Wednesday, July 22, 2026
 

کوئٹہ میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، شہری بوند بوند کو ترس گئے، ٹینکر مافیا بے لگام

 



بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ شدید آبی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے، واسا کی فراہمی کئی علاقوں میں مکمل طور پر بند یا انتہائی محدود ہو چکی ہے، جبکہ ٹینکر مافیا شہریوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے نرخ وصول کر رہا ہے۔ شدید گرمی میں شہر کے مختلف علاقوں سمنگلی روڈ، جناح ٹاؤن، سریاب، قمبرانی روڈ، سرکی روڈ، رحمت کالونی،بینک کالونی سیٹلائٹ ٹاؤن،سبزل روڈسمیت دیگر رہائشی آبادیوں میں بزرگ، خواتین اور کمسن بچے میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ کئی گھروں میں گزشتہ چھ ماہ سے نلکوں میں پانی نہیں آیا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں شہریوں ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ باقاعدگی سے واسا کے بل ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ متعدد بار شکایات درج کرانے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا اور متعلقہ حکام صرف یقین دہانیوں تک محدود ہیں واسا کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد شہریوں کی واحد امید نجی ٹینکر بن چکے ہیں، تاہم یہاں بھی عوام کو شدید استحصال کا سامنا ہے۔ شہر بھر میں فی ٹینکر تین سے چار ہزار روپے جبکہ بعض علاقوں میں پانچ ہزار سے 7 ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ کوئی سرکاری ریٹ لسٹ موجود ہے اور نہ ہی قیمتوں کی نگرانی کرنے والا کوئی مؤثر نظام۔شہریوں نے ایک اور سنگین سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واسا کے بڑے بڑے ذخیرہ آب ٹینکیوں میں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں۔ واسا کے پاس شہریوں کو فراہم کرنے کے لیے پانی نہیں، لیکن ٹینکر مافیا کے پاس وافر مقدار میں پانی موجود ہے، جو واسا کی کارکردگی اور نگرانی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ واسا حکام کے مطابق کوئٹہ شہر کو روزانہ تقریباً پانچ کروڑ گیلن پانی درکار ہے، جبکہ ادارہ صرف تین کروڑ گیلن یومیہ فراہم کر پا رہا ہے، جس کے باعث روزانہ دو کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ شہر میں واسا کے 417 ٹیوب ویلز موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 50 خراب ہو چکے ہیں، جس سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی ٹیوب ویلز، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال، بارشوں میں کمی، نئے آبی ذخائر کی عدم تعمیر اور ری چارجنگ کے مؤثر نظام کا فقدان اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند برسوں میں کوئٹہ کو شدید آبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےشہریوں نے حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، واسا کی خراب ٹیوب ویلز کو فوری فعال بنایا جائے نئے ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں اور تمام متاثرہ علاقوں خصوصاً بینک کالونی رحمت کالونی میں پانی کی فراہمی بلا تاخیر بحال کی جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل