Loading
کسی قوم کی تہذیب، اس کے فنون اور کھیل دراصل اس معاشرے کی اجتماعی روح کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر دنیا کے مقبول ترین کھیل کا نام لیا جائے تو بلاشبہ ’’فٹ بال‘‘ زبان پر آتا ہے۔
یہ صرف نوّے منٹ کا کھیل نہیں بلکہ جذبات، امیدوں، قربانیوں، خوشیوں اور آنسوؤں کی ایسی داستان ہے، جس نے نسلوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر براعظم میں بچے کسی نہ کسی میدان، گلی، پارک یا کھلی جگہ پر گیند کو اپنے قدموں سے دوڑاتے ہوئے مستقبل کے خواب بُنتے ہیں۔ یہی خواب کبھی کسی پیلے، ڈیگو میراڈونا، یوہان کروئف، فرانز بیکن باؤر، رونالڈینو اور کرسٹیانو رونالڈو کی صورت حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ انہی روشن ناموں کی کہکشاں میں ایک ایسا ستارہ بھی طلوع ہوا جس نے اپنی عاجزی، غیر معمولی مہارت، حیرت انگیز مستقل مزاجی اور بے مثال کارکردگی سے فٹ بال کی نئی تاریخ رقم کر دی اور اس ستارے کا نام ہے لیونل آندریس میسی۔
فٹ بال کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ صدی پر محیط ہے۔ اگرچہ گیند سے کھیلنے کی مختلف شکلیں قدیم تہذیبوں میں موجود تھیں، تاہم جدید فٹ بال کی بنیاد انیسویں صدی کے وسط میں انگلستان میں رکھی گئی۔ 1863ء میں قواعد و ضوابط مرتب ہونے کے بعد یہ کھیل تیزی سے یورپ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ جلد ہی یہ کھیل زبان، نسل، مذہب اور سرحدوں کی تمام تقسیم سے بلند ہو کر انسانیت کی مشترکہ خوشی بن گیا۔ وقت کے ساتھ ایسے عظیم کھلاڑی سامنے آئے جنہوں نے اس کھیل کو فن کا درجہ دیا۔ برازیل کے پیلے نے تین عالمی کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کی، ارجنٹائن کے ڈیگو میراڈونا نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے کروڑوں دلوں پر راج کیا، نیدرلینڈز کے یوہان کروئف نے فٹ بال کی حکمتِ عملی کو نئی جہت بخشی، جبکہ جدید دور میں کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کی رقابت نے فٹ بال کو ایسی بلندی عطا کی جس کی مثال کھیلوں کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
میسی کی عظمت صرف اس کے جیتے ہوئے مقابلوں یا حاصل کردہ انفرادی اعزازات میں نہیں، بلکہ اس انداز میں پوشیدہ ہے۔ فٹ بال اس کے قدموں سے اس طرح لپٹا رہتا ہے، جیسے برسوں کی شناسائی ہو، وہ دفاعی کھلاڑیوں کے درمیان سے ایسے گزرتا ہے، جیسے پانی اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ اس کی برق رفتار ڈرِبلنگ، لمحوں میں بدلتے فیصلے، حیران کن پاس، گول کرنے کی بے مثال صلاحیت اور ٹیم کے لیے کھیلنے کا جذبہ اسے صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ایک مکمل فنکار بناتا ہے۔ دو دہائیوں سے زیادہ طویل کیریئر میں میسی نے درجنوں قومی اور بین الاقوامی ٹرافیاں جیتیں، متعدد بار دنیا کے بہترین فٹ بالر کا اعزاز اپنے نام کیا، یورپی کلب فٹ بال میں بے شمار ریکارڈ قائم کیے، ارجنٹائن کو طویل انتظار کے بعد عالمی اعزازات دلائے، اور فیفا ورلڈ کپ 2022ء میں اپنی قیادت میں ملک کو عالمی چیمپئن بنایا۔ اس کے بعد بھی اس کا سفر رکا نہیں بلکہ وہ مسلسل نئے سنگ میل عبور کرتا رہا۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران بھی اس نے عالمی کپ کی تاریخ میں ایک اور تاریخی ریکارڈ اپنے نام کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
لیونل آندریس میسی 24 جون 1987ء کو جنوبی امریکی ملک ارجنٹائن کے صوبہ سانتا فے کے خوبصورت شہر روزاریو میں پیدا ہوئے، ان کا خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا، جہاں محنت، سادگی اور خاندانی وابستگی کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی تھی۔ گھر کا ماحول محبت، نظم و ضبط اور قربانی سے بھرپور تھا، جس نے میسی کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے والد جارج میسی مقامی سٹیل فیکٹری میں ایک ڈیپارٹمنٹل ہیڈ تھے اور ایک فٹ بال کلب کے ساتھ وابستہ رہے، جبکہ والدہ سیلیا ماریا کوچیتینی خام مال تیار کرنے والی ایک فیکٹری میںکام کرتی تھیں۔ میسی کے دو بڑے بھائی، روڈریگو اور ماتیاس ہیں جبکہ ان کی ایک بہن ماریا سول بھی ہے۔
بیشتر عظیم کھلاڑیوں کی طرح میسی کی کہانی بھی کسی بڑے اسٹیڈیم سے نہیں بلکہ ایک عام محلے کی گلیوں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ابھی تین یا چار برس کے تھے کہ فٹ بال سے ان کی غیر معمولی دلچسپی نمایاں ہونے لگی۔ دوسرے بچے جہاں کھیل کو محض تفریح سمجھتے تھے، وہیں ننھا میسی فٹ بال کو گھنٹوں اپنے قدموں میں رکھ کر کھیلتا رہتا تھا۔ خاندان کے افراد بتاتے ہیں کہ کھانے، سونے اور پڑھنے کے علاوہ اگر کسی چیز نے اس کی پوری توجہ حاصل کر رکھی تھی تو وہ صرف فٹ بال تھی۔ اس کی دادی سیلیا نے اس کے اندر موجود صلاحیت کو سب سے پہلے پہچانا، انہی کی حوصلہ افزائی پر ننھے میسی کو مقامی کلب لے جایا گیا، جہاں اس نے اپنی عمر سے کہیں بڑے بچوں کے درمیان کھیل کر کوچز کو حیران کر دیا۔ بعدازاں میں میسی نے متعدد مواقعوں پر اعتراف کیا کہ اگر ان کی دادی ان کی حوصلہ افزائی نہ کرتیں تو شاید وہ کبھی دنیا کے عظیم ترین فٹ بالرز میں شمار نہ ہوتے۔ میسی نے اپنی ابتدائی تعلیم روزاریو کے مقامی تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔ بچپن میں وہ ایک خاموش، شرمیلے اور کم گو طالب علم سمجھے جاتے تھے۔
اگرچہ وہ تعلیم میں دلچسپی رکھتے تھے، تاہم ان کی اصل دنیا فٹ بال کا میدان تھا۔ یہاں بیان کرتے چلیں کہ اکثر شائقین کے ذہن میں آتا ہے کہ کیا لیونل میسی نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی؟ تو حقیقت یہ ہے کہ میسی نے روایتی انداز میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی کیوں کہ وہ نوعمری میں ہی پیشہ وارانہ فٹ بال کی طرف مڑ چکے تھے۔ روزانہ کئی کئی گھنٹے کی تربیت، مقابلے، سفر اور مسلسل مشق نے انہیں کھیل ہی کو اپنی زندگی کا مرکز بنا دیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اصل ’’یونیورسٹی‘‘ فٹ بال کا میدان تھا۔ بچپن میں میسی کو ایک ایسے مسئلے کا سامنا بھی کرنا پڑا، جو کسی بھی بچے کے خواب ختم کر سکتا تھا۔ تقریباً گیارہ برس کی عمر میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں گروتھ ہارمون ڈیفیشینسی (Growth Hormone Deficiency) یعنی نشوونما کے ہارمون کی کمی کا عارضہ لاحق ہے۔
اس بیماری کے باعث ان کے جسمانی قد کی بڑھوتری متاثر ہو رہی تھی۔ اس بیماری کے علاج پر ہر ماہ بھاری اخراجات آتے تھے، جو ان کے خاندان کی استطاعت سے کہیں زیادہ تھے۔ کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ شاید مالی مشکلات ان کے فٹ بال کے خوابوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک نئی راہ تیار کر رہی تھی۔ جلد ہی اسپین کے معروف کلب بارسلونا کی نظریں اس کم عمر مگر غیر معمولی باصلاحیت لڑکے پر پڑیں، اور یہی وہ موڑ تھا جہاں سے لیونل میسی کی زندگی نے ایک نئی سمت اختیار کی۔
2000ء میں میسی کے ٹرائلز اسپین کے بہترین کلب بارسلونا میں ہوئے۔ اس وقت کلب کے کھیلوں کے ڈائریکٹر کارلس ریکساک اس ننھے ارجنٹائنی کی صلاحیت دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ روایت کے مطابق انہوں نے فوری طور پر ایک کاغذی نیپکن پر ہی ابتدائی معاہدہ تحریر کر دیا۔ یہ واقعہ آج بھی فٹ بال کی تاریخ کے مشہور ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ بارسلونا نے نہ صرف میسی کو اپنی اکیڈمی لا ماسیا میں جگہ دی بلکہ ان کے علاج کے تمام اخراجات بھی برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہی فیصلہ بعد میں کلب کی تاریخ کا سب سے کامیاب سرمایہ ثابت ہوا۔ 16 نومبر 2003ء کو محض سولہ برس کی عمر میں میسی نے بارسلونا کی پہلی ٹیم کے لیے غیر رسمی میچ کھیلا، جبکہ اکتوبر 2004ء میں انہوں نے ہسپانوی لیگ ’’لا لیگا‘‘ میں باضابطہ آغاز کیا۔ 2008ء میں کوچ پیپ گارڈیولا کی آمد نے بارسلونا اور میسی دونوں کی تقدیر بدل دی۔ یہ وہ دور تھا جب بارسلونا نے لا لیگا، کوپا ڈیل رے، یوئیفا چیمپئنز لیگ، فیفا کلب ورلڈ کپ اور سپر کپ سمیت تقریباً ہر ممکن ٹرافی جیتی۔ میسی نہ صرف گول کرتے بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے بھی بے شمار مواقع پیدا کرتے۔ ان کی ڈرِبلنگ، برق رفتار فیصلے اور حیرت انگیز فِنشنگ نے دنیا بھر کے دفاعی کھلاڑیوں کو پریشان کیے رکھا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ بارسلونا کا ہر حملہ میسی سے شروع ہوتا اور اکثر انہی پر ختم بھی ہوتا۔ مخالف ٹیموں کے کوچز اپنی پوری حکمت عملی صرف انہیں روکنے کے لیے ترتیب دیتے، مگر بیشتر مواقع پر وہ ناکام رہتے۔2009ء سے شروع ہونے والا دور میسی کی انفرادی عظمت کا بھی نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ انہوں نے بار بار دنیا کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا، یورپ کے بہترین فٹ بالر قرار پائے اور گولڈن بوٹ سمیت متعدد عالمی اعزازات حاصل کیے۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ذاتی ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کھیلتے تھے بلکہ ٹیم کی کامیابی کو ہمیشہ اپنی کامیابی پر ترجیح دیتے تھے۔ یہی خصوصیت انہیں دیگر عظیم کھلاڑیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
کلب فٹ بال میں بے مثال کامیابیوں کے باوجود ایک عرصے تک ناقدین یہ سوال اٹھاتے رہے کہ کیا میسی قومی ٹیم کے لیے بھی وہی کارنامے انجام دے سکیں گے جو انہوں نے بارسلونا کے لیے انجام دیے؟ انہوں نے نوجوانوں کی سطح پر ارجنٹائن کو فیفا انڈر 20 ورلڈ کپ جتوایا اور اولمپکس میں طلائی تمغہ بھی حاصل کیا، مگر سینئر ٹیم کے ساتھ کئی بڑے مقابلوں میں قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ 2007ء ، 2015ء اور 2016ء کی کوپا امریکہ فائنلز میں شکست نے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچایا۔ ایک موقع پر تو انہوں نے قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر دیا، لیکن عوام کی محبت اور ساتھیوں کے اصرار پر وہ واپس لوٹے۔2021ء میں برازیل کو اس کی سرزمین پر شکست دے کر ارجنٹائن نے کوپا امریکہ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
یہ میسی کے کیریئر کا پہلا بڑا بین الاقوامی اعزاز تھا۔ اس کامیابی نے برسوں کا انتظار ختم کر دیا اور پوری قوم جشن میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد 2022ء میں اٹلی کو شکست دے کر فائنالیسیما بھی ارجنٹائن کے نام رہی، جس سے واضح ہو گیا کہ ٹیم ایک نئے اعتماد کے ساتھ عالمی مقابلوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اور پھر آیا قطر کا تاریخی ورلڈ کپ (2022ء) آ گیا، جس میں میسی نے ایسی قیادت، مہارت اور استقامت کا مظاہرہ کیا، جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ ابتدائی شکست کے بعد ارجنٹائن نے شاندار کم بیک کیا، اور فائنل میں فرانس کے خلاف تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں سے ایک جیت کر تیسری مرتبہ عالمی چیمپئن بن گیا۔ میسی نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی، متعدد گول کیے، فیصلہ کن لمحات میں ٹیم کی رہنمائی کی اور دوسری مرتبہ گولڈن بال اپنے نام کی۔
2021ء میں مالی مشکلات کے باعث بارسلونا میسی کا معاہدہ برقرار نہ رکھ سکا۔ دنیا بھر کے شائقین کے لیے یہ ایک جذباتی لمحہ تھا، جب میسی آنسوؤں کے ساتھ بارسلونا سے رخصت ہوئے۔ بعد ازاں وہ فرانس کے معروف کلب پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے دو سیزن گزارے اور کئی اعزازات جیتے۔ 2023ء میں انہوں نے امریکہ کے کلب انٹر میامی میں شمولیت اختیار کی، ان کی آمد نے نہ صرف کلب بلکہ پورے امریکی فٹ بال میں نئی جان ڈال دی۔ میسی نے انٹر میامی کو متعدد اہم کامیابیاں دلائیں اور ثابت کیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے، صلاحیت اور جذبہ اگر زندہ ہو تو انسان ہر میدان میں نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے۔
فٹ بال کے ناقدین اکثر کہتے ہیں کہ بعض کھلاڑی گیند کے ساتھ کھیلتے ہیں، لیکن لیونل میسی کے قدموں میں گیند زندہ محسوس ہوتی ہے، ان کی برق رفتار ڈرِبلنگ، حیرت انگیز توازن، مختصر جگہ میں راستہ بنانے کی صلاحیت، غیر معمولی ویژن اور درست پاسنگ انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی ہے۔ وہ بظاہر خاموش رہتے ہیں، مگر میدان میں ان کا ہر قدم مخالف ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے۔ میسی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ انفرادی کھیل کے بجائے اجتماعی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کے عظیم ترین گول اسکوررز کے ساتھ ساتھ بہترین اسسٹ فراہم کرنے والے کھلاڑیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ شہرت اور دولت کی بے پناہ بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود لیونل میسی نے ہمیشہ عاجزی کو اپنا زیور بنائے رکھا۔ وہ تنازعات سے دور رہتے ہیں اور میڈیا کی چکاچوند کے بجائے اپنے خاندان اور کھیل کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق میسی کم گو مگر نہایت خوش اخلاق انسان ہیں، جو میدان کے اندر اور باہر یکساں احترام حاصل کرتے ہیں۔
لیونل میسی نے اپنے بچپن کی دوست انتونیلا روکوزو سے 2017ء میں شادی کی۔ ان کے تین بیٹے تیاگو، ماتیو اور چیرو ہیں۔ میسی اکثر اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے خاندان کے نام کرتے ہیں اور مصروف ترین شیڈول کے باوجود اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ لیونل میسی صرف میدان کے ہیرو نہیں بلکہ انسان دوستی میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ لیونل میسی فاؤنڈیشن کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کی تعلیم، صحت اور علاج کے منصوبوں کی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے متعدد اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی مالی مدد کی، جبکہ یونیسف کے خیرسگالی سفیر کی حیثیت سے بھی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
بلاشبہ ہر دور اپنے چند ہیروز پیدا کرتا ہے، مگر صدیوں میں کوئی ایک ایسا کردار جنم لیتا ہے، جو صرف اپنے زمانے کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی سرمایہ بن جاتا ہے۔ لیونل میسی انہی خوش نصیب انسانوں میں شامل ہیں جنہوں نے محض ٹرافیاں نہیں جیتیں بلکہ کروڑوں دل بھی جیتے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جسمانی کمزوری انسان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ اس کے خواب، اس کی محنت اور اس کا حوصلہ اسے عظمت کی بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔ روزاریو کی ایک تنگ گلی سے شروع ہونے والا سفر دنیا کے عظیم ترین گرائونڈز تک پہنچا، لیکن کامیابی کی اس طویل داستان میں میسی نے عاجزی، محنت، صبر اور خاندانی وابستگی کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج جب فٹ بال کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو پیلے، میراڈونا، کروئف اور دیگر عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ میسی کا نام پوری آب و تاب سے جگمگاتا ہے۔
ناقابل فراموش کامیابیوں کا طویل سفر زیست
لیونل میسی کی پوری فٹ بال زندگی اعزازات، ریکارڈز اور ناقابلِ فراموش کامیابیوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ نہ صرف اپنی نسل بلکہ فٹ بال کی پوری تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
کلب کی سطح پر کامیابیاں
بارسلونا (2004ء تا 2021ء )
میسی نے اپنے شاندار کیریئر کا زیادہ تر حصہ بارسلونا کے ساتھ گزارا اور اس دوران کلب کو بے شمار تاریخی کامیابیاں دلائیں۔ ان کی قیادت اور غیر معمولی کھیل کی بدولت بارسلونا نے 10 مرتبہ لا لیگا، 7 مرتبہ کوپا ڈیل رے، 8 مرتبہ ہسپانوی سپر کپ، 4 مرتبہ یوئیفا چیمپئنز لیگ، 3 مرتبہ یوئیفا سپر کپ اور 3 مرتبہ فیفا کلب ورلڈ کپ اپنے نام کیے۔ یہی وہ دور تھا جب میسی دنیا کے عظیم ترین فٹ بالر کے طور پر ابھرے۔
پیرس سینٹ جرمین (2021ء تا 2023ء)
بارسلونا سے رخصتی کے بعد میسی نے فرانس کے معروف کلب پیرس سینٹ جرمین (PSG) میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے دو مرتبہ فرانسیسی لیگ ون کا ٹائٹل (2021–22 اور 2022–23) جیتا، جبکہ 2022ء میں ٹروفی دے شیمپیئنز بھی اپنے نام کی۔
انٹر میامی (2023ء تا حال)
2023ء میں میسی نے امریکی کلب انٹر میامی کا رخ کیا اور اپنی آمد کے فوراً بعد کلب کو لیگز کپ 2023ء جتوا کر تاریخ کی پہلی بڑی ٹرافی دلائی۔ اس کے بعد 2024ء میں ایم ایل ایس سپورٹرز شیلڈ بھی انٹر میامی کے نام کی، جس سے کلب کی کامیابیوں میں ایک نیا باب شامل ہوا۔
بین الاقوامی اعزازات
میسی نے اپنی قومی ٹیم (ارجنٹائن) کے لیے بھی کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے 2005ء میں فیفا انڈر 20 ورلڈ کپ جیتا، بیجنگ اولمپکس 2008ء میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا، 2021ء اور 2024ء میں کوپا امریکہ کی ٹرافی جیتی، 2022ء میں فائنالیسیما کا اعزاز حاصل کیا اور اسی سال بطور کپتان ارجنٹائن کو فیفا ورلڈ کپ جتوا کر اپنے کیریئر کا سب سے بڑا خواب پورا کیا۔ اس سے قبل ارجنٹائن 2014ء کے ورلڈ کپ میں رنر اپ رہا، جبکہ 2007ء ، 2015ء اور 2016ء کی کوپا امریکہ فائنلز میں بھی ٹیم کو دوسری پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا، لیکن میسی نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اپنی قوم کو عالمی اعزازات دلا کر تاریخ رقم کر دی۔
انفرادی اعزازات
لیونل میسی کی انفرادی کامیابیوں کی فہرست بھی بے مثال ہے۔ وہ 8 مرتبہ بیلن ڈی اور (Ballon d'Or) جیتنے والے دنیا کے پہلے اور اب تک واحد فٹ بالر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تین مرتبہ فیفا دی بیسٹ مینز پلیئر (2019ء، 2022ء، 2023ء)، 2009ء کے فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایئر، اور چھ مرتبہ یورپی گولڈن شو کے فاتح بھی رہے۔ یہ اعزاز ہر سیزن میں یورپ کی لیگز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔ ورلڈ کپ میں ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں 2014ء اور 2022ء میں گولڈن بال (ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی) سے نوازا گیا۔ اسی طرح 2021ء کی کوپا امریکہ میں وہ گولڈن بوٹ اور بہترین کھلاڑی دونوں اعزازات کے حقدار ٹھہرے، جبکہ 2022ء کے ورلڈ کپ میں سلور بوٹ بھی حاصل کی۔ لا لیگا میں بھی وہ متعدد بار بہترین کھلاڑی اور بہترین فارورڈ قرار دیے گئے۔
لیونل میسی نے اپنے کیریئر میں ایسے کئی ریکارڈ قائم کیے جو آج بھی فٹ بال کی دنیا میں مثال سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بارسلونا کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے بھی سب سے زیادہ گول اسکورر اور سب سے زیادہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ وہ دنیا کے پہلے اور واحد فٹ بالر ہیں جنہوں نے 8 مرتبہ بیلن ڈی اور جیتا جبکہ 6 یورپی گولڈن شو حاصل کرنے والے بھی پہلے کھلاڑی ہیں۔ لا لیگا کی تاریخ میں وہ سب سے زیادہ اسسٹ فراہم کرنے والوں میں سرفہرست شمار ہوتے ہیں۔ میسی نے 2012ء میں ایک ہی کیلنڈر سال کے دوران 91 گول کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا، جو آج بھی فٹ بال کی تاریخ کے حیرت انگیز ترین ریکارڈز میں شمار ہوتا ہے۔ وہ ان چند خوش نصیب اور عظیم کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں فیفا ورلڈ کپ، کوپا امریکہ، یوئیفا چیمپئنز لیگ اور اولمپک گولڈ میڈل، چاروں بڑے اعزازات اپنے نام کیے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے دوران بھی انہوں نے عالمی کپ کی تاریخ میں ایک اور تاریخی ریکارڈ اپنے نام کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ؛
٭ میسی دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں لیکن بائیں پاؤں سے کھیلتے ہیں۔
٭ انہیں بچپن میں "لا پْلگا" (چھوٹا پسو) کا لقب دیا گیا تھا۔
٭ ان کی پسندیدہ جرسی نمبر 10 ہے۔
٭ ان کی کامیابی میں ان کی دادی سیلیا کا کردار انتہائی اہم رہا، اسی لیے گول کرنے کے بعد وہ اکثر آسمان کی طرف اشارہ کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
٭ وہ اپنی شہرت کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل