادیبوں میں قرتھ العین حیدر، اقبال اور غالب کو بار بار پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ جدید شاعری میں احمد فراز، اسلم انصاری اور ہندوستان کے شاعر عرفان صدیقی پسند ہیں۔ عالمی فکشن کے تراجم سے خصوصی دلچسی ہے۔
اس کے علاوہ مطالعے کا ایک مسلسل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔‘‘ وہ اردو ادب کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس دور میں بھی اچھا ادب تخلیق ہورہا ہے۔ ان کے بقول، ’’اردو میں معیاری ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ خاص طور پر نئی صدی میں ناول کی صنف میں روز افزوں ترقی ہوئی ہے۔ تکنیکی اور موضوعاتی سطح پر نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ یہ بہت حیرانی کی بات ہے کہ زندگی اگرچہ بہت زیادہ مصروف ہو گئی ہے لیکن ناول جیسی ضخیم اور وقت طلب صنف ادب فروغ پا رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اہل ذوق کسی بڑے ناول کا انتظار بھی کر رہے ہیں۔‘‘
اردو میں طنز و مزاح لکھنے والے نامور ادیبوں کی ایک پوری کہکشاں موجود رہی ہے جن میں پطرس بخاری، شفیق الرحمٰن، کرنل محمد خان، مشتاق احمد یوسفی، ابن انشا جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ موجودہ دور میں اس صنف ادب کی صورتحال کے متعلق ڈاکٹر وحید الرحمٰن کا کہنا ہے: ’’یہ صنف ادب معدوم اور نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ذوق ظرافت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عملی مزاح کے شگفتہ تر نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں اور احساس ہوتا ہے کہ قوم کی مجموعی حس ظرافت میں ترقی ہوئی ہے لیکن ادبی اور تحریری سطح پر یہ فن لطیف زوال پذیر ہے۔ پرانے بادہ کش اٹھ گئے ہیں، تازہ کاروں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے۔‘‘
ان کی اہلیہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین بھی اردو ادب کی استاد اور ماہر اقبالیات ہیں۔ چند ماہ قبل وزارت خارجہ پاکستان کے زیر انتظام، بنگلہ دیش میں فکر اقبال کے فروغ کے لیے انہیں اپنی اہلیہ کے ہمراہ سابقہ مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس کے متعلق بتاتے ہیں، ’’ہمارا دورہ بنگلہ دیش بہت کامیاب اور یادگار رہا۔ بنگلہ دیش کی مختلف جامعات ڈھاکہ یونیورسٹی، چٹاکانگ یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی کشتیہ، راج شاہی یونیورسٹی، نارتھ سائوتھ یونیورسٹی (ڈھاکہ) کے سیمناروں میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں علامہ اقبال کے حوالے سے ہونے والے اولین سیمنار تھے جہاں ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کلیدی خطبات پیش کیے۔
مجھے بھی بنگلہ دیش کے باشعور اور پرجوش طلبہ سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا اور میں نے ان طلبہ کو ’’اقبال کے شاہین، بنگال کے شاہین‘‘ قرار دیا۔ بنگلہ دیش کی عوام اردو زبان سے اچھی خاصی آشنا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان ٹی وی کے ڈرامے ہیں، جو وہ شوق سے دیکھتے ہیں۔ وہاں کے لوگ جذبہ اخوت کے پیش نظر پاکستان کی عوام کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مجھے وہ جواں سال دکاندار نہیں بھولے گا جس کی آنکھوں میں دم رخصت آنسو آ گئے تھے۔ میں دوبارہ بنگلہ دیش گیا تو اپنے دوست سے ضرور ملوں گا۔‘‘
خاندانی پس منظر
وحید الرحمن خان نے ملتان کے ایک مذہبی، علمی اور ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے دادا مولانا خان محمد فاضل دیوبند اور شیخ الحدیث تھے۔ والد پروفیسر حفیظ الرحمن خان اردو ادب کے نامور استاد اور ادیب تھے، جن کا چند ماہ قبل انتقال ہوا ہے۔ وہ دس سے زائد کتب کے مصنف تھے، ان کی تحقیق و تنقید کے بنیادی موضوعات اسلام، اقبال اور اردو تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں پنجاب حکومت (کمشنر ملتان) کی جانب سے ان کے گھر کی دیوار پر ’’لوح اعزاز‘‘ بھی نصب کی گئی۔ اپنے والد کے متعلق وحید الرحمن بتاتے ہیں، ’’والد گرامی حفیظ الرحمن خان ایک خوش ذوق انسان اور نظریاتی آدمی تھے۔ نظریاتی بھی ایسے جنہوں نے کبھی اپنے نظریات کو مفادات سے وابستہ نہیں کیا، ورنہ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ دائیں بازو کے لوگ ہوں یا بائیں بازو کے، وہ اپنے نظریات کی قیمت ضرور وصول کرتے ہیں، مگر ہمارے والد صاحب نے نظریے کی بے لوث خدمت کی۔ والد صاحب کے علمی و ادبی اثرات ہماری پوری فیملی میں منتقل ہوئے۔ ہم سب بہن بھائیوں کا شعری ذوق بہت اچھا ہے۔ اگرچہ ہم شاعر نہیں ہیں لیکن شعر ہمیں یاد ہوجاتے ہیں، شعر ہمیں پسند آتے ہیں۔ تو یہ والد صاحب کے اثرات ہیں جو منتقل ہوئے ہماری طرف۔‘‘
کچھ محمد خالد اختر کے بارے میں
میرے دوست ذوالکفل بخاری بڑے وسیع المطالعہ انسان تھے، کئی کتابیں اور ادیب انہوں نے متعارف کرائے۔ خالد اختر صاحب سے انہوں نے متعارف کرایا تھا، جب ان کی کتاب ’’چچا عبدالباقی‘‘ مجھے دی۔ ان کو پڑھا تو دلچسپی محسوس ہوئی، ایک نیا ذائقہ محسوس ہوا۔ محمد خالد اختر ایک نئی طرز کے مزاح نگار ہیں، جو ابھی اس طرح معروف نہیں ہیں۔ ایک شعر ہے:
ابھی مشکل سے سمجھے گا زمانہ
نیا نغمہ نئی آواز ہوں میں
وہ صاحب اسلوب ادیب تھے، ان کی تحریر میں مغرب کی مہک محسوس ہوتی تھی کیوں کہ وہ انگریزی ادب سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان کے اسلوب، لفظیات اور جملے کی ساخت کی وجہ سے اردو کے دامن میں بھی وسعت پیدا ہوئی، جس کی طرف لوگ کم توجہ دیتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام ان کے دو تین ناول اور ’’چچا عبدالباقی‘‘ ہے۔ ’’چچا عبدالباقی‘‘ اردو مزاح کی چند بہترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ بعض اوقات تنقید ہوتی ہے تو کچھ لوگ مخصوص ناموں کی ایک بار فہرست سازی کرلیتے ہیں، پھر ان میں کوئی نیا نام شامل ہو نہیں سکتا۔ ہر جگہ وہی پرانے نام نظر آتے ہیں اور انہی کی باتیں ہوتی ہیں۔ لیکن جو بھی فہرست بنائی جائے اس میں محمد خالد اختر کا نام پہلے پانچ سات مزاح نگاروں میں ضرور آئے گا اور آنا بھی چاہیے۔ وہ اردو کے صف اول کے مزاح نگار ہیں۔ جن دنوں ان کا انتقال ہوا، میں نے پی ایچ ڈی کا آغاز کیا تھا۔ پھر انہی کا موضوع میں نے اپنے مقالے کیلئے لے لیا۔ اس طرح مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ محمد خالد اختر کے فن اور شخصیت پر مستقبل میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔انہوں نے ادب کی مختلف اصناف میں قابل قدر کام کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل