Wednesday, July 22, 2026
 

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بھارت میں نوجوانوں پر تشدد پر شدید اظہارِ تشویش، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

 



نئی دہلی: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکام سے فوری طور پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں پرامن اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں تشویشناک ہیں اور نوجوان مظاہرین کے خلاف غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔ تنظیم کے مطابق مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جبکہ سیکیورٹی اقدامات کے تحت بعض علاقوں میں میٹرو سروسز معطل اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طاقت کے استعمال میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔ تنظیم نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور طاقت کے استعمال کے واقعات کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ اگر کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا سکے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے جمہوری طریقے سے سننا اور حل کرنا ہی ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور پولیس کارروائیوں پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل