Loading
( آخری قسط )
میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قدرے نشیبی جگہ پر کھڑا چشم تصور سے مشرکین کو مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ مسلمان قریش کے حملوں کو روک بھی رہے ہیں۔ انہیں نقصان بھی پہنچا رہے ہیں۔ ان کی زبانوں پر’’ اَحد، اَحد‘‘ کا کلمہ جاری و ساری ہے۔ مسلمانوں کے لشکر میں بڑے بڑے بہادر ہیں۔ سید نا علی بن ابی طالبؓ، سیدنا امیر حمز ہؓ جیسے جری کمانڈر ہیں۔ پھر میدان جنگ آہستہ آہستہ کافروں کے مرکز کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، فرشتوں کی مدد بھی آچکی ہے۔
ہمارے گائیڈ عبداللہ العبدلی نے زمین سے مٹھی بھر کنکریاں اٹھاتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جب جنگ عین شباب پر تھی تو اللہ کے رسولﷺ نے اس طرح کی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف اسے پھینکتے ہوئے فرمایا: (شَاہَتِ الْوُجُوہُ) ’’چہرے بگڑ جائیں‘‘۔ یہ آپ کا معجزہ تھا کہ مشرکین میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کی دونوں آنکھوں،نتھنوں اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ حصہ نہ گیا ہو۔
ہم سارے ساتھی اس آیت کریمہ کی تلاوت کر رہے تھے:
{وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی}
’’ جب آپ نے پھینکا تو درحقیقت آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکا تھا‘‘۔
مطلب یہ ہے کہ پھینکا تو آپ نے تھا مگر اسے کفار کی آنکھوں اور نتھنوں تک اللہ نے پہنچایا تھا۔ اب آپ ﷺ صحابہ کرام کو مزید ترغیب دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ’’شدُّوا‘‘ چڑھ دوڑو۔ مسلمانوں کو جنت کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے، جو آدمی بھی ڈٹ کر ثواب سمجھ کر آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا‘‘ آپ کی ترغیب سن کر کہ ا س جنت کی طرف اٹھو جس کی چوڑائی زمین اور آسمان کے برابر ہے، ایک انصاری صحابی عمیر بن حمام کہتے ہیں’’ بخ بخ‘‘ واہ واہ بہت خوب، بہت خوب۔ اللہ کے رسول نے پوچھا:ساتھی!
یہ تم نے بخ بخ کیوں کہا؟ عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺکچھ نہیں، بس میری تو یہی تمنا ہے کہ میں بھی جنت کا باسی بن جاؤں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: عمیر! خوش ہو جاؤ، تم جنت والوں میں سے ہو ۔
عمیر بن حمام کی جیب میں کچھ کھجوریں تھیں۔ ایک کھجور منہ میں ڈالی تاکہ اس سے جسم کو تقویت مل جائے، اس کو چبایا، دوسری کھجور منہ میں ڈالی ۔سامنے دشمن ہے، صحابہ کرام کافروں پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے ہیں۔ دل میں خیال آیا: کھجوریں کھانے میں تو خاصہ وقت صرف ہو جائے گا، جنت سے اتنی دور رہنا تو بہت مشکل کام ہے۔۔۔۔ لمحہ بھر سوچا۔۔۔۔ اور پھر جتنی کھجوریں جیب میں تھیں وہ سب پھینک دیں اور میدان کارزار کی طرف لپکے۔۔۔۔ داد شجاعت دی اور خلعت شہادت پا کر جنت کے مستحق بن گئے۔ عبداللہ العبدلی نے دور تک اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میدان جنگ بڑھتا چلا گیا۔ یہ جنگ فرداً فرداً تھی ۔جس صحابی کو شکار نظر آیا اس نے گھیر لیا اور پھر فرشتوں کی مدد بھی تو حاصل تھی۔ ایک انصاری صحابی نے جنگ کے اختتام پر اللہ کے رسولﷺ کو بتایا: یا رسول اللہ! میں ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کوڑے کی مار پڑنے کی آواز آئی، وہ چت گرا ۔لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان اور چہرہ پھٹا ہوا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوڑے سے مارا گیا ہو ۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم سچ کہتے ہو، یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی‘‘۔ ایک صحابی نے بیان کیا: میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔
جنگ کا دورانیہ کوئی زیادہ لمبا نہ تھا۔ بلکہ یہ محض ڈھائی تین گھنٹے کی جنگ ہو گی۔ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلبؓ جیسے بہادروں نے دشمن کی صفوں کے اندر تباہی مچا دی تھی۔ ابو جہل نے اپنی فوج کی ہمت بڑھانے کی لاکھ کوشش کی مگر اس کا غرور جلد ہی خاک میں مل گیا۔ ان کی صفیں پھٹنا شروع ہو گئیں۔ ہاں البتہ اس کے ارد گرد مشرکین کا ایک غول جمع رہا۔ مگر مجاہدین کے پے در پے حملوں نے ابو جہل کے ارد گرد قائم اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا ۔ مسلمانوں نے قریش کے لشکر کو چن چن کر مارا اور ان کے بھگوڑوں کو گرفتار کر لیا ۔ہم سبھی عفراء بنت عبید کے صاحبزادوں کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے ۔یہ بڑی عظیم عورت تھی جس کے سات بیٹے تھے۔ وہ سب کے سب اس جنگ میں شریک تھے۔ اب ہم فرعون ہذہ الا متہ ( ابوجہل ) کے قتل کا ذکر کر رہے تھے ۔ابو جہل اور اس کا بیٹا عکرمہ دونوں ہی بڑے جنگجو تھے ۔ قریشی فوج کے کمانڈر انچیف ہونے کے ناطے اس کی حفاظت کا خصوصی بندوبست تھا۔ اس کے ارد گرد بہادروں کا ایک گروپ تھا۔ وہ خود گھوڑے پر سوار تھا۔ اللہ تعالی نے اس متکبر انسان کو دنیا میں ہی ایسا ذلیل و خوار کیا کہ دو انصاری نوجوان معاذ و معوذ کے ہاتھوں پل بھر میں واصل جہنم ہو گیا۔
شیخ عبداللہ العبدلی ہمیں ہاتھ کے اشارے سے بتا رہے تھے کہ کافروں کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ امیہ بن خلف کے بارے میں دور اشارہ کر کے کہنے لگے :وہ تو بھاگتا ہوا دور تک چلا گیا ۔سیدنا بلال بن رباحؓ نے اسے دیکھ لیا ، با آواز بلند تقریباً چیختے ہوئے فرمایا :’’ساتھیو! کفر کا سرغنہ امیہ بن خلف، آج یہ بچے گا یا میں بچوں گا‘‘ پھر انہوں نے انصار کو مدد کے لیے پکارا ۔سیدنا عبدالرحمن بن عوف اسے بچانے کی کوشش کرتے رہے ،مگر سیدنا بلال کے غم و غصہ نے اسے جلد ہی جہنم کا راہی بنا دیا ۔
قریش کے لیے یہ جنگ بلاشبہ بہت تباہ کُن تھی ۔میری بڑی مدت سے یہ خواہش تھی کہ میں بدر کا وہ گندا کنواں جسے’’ قلیب بدر‘‘ کہا جاتا تھا اور جس میں مشرکین کے مقتول سرداروں کو پھینکا گیا تھا اس کا مقام دیکھوں۔ عبداللہ کہنے لگے: اس کی جگہ عریش کی پچھلی طرف بنتی ہے۔ ہم اس جگہ پر گئے۔ اب بھی یہ نشیبی مقام ہے۔ کافروں کے 24 بڑے بڑے سرداروں کو اس کنویں میں پھینکا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ کنواں پرانا تھا۔ اس میں اس وقت پانی نہیں تھا بلکہ متروک ہو چکا تھا۔ اس علاقے میں پانی کے کئی کنویں تھے۔ عرب اسی جگہ بستیاں آباد کرتے تھے جہاں پینے کا میٹھا پانی ہوتا۔ اس جگہ کی طرف انھوں نے اشارہ کر کے بتایا کہ ماضی قریب میں تیس ، پینتیس سال قبل تک یہاں پانی کے چشمے تھے جس سے دن کو مرد اور رات کو عورتیں پانی بھرتی تھیں۔ کوئی سو سال قبل بدر شہر کے ارد گرد فصیل بھی تھی۔ شہر کا دروازہ تھا جو رات کے وقت بند ہو جاتا تھا۔ شیخ عبداللہ العبدلی ہمارے ہر سوال کا نہایت صبر و تحمل سے جواب دے رہے تھے ۔
مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا ۔ہمارے میزبان نے سوال کیا :نماز مغرب کہاں ادا کریں گے؟ ہمارا جواب تھا: مسجد العریش میں پڑھیں گے۔ ہم مغرب کی نماز کے لیے اس عالی شان مسجد میں داخل ہوئے۔ یہ بہت خوبصورت مسجد ہے جسے نفیس ٹائلوں، خوبصورت قالینوں اور دلکش فانوس سے مزین کیا گیا ہے۔ قارئین کرام !اس مسجد میں نماز مغرب بڑی مدت تک یاد رہے گی ۔مجھے سجدے کی حالت میں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میری پیشانی اس جگہ ہے جہاں آقا ئے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم تھے۔
میری تمنا تھی کہ میں’’ سوق قدیم‘‘ ( بدر شہر کا پرانا بازار ) دیکھوں جس کے بارے میں سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ چار ہجری میں 1500 مجاہدین کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے۔ غزوہ احد کے اختتام پر ابو سفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں مقابلہ ہوگا۔ وہ تو نہیں آئے البتہ مسلمان پہنچ گئے۔ وہاں تجارت کی۔ ایک درہم کو دو درہم بناتے رہے اور اس شان سے مدینہ واپس آئے کہ پورے علاقے میں مسلمانوں کی شان و شوکت کا ڈنکا بج رہا تھا۔
شیخ عبداللہ العبدلی تو اجازت لے کر چلے گئے مگر ان کی جگہ مدیر مکتب جالیات بدر جناب خالد علی الصبحی نے لے لی، اب وہ ہمارے گائیڈ تھے۔ اس علاقے میں اب بھی بنو غفار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت ہے ۔ جب ہم’’ السوق القدیم‘‘ میں گئے تو کچھ نقشہ اس دور کا بھی نظر آیا۔ میں نے پوچھا: بدر کا خاص تحفہ کیا ہے، جس سے ہم ساتھ لے جا سکیں؟ کہنے لگے: یہاں کے ستو بڑے مشہور ہیں۔ ہم انہیں ’’دخن ‘‘کہتے ہیں۔ ہم نے السوق القدیم سے دخن خریدا ۔یہ یہاں کا مقامی ستو ہے۔
ہم ایک چکی پر گئے جہاں ستو فروخت ہوتے ہیں۔ وہاں پر سیلز مین پاکستانی تھے۔ کہنے لگے :ہمارے پاس ستو چینی والے اور بغیر چینی کے بھی ہیں۔ ہم نے کہا؛ چینی تو ہمارے گھروں میں بہت ہے، بغیر چینی والے دیجئے۔ ہر ایک کے لیے ایک ایک کلو ستو خرید لیے ۔ مجھے ستو والا غزوہ یعنی’’ غزوہ سویق ‘‘یاد آگیا۔ اس کا ذکر انشاء اللہ پھر کبھی کریں گے۔ اگر آپ السوق قدیم میں کھڑے ہو کر ماضی کی طرف جھانکیں تو آپ کو کچھ نہ کچھ آثار قدیمہ نظر آجائیں گے۔ ہمارے نئے گائیڈ خالد علی الصبحی بتا رہے تھے: بدر ایک زمانے میں بہت چھوٹا شہر ہوتا تھا۔ محض سو سال قبل مغرب کے وقت دروازہ بند ہو جاتا اور شہر پر ہو کا عالم طاری ہو جاتا ۔اگر کوئی قافلہ ذراسا لیٹ ہو جاتا تو اسے شہر کے باہر ہی رات گزارنی پڑتی۔ قبیلہ غفار کے لوگ اب بھی صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ بڑے صلح جو اور مہمان نواز ہیں۔ ہمارے میزبان نے کہا: بدر شہر میں مختلف ممالک کے لوگ ملازمت کے لیے آئے ہوئے ہیں: بڑے مطمئن ہیں۔ چھوٹا سا شہر نہ شور نہ ہنگامہ اور نہ زیادہ ٹریفک۔
عشاء کی نماز کے فوراً بعد ہمارا واپسی کا ارادہ تھا مگر مکتب جالیات کے ذمہ دار ان نے کھانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ انھوں نے پاکستانی با ورچی کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں جس نے بلاشبہ مزیدار بریانی بنا رکھی تھی۔ کھانے سے کہیں زیادہ ہمارے میزبانوں کی محبت اور چاہت پر لطف تھی ۔برادرم عتیق الرحمان صدیقی کا اصرار تھا: کہ اب آپ کو چائے میرے گھر پینا ہوگی ۔ان کے گھر پر مختصر قیام اور چائے کے بعد ہماری گاڑی کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا۔ یہ سفر بلا شبہ بہت مفید اور معلوماتی رہا۔ اس کی یاد یقینا مدتوں تک رہے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل