Tuesday, July 21, 2026
 

جیل میں کھیل سے جمہوریت کی جنگ تک ۔۔۔

 



ٹی وی اسکرینوں پر آج ایک عجیب منظر ابھرا ہے۔۔۔فٹ بال کی ایک ٹیم کے کھلاڑی گھنٹوں کے بل بیٹھے، وہ ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں، وہ کسی سے معافی نہیں مانگ رہے، درخواست کر رہے ہیں۔ ان کے کپتان کی آواز ابھرتی ہے،’’معاف کردو۔۔۔ایک دوسرے کو معاف کردو۔‘‘ یہ منظر اس ملک کے جانے کتنے باسیوں کی آنکھیں نم اور دل موم کردیتا ہے۔ اور پھر کرشمہ رونما ہوتا ہے، اگرچہ اس دیس میں، جہاں سے یہ کھلاڑی تعلق رکھتے ہیں، وہ خانہ جنگی فوری تو نہ رُکی جس کے شعلے بجھانے کے لیے یہ فٹ بالرز متحارب فریقوں سے مخاطب ہوئے تھے، لیکن ان کا پیغام اثر ضرور کرگیا تناؤ کم ہوگیا، ایک دوسرے کو مٹادینے کے پاگل پن نے ہوش کی راہ لی، آخرکار مذاکرات ہوئے اور ملک میں امن کی بہار آگئی۔ یہ واقعہ ہے افریقی ریاست آئیوری کوسٹ کا۔ دنیا میں بے شمار کھیل کھیلے جاتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد تفریح ہے، مگر کچھ ان میں سے کچھ ’’کھیل‘‘ تفریح اور انبساط سے بڑھ کر جنون اور عشق بن جاتے ہیں، جیسے فٹ بال جو اپنے چاہنے والوں کے سینوں میں دھڑکتا اور رگوں میں گردش کرتا ہے۔ فٹ بال سے وابستگی کا یہ پہلو اسے معاشرے میں مثبت بدلاؤ، امن اور یگانگت کے لیے بھی کارگر بناتا ہے، چناں چہ کتنے افراد، تنظیموں اور ممالک نے اس کھیل کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس کا نہایت خوش گوار نتیجہ سامنے آیا۔ آئیوری کوسٹ کی فٹ بال ٹیم کے امن کے لیے آگے بڑھنا بھی فٹ بال ایک ایک ایسا ہی کردار تھا جو بتاگیا کہ یہ کھیل کس طرح زندگیوں کو خوش گوار بنا اور چین اور سکون سے آشنا کرسکتا ہے۔  2005 میں ’’آئیوری کوسٹ‘‘ (Ivory Coast) خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا تھا، جس کے باعث زندگی کا ہر شعبہ متاثر تھا اور پورا ملک دو حصوں میں بٹ چکا تھا۔ یہ خوف ناک سلسلہ 2002 میں شروع ہوا جب ایک بغاوت نے اس قوم کے دو ٹکڑے کردیے۔ بیالیس فی صد مسلم اور انتالیس فی صد مسیحی آبادی والے اس ملک کے جنوب پر ’’لارنٹ گباگبو‘‘ کی سربراہی میں مسیحیوں کی اکثریتی حکومت قائم تھی اور شمال پر ’’گاؤم سورو‘‘ کی قیادت میں مسلمانوں کا غلبہ تھا۔ پھر باہمی تصادم شروع ہوا تو فریقین میں سے کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یہ خطرہ پیدا کردیا تھا کہ ملک کسی بڑے قتلِ عام اور بندگلی کی طرف چلا جائے جائے گا۔ ایسے میں جب پورا ملک اس سیاسی بحران اور خوف کی گرفت میں تھا، وہیں آئیوری کوسٹ کے عوام کی نظریں اپنی چہیتی فٹ بال ٹیم، جسے پیار سے ’’ہاتھی‘‘ کہا جاتا ہے، پر جمی تھیں، جو جرمنی میں ہونے والے 2006 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے تاریخ میں پہلی بار کوالیفائی کرنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ اس منقسم ملک کے لیے اس ٹیم سے بڑا اتحاد کا کوئی نشان نہیں ہوسکتا تھا۔ فٹ بال اس دیس میں بسنے والوں کی مشترکہ محبت بھی تھی اور اتحاد کی علامت بھی۔ ملک کی فٹ بال ٹیم میں جہاں ایک طرف جنوب سے تعلق رکھنے والے ’’ایمانوئل ایبوئے‘‘ جیسے کیتھولک عیسائی تھے، وہیں دوسری طرف ’’یایا تورے‘‘ اور ’’کولو تورے‘‘ جیسے براعظم افریقہ کے مایہ ناز مسلم کھلاڑی بھی شامل تھے، جن کا تعلق شمال سے تھا۔ یہ ایک ایسی ٹیم تھی جو متنوع بھی تھی، بے پناہ باصلاحیت بھی اور اندر سے متحد بھی۔ ’’ہاتھیوں‘‘ کے اس غول کی کپتانی کا سہرا ’’ڈیڈئیر ڈروگبا‘‘ کے سر بندھا تھا۔ ڈروگبا خود ایک راسخ العقیدہ عیسائی ہیں، مگر ان کی اہلیہ پڑوسی ملک مالی سے تعلق رکھنے والی ایک باشرع مسلمان ہیں۔ یوں وہ خود ملک میں اتحاد کی تصویر بن گئے تھے۔ افریقہ کے عظیم ترین فٹ بالرز میں شمار کیے جانے والے ڈروگبا سے آئیوری کوسٹ کے لوگوں کی محبت نسل اور مذہب کے ہر امتیاز سے بے نیاز تھی۔ میچ شروع ہوا تو تمام تر تناؤ اور تفریق کے باوجود لاکھوں آئیورینز ٹی وی اسکرینز کے سامنے جم کر بیٹھ گئے، تاکہ اپنی محبوب ٹیم کو ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کے لیے سوڈان کے خلاف آخری جنگ لڑتے دیکھ سکیں۔ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ آئیوری کوسٹ کی قسمت خود ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں تھی۔ آخر تاریخ رقم ہوگئی اور آئیوری کوسٹ عالمی فٹ بال کپ میں پہنچ گیا۔ اپنے ملک کے حالات پر فکرمند کھلاڑیوں نے ڈریسنگ روم میں کام یابی کا جشن مناتے ہوئے ان لمحات کو اپنے ملک میں امن کا راستہ نکالنے کے لیے منتخب کرلیا۔ فوراً کیمرا لایا گیا تاکہ قوم کے نام پیغام ریکارڈ کیا جاسکے۔ ٹیم کے روحِ رواں ڈیڈئیر ڈروگبا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے جھرمٹ میں کیمرے کے سامنے آئے اور پوری قوم سے مخاطب ہوئے،’’آئیوری کوسٹ کے مردو اور عورتو! شمال، جنوب، مرکز اور مغرب سے تعلق رکھنے والے ہم سب نے آج یہ ثابت کردیا ہے کہ تمام آئیورینز ایک ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں اور ایک مشترکہ مقصد، یعنی ورلڈ کپ میں پہنچنے کے لیے ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ یہ جشن لوگوں کو متحد کر دے گا۔ آج ہم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آپ سے التجا کرتے ہیں۔۔۔۔‘‘ اور پھر آئیورین قوم نے اپنے ہیروز کو گھٹنوں پر بیٹھ کر ہاتھ جوڑے دیکھا، جن کا کپتان کیمرے کے سامنے لڑنے مرنے پر آمادہ گروہوں کو ایک دوسرے کو معاف کردینے کی تلقین کرتے ہوئے کہہ رہا تھا،’’افریقہ کا وہ ملک جو اتنی نعمتوں سے مالا مال ہے، اسے جنگ کی آگ میں نہیں جلنا چاہیے۔ براہِ کرم اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ انتخابات کروائیں۔ سب کچھ بہتر ہوجائے گا۔‘‘ یہ لمحات جادو کرگئے، دلوں میں اُتر گئے اور ذہنوں کو بدل گئے۔ اگرچہ فریقین میں مذاکرات کے بعد قائم ہونے والا امن زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا، لیکن ڈر کے ماحول سے عارضی امن تک آئیوری کوسٹ کے باسیوں نے جو چین کی سانسیں لیں وہ انھیں لمحات کی دین تھیں۔ بعدازآں ملک میں ’’سچائی اور مفاہمت کا کمیشن‘‘ بنا اور قومی ہیرو ڈروگبا بھی اس کے رکن تھے۔ عالمی فٹ بال کپ تک رسائی میں کام یابی کے دو سال بعد، جب یہ ٹیم 2008ء کے ’’افریقہ کپ آف نیشنز‘‘ کے لیے کوالیفائی کر رہی تھی، تو اس نے امن کے لیے اپنی وابستگی کا ایک اور ثبوت دیا۔ ڈروگبا کی قیادت میں کھلاڑیوں نے اصرار کیا کہ ان کا آخری کوالیفائنگ میچ باغی قرار پانے والوں کے زیرِاثر علاقے ’’بواکے‘‘ میں کھیلا جائے، ملک میں تنازع شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ وہاں کوئی میچ منعقد ہو ہا تھا۔ اس اعلان کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں مخالف دھڑوں کے درمیان ایک باضابطہ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ اور پھر کل کے جانی دشمن اور جنگ جو اس اسٹیڈیم میں اپنی ٹیم کا میچ دیکھنے کے لیے کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے تھے، جوش سے یکساں بھرے اور مسرت کے ایک ہی رنگ میں رنگے۔ آئیوری کوسٹ نے یہ میچ پانچ، صفر سے جیتا، لیکن میدان میں جیت سے کہیں زیادہ، میدان سے باہر کے مناظر اس ٹوٹے ہوئے ملک کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن گئے۔ جُرم سیاست کی سزا پانے والے زنداں میں خود یا نجی مصروفیات میں رکھتے ہیں یا کتاب لکھ ڈالتے ہیں، لیکن اس اپنے وطن میں بدلاؤ کی جدوجہد کرتے قیدیوں نے اسیری کے روزوشب میں بھی تبدیلی ہی کی جوت جگائے رکھی۔ ذکر ہے نیلسن منڈیلا کے دیس جنوبی افریقہ کا۔ جنوبی افریقہ کی سفیدفام نسل پرست حکومت کے نسلی عصبیت پر مبنی سفاکانہ قوانین اور اقدامات کے خلاف سیاسی جنگ لڑتے افریکن نیشنل کانگریس کے کارکن رابن آئی لینڈ کے قیدخانے میں وہ اذیت ناک زندگی بسر کر رہے تھے جو حوصلے توڑ دیتی اور بلند عزائم کو روند ڈالتی ہے۔ ایسے میں انھوں نے فٹ بال کا سہارا لے کر اپنے حوصلوں کو جلا بخشی اور ولولوں کو جگائے رکھا۔ کیپ ٹاؤن کے ساحل سے سات میل دور واقع سنگلاخ جزیرے پر اسیری جھیلنے والے ان سیاسی قیدیوں کے پاس کھیلنے کے لیے ہری بھری گھاس سے بھری زمین کے بجائے بنجر میدان تھے جہاں ہریالی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ انھوں نے گول کے نیٹ ساحل سمندر سے جمع کی گئی مچھلی پکڑنے والی رسیوں سے بُنے تھے۔ ان کی گیند بسا اوقات کاغذ کے گولوں کو ایک بورے میں ٹھونس کر بنائی جاتی تھی، اور اگر وہ اس سے زیادہ کی مانگ کرتے تو انھیں مار پیٹ یا قیدِتنہائی کی سزا ملتی۔ برسوں تک رابن آئی لینڈ کے ان سیاسی قیدیوں نے انتظامیہ کے سامنے گڑگڑا کر اور احتجاج کر کے یہ مطالبہ کیا کہ انہیں ڈھنگ سے فٹ بال کھیلنے کی اجازت دی جائے، لیکن ان کی درخواست ہمیشہ مسترد کردی گئی۔ پھر قسمت سے، کچھ قیدیوں کے ہاتھ جیل کے قوانین کی ایک کتاب لگی اور انھوں نے ان قوانین کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی ایک منظم مہم شروع کی۔ انھیں معلوم ہوا کہ قانون کے مطابق 90 دن یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے قید رہنے والا شخص تفریح اور کھیل کود کا حق دار ہے۔ مزید تین سال کی خط و کتابت اور درخواستوں کے بعد، حکام نے قیدیوں کو ان کا حق دے ہی دیا، یہ سوچ کر کہ یہ لوگ اتنے لاغر اور مشقت کے مارے ہوئے ہیں کہ کھیل کو سنجیدگی سے نہیں لے پائیں گے اور یہ مہم خود ہی دم توڑ دے گی۔ لیکن حکام غلط تھے۔ فیفا کی ایک پرانی گائیڈ بک کی مدد سے، جسے ہاتھ سے نقلیں تیار کرکے قیدیوں میں بانٹا گیا تھا، اسیروں نے 1966 میں ’’رابن آئی لینڈ مکانا فٹ بال ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ’’مکانا ایف اے‘‘ ایک انتہائی کام یاب تھری ڈویژن لیگ بنانے میں کام یاب رہی، جس میں سیکڑوں قیدیوں نے حصہ لیا۔ وہاں تقریباً نو کلب تھے، اور ہر کلب کے پاس 50 مردوں کے اسکواڈ پر مشتمل تین ٹیمیں تھیں۔ کچھ کھلاڑیوں نے خواتین کے جوتوں سے بوٹ تیار کیے، وہ جوتوں کی ایڑیاں ہٹانے اور ٹائر کے ربڑ سے تلوے اور اسٹوڈز بنانے کے ماہر ہوچکے تھے۔ انھوں نے فٹ بال کو نہ صرف خود کو جسمانی طور پر چست رکھنے کے لیے استعمال کیا، بلکہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں اپنی عزتِ نفس کو برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ ایک سابق قیدی لیزو سیتوتو کہتے ہیں،’’فٹ بال نے میری جان بچائی۔ ایک شخص جو بند ہو اور کچھ نہ کر رہا ہو، وہ سوچ نہیں سکتا۔ جب فٹ بال آیا تو اس نے ہمیں بات کرنے کا ایک مقصد دیا۔ اسی لیے یہ محض ایک کھیل سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘‘ رابن آئی لینڈ کے عقوبت خانے کے ان قیدیوں کے لیے فٹ بال محض چند گھنٹوں کی تفریح نہیں تھی، بلکہ یہ کھیل ایک پورا نظام بن گیا تھا۔ جزیرے میں سرگرم فٹ بال کلبز کے ارکان باقاعدہ سرکاری انداز میں ایک دوسرے سے خط وکتابت کرتے تھے، اور یہ عمل پوری سنجیدگی سے انجام دیا جاتا تھا، مثلاً ایک کلب ’’دی گنرز ایف سی، رابن آئی لینڈ‘‘ کی طرف سے ’’جنرل سیکرٹری، مکانا ایف اے، رابن آئی لینڈ‘‘ کے نام لکھے گئے خط میں خراب ایمپائرنگ یا ریفری کے غلط فیصلوں کی شکایت، میچوں کو دوبارہ شیڈول کرنے کی درخواستیں اور لیگ کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہوتی تھیں۔ باقاعدہ رسمی خط لکھنے کا چلن اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس ماحول میں بھی جہاں ہر لمحہ انھیں جانور بناڈالنے پر تُلا ہوا تھا پیشہ ورانہ مہارت اور تہذیب کی روایت برقرار رکھ سکیں۔ فٹ بال نے نہ صرف ان کا تفریح کا سامان کیا اور ان کی جسمانی پرورش کی، بلکہ ان سیاسی قیدیوں کو فخر اور مقصد کا احساس بھی دیا، اور ان کے محافظوں کو دکھا دیا کہ وہ مضبوط اور غیرت مند لوگ ہیں جنہیں کبھی توڑا نہیں جا سکتا۔ لیگ کے بانیوں میں سے ایک اور سابق قیدی انتھونی سوز کہتے ہیں،’’ہم نے رابن آئی لینڈ پر اتنے جذبے اور اتنی باریکی کے ساتھ فٹ بال کھیلا کہ یہ ہمارے زندہ رہنے کا ایک اور ذریعہ بن گیا... ایک ایسی صورت حال میں جو ہمیں نیچا دکھانا چاہتی تھی، اس کھیل نے ہمیں امید دی۔ یہ سوچنا بھی حیرت انگیز ہے کہ جس کھیل کو دنیا بھر میں لوگ ایک عام سی چیز سمجھتے ہیں، وہی کھیل تھا جس نے قیدیوں کے ایک گروپ کو ذہنی طور پر تن درست رکھا اور ایک طرح سے ہمیں معزز بنادیا۔‘‘ وہاں ایک اور قیدی بھی تھا۔۔۔قیدتنہائی کاٹتا نیلسن منڈیلا۔۔۔جو اپنی کوٹھری کی چھوٹی سی کھڑکی سے اپنی جدوجہد کے ساتھیوں کو کھیلتے، قہقہے اور نعرے لگاتے دیکھتا اور خوش ہوتا۔ یہ منظر منڈیلا کو حوصلے اور ہمت کی حفاظت کرتا جس کی ساری دنیا معترف ہے۔ خود منڈیلا کو کھیلنے سے روک دیا گیا تھا۔ لیکن سنگ دل حکام نے منڈیلا سے یہ خوب صورت منظر بھی چھین لیا اور کھڑکی کے سامنے کنکریٹ کی دیوار کھڑی کردی۔ اب افریقہ سے یورپ کا رُخ کرتے ہیں، جہاں ٹھوکر کھاتی گیند نے بکھرے اور بچھڑے ہوؤں کا آپس میں جوڑ دیا۔ یورپی مسلم ریاست ’’بوسنیا اور ہرزیگووینا‘‘ کی سرزمین 1992سے 1995تک شدید خانہ جنگی کا شکار رہی۔ اس عرصے میں بوسنیائی مسلمانوں پر سربوں کے مظالم نے دہشت اور سفاکی کی ایک نئی تاریخ رقم کردی اور اہل بوسینیا کی ایک بہت بڑی تعداد دربدر اور مجبور ہوکر دیگر ممالک میں جابسی۔ غریب الوطنی، اجنبیت اور اپنی زمین، اپنے لوگوں اور ثقافت سے بچھڑ جانے کا احساس لیے زندگی کرتے یہ بوسنیائی پناہ گزین اپنی قومی فٹ بال ٹیم کی وجہ سے یگانگت کی ڈوری سے بندھ گئے ہیں۔ دہائیوں تک اپنے وطن سے دور رہنے اور نئی پیڑھیوں کے پردیس میں پنپنے کے باعث پورا امکان تھا کہ یہ تارک وطن بوسنیائی اپنی زبان وثقافت، احساسِ قومیت اور وطن کو بھول بھال کر مقامی ثقافتوں میں جذب ہوجائیں گے، لیکن بوسنیا کی فٹ بال ٹیم نے ان کی شناخت اور قومی ولولے تازہ کرکے انھیں باہم جوڑ دیا۔ اس ٹیم کے کل 26 کھلاڑیوں میں سے 17 کھلاڑی بوسنیا سے باہر جرمنی، آسٹریا، سویڈن، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، سلووینیا، کروشیا، سربیا اور امریکا میں پیدا ہوئے۔ یوں وہ مختلف نظاموں اور معاشروں میں پلے بڑھے، لیکن بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ساتھ ان کا تعلق اب بھی اتنا ہی مضبوط ہے جتنا کسی اس ملک میں بسنے والے کا۔ سیاڈ کولاسیناک، کریم الاجبگووچ، ارمین مہمیچ، بنجمن طاہرووچ، تارک محارمووچ اور اسمیر باجراکتیریوچ جیسے کھلاڑی یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ عالمی برادری اب صرف ٹیلنٹ کا ذریعہ نہیں رہی۔ یہ دنیا بھر میں پھیلی بوسنیائی برادریوں اور ان کے وطن کے درمیان ایک دھاگا ہے۔ بیرون ملک جنم لینے والے کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا میں پھیلے بوسنیائی باشندوں کو ایک ڈور میں پرو دیا جائے۔ چناں چہ قومی ٹیم کے ڈائریکٹر ’’امیر سپاہیچ‘‘ کہتے ہیں کہ بیرونِ ملک باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کسی دوسری جگہ سے بھرتی کرنا نہیں، بلکہ اپنے ہی لوگوں کو دوبارہ خود سے جوڑنا ہے۔ انھوں نے کہا،’’ہم کسی دوسرے ملک سے کسی کو چھین نہیں رہے ہیں۔ ہم تو بس اپنے بچوں کو واپس گھر لا رہے ہیں۔‘‘ گویا فٹ بال کے ذریعے بوسنیا اپنے بچھڑے ہوئے بچوں سے دوبارہ رشتہ جوڑ رہا ہے۔ یہ عمل کتنا سودمند ثابت ہوا ہے، اس کا جلوہ دنیا کے مختلف فٹ بال گراؤنڈز پر دکھائی دیتا رہتا ہے۔ وسیع پیمانے پر ہجرت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں بوسنیائی کمیونیٹیز موجود ہیں۔ جب قومی ٹیم بیرونِ ملک کھیلتی ہے، تو اسے شاید ہی کبھی یہ احساس ہوتا ہو کہ وہ اپنے ہوم گراؤنڈ سے باہر کھیل رہی ہے۔ اسٹاک ہوم سے لے کر لاس اینجلس تک، بوسنیائی شائقین اسٹیڈیمز کو بھر دیتے ہیں، ٹیم کے حق میں لگنے والے نعرے اور بوسنیائی پرچم پردیسی فضا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔ یوں ایک کھیل کے ذریعے دنیا بھر میں تتربتر ہوجانے والے بوسنیائی باشندوں کو ان کی شناخت سے پوری طرح وابستہ کردیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں جہاں جرائم پیشہ مسلح گروہوں کی دہشت راج کرتی تھی، فٹ بال نے محبت کا جادو جگادیا۔ 1994 کے عالمی کپ کے فائنل میں کولمبیا کے فٹ بالر ’’اینڈریس اسکوبار‘‘ نے غلطی سے اپنی ہی ٹیم کے نیٹ میں گول کردیا (جسے اون گول کہا جاتا ہے)۔ اس واقعے کے ٹھیک چھے دن بعد، کولمیبا کے دوسرے بڑے شہر میڈیلین کے ایک شراب خانے کے باہر انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہی سمجھا جاتا ہے کہ ان کا قتل اسی ’’اون گول‘‘ کی سزا تھی۔ اس دل دوز واقعے نے ’’جرگن گریس بیک‘‘ کی زندگی بدل ڈالی۔ جس وقت یہ قتل ہوا، جرگن میڈیلین شہر میں ہی رہ رہے تھے اور ’’عوامی صحت‘‘ میں پی ایچ ڈی شروع کرنے والے تھے۔ ایک دن ان کی نظر دو مخالف جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان پر پڑی جو ایک فٹ بال کے میدان میں داخل ہورہے تھے۔ جرگن کے لیے یہ منظر بڑا حیرت انگیز تھا کہ ہتھیاروں سے دن رات کھیلتے ان افراد نے اپنے ہتھیار گراؤنڈ کے گیٹ پر چھوڑ دیے اور اندر آکر آپس میں ایک دوستانہ میچ کھیلنے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے جرگن کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ فٹ بال اسے کے شہر کے غنڈاگردی کرتے مسلح جتھوں کو امن اور محبت سے جینا سکھا سکتی ہے۔ انھوں نے پی ایچ ڈی چھوڑنے اور فٹ بال کو معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ جرگن نے ’’فٹ بال پور لا پاز‘‘ (فٹ بال برائے امن) کے نام سے نوجوانوں کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ یہ روایتی فٹ بال سے ہٹ کر ایک انوکھی سرگرمی تھی۔ مقابل ٹیموں میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوتے تھے اور میچ کے دوران ہونے والے جھگڑوں کا فیصلہ ریفری کے بجائے کھلاڑی خود مل جُل کے کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کھلاڑی میدان سے باہر بھی ایک دوسرے کے قریب آنے لگے، جس سے علاقے میں تشدد میں کمی آئی اور نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کھلے۔ اس منصوبے کی شان دار کام یابی کے باوجود، جرگن نے محسوس کیا کہ فٹ بال کے ذریعے سماجی مسائل حل کرنے والی مختلف تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون کا شدید فقدان ہے۔ چناںچہ 2002 میں انھوں نے ’’اسٹریٹ فٹ بال ورلڈ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک عالمی تنظیم ہے جو نچلی سطح پر کام کرنے والی فٹ بال سے متعلق مہمات کو آپس میں جوڑتی اور ان کا اثر وسیع کرتی ہے۔ آج یہ تنظیم 80 سے زائد ممالک میں 120 سے زیادہ اداروں اور 6,000 ماہرین کے نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہی ہے، اور یہ سب مل کر اب تک تقریباً 1 ارب یورو کا فنڈ اکٹھا کر چکے ہیں۔ اگست 2017ء میں ’’اسٹریٹ فٹ بال ورلڈ نے ’’کامن گول‘‘ ( Goal Common) کے عنوان سے ایک نئی مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم سے جُڑے ارکان، جن میں نام ور کھلاڑی، مینیجرز اور کاروباری ادارے شامل ہیں، اپنی آمدنی کا 1 فی صد حصہ ایک مرکزی فنڈ میں دینے کا عہد کرتے ہیں۔ یہ سب مل کر اس فنڈ کو ان فعال تنظیموں پر خرچ کرتے ہیں جو فٹ بال کی طاقت کے ذریعے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی اہداف (SDGs) کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یوں جس شہر میں ایک باکمال فٹ بالر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، وہیں فٹ بال کا کھیل کتنی ہی زندگیاں بچانے اور بدل دینے کا باعث بن گیا۔ جمہور کے اس کھیل نے جمہوریت کے لیے بھی کردار ادا کیا ۔۔۔اس وقت جب برازیل کا ایک فٹ بال کلب 1980 کے عشرے میں آزادی اور جمہوریت کی علامت بن گیا، اس کلب کا نام ہے برازیل کے شہر ساؤ پالو کے اس کلب کا نام ہے ’’کورینتھینز‘‘ (Corinthians) ۔ 1964میں، امریکا کے ’’آپریشن کونڈور‘‘ کی مدد سے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوری طور پر منتخب برازیلین صدر جواؤ گولارٹ کا تختہ الٹ دیا گیا، اور پھر آمریت دو دہائیوں سے زیادہ عرصے ملک پر مسلط رہی۔ ستر کی دہائی کے آخر تک عوام میں آمریت کے خلاف بے چینی بڑھ رہی تھی جو جمہوریت اور حقیقی ترقی کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اس دور میں کورینتھینز کلب اپنے سیاہ ترین دور سے گزر رہا تھا۔ 1981 میں یہ کلب ملکی ٹورنامنٹ میں 26 ویں نمبر پر آیا اور اگلے سیزن کے لیے سیکنڈ ڈویژن میں دھکیل دیا گیا۔ کلب کے نئے صدر والڈیمار پائیرس نے جرأت مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ماہرِعمرانیات ’’ایڈلسن مانیٹیرو الویز‘‘ کو فٹ بال ڈائریکٹر مقرر کیا، جو انقلابی خیالات رکھتے تھے۔ مانیٹیرو الویز نے ٹیم کے کھلاڑیوں کو اپنی اظہارِرائے کی آزادی دی، اور یہیں سے وہ گونجی نکلی جس کا تقاضا پورا ملک اپنے لیے کر رہا تھا۔ سب نے مل کر اتفاق کیا کہ کلب کے تمام معاملات میں صفائی کرنے والے ملازمین سے لے کر کھلاڑیوں اور ڈائریکٹرز تک، ہر ایک کو مساویانہ طور پر اظہارِرائے اور ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا، یعنی ایک فرد، ایک ووٹ۔ بونس، تنخواہیں، تربیت کی جگہیں، میچ کے لیے ترتیب اور کھلاڑیوں کے مختلف پوزیشنز پر تبادلے۔۔۔ ہر چیز کا فیصلہ اسی طرح ہونا طے پایا۔ کلب کے مارکیٹنگ وائس پریذیڈنٹ، واشنگٹن اولیوٹو کی مدد سے ایک ایسا نام وضع کیا گیا جو آنے والے تاریخی حیثیت اختیار کرگیا، ’’ڈیموکریسیا کورینتھیانا‘‘ (کورینتھین کی جمہوریت)۔ یہ عمل ملک پر مسلط آمریت کو آئینہ اور عوام کو جمہوریت کا دل کش منظر دکھانے کی ایک کوشش تھی۔ ’’کورینتھینز کی جمہوریت‘‘ کا آغاز 1982 میں ہوا، اور اس نے سب کو اس وقت حیران کردیا جب تسلسل سے ناکام ہونے والی اس ٹیم نے شان دار کام یابیاں سمیٹنا شروع کردیں۔ پھر اسی ٹیم نے ساؤ پالو شہر کے کلبوں کے درمیان ہونے والا ٹورنامنٹ ’’کیمپوناٹو پاؤلیسٹا‘‘ ( Paulista Campeonato) مسلسل دو بار، 1982 اور 1983میں جیتا۔ یہ ایک ایسی ٹیم تھی جس کا اپنے مداحوں کے ساتھ گہرا رشتہ تھا، جو ہر میچ میں اسٹیڈیم کو بھر دیتے تھے اور ٹیم کے سیاسی نظریات کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔ کلب کے ڈریسنگ روم میں جمہوریت کا یہ تجربہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہر فیصلے کے لیے ووٹنگ کرانی پڑتی تھی اور ٹیم میں طویل بحثیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ بحث کے ماحول کو پرسکون رکھنے کے لیے ٹیم ہر ویک اینڈ پر مختلف دانشوروں کو دعوت دیتی تھی۔ ایک ایسے دور میں جب ملک پر مطلق العنانی راج کر رہی تھی، ایک مکمل جمہوری فٹ بال کلب کا ابھرنا ’’باغیانہ‘‘ ثقافت کا مظہر تھا، جو صرف برازیل کے ان حالات کے ردعمل میں ہی ممکن تھا۔ کلب کی جمہوری جدوجہد صرف اپنے دائرہ اثر میں جمہوریت لانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے کھلاڑی میدان عمل میں بھی نکلے۔ 1984میں جب برازیل کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر عوامی تحریک نے جنم لیا، جس کا نعرہ ’’اب براہ راست ووٹ‘‘ تھا، تو کورینتھینز کے کھلاڑیوں نے بھی ان مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، وہ اسٹیج پر گئے اور اس تحریک کی حمایت کرنے والی عوامی شخصیات میں شمار ہوئے۔ اس کورینتھینز کی جمہوری تحریک کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب کلب کے کھلاڑی 1983 کے ’’کیمپوناٹو پاؤلیسٹا‘‘ کے فائنل کے لیے ساؤ پالو کے خلاف ایک اہم میچ کھیلنے مورمبی اسٹیڈیم کے میدان میں داخل ہوئے۔ لاکھوں مداحوں کے سامنے انھوں نے ایک بڑا سا بینر اٹھا رکھا تھا، جس پر لکھا تھا، ’’جیتیں یا ہاریں، لیکن ہمیشہ جمہوریت کے ساتھ۔‘‘ برازیل کی سرزمین پر فٹ بال اب صرف ایک کھیل نہیں رہا تھا، بلکہ آمریت کے خلاف مہم کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ اس عرصے میں جو جذبات بیدار ہوئے تھے، وہ بالٓاخر 1988میں فوجی آمریت کے خاتمے کا سبب بنے۔ یہ چند کہانیاں بتاتی ہیں کہ فٹ بال نے دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اور سماجی بدلاؤ میں اپنا حصہ ڈالا اور اندھیروں میں چراغ روشن کیا ہے۔ یوں یہ کھیل انسانی حقوق، اظہاررائے، سماجی ناانصافی اور رنگ ونسل کے نام پر ہونے والے کھلواڑ کو ’’َکک‘‘ لگاکر انجام تک پہنچاتا رہا ہے۔  n

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل