Loading
ایران نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک اور بین الاقوامی کمپنیاں زرتلافی کے طور پر ہمارے منجمد اثاثے حاصل کریں گے انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں مکمل طور پر اس بحری گزرگاہ سے منقطع کردیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے اعلان کیا ہے کہ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثوں کو خلیج فارس میں داخلے کے دوران نشانہ بننے والے جہازوں کا معاوضہ مختلف ممالک اور کمپنیوں کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے، اس سے غیرقانونی تصور کرتے ہیں۔
ایران جنگ اور بحران کے دوران مسلح افواج کی رابطہ کاری کی ذمہ دار کمان نے کہا کہ اگر جہازوں کے مالکان نے اس طرح کا معاوضہ حاصل کیا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے بیان میں کہا کہ ہم ان کمپنیوں اور ممالک کو خبردار کرتے ہیں جو ٹرمپ کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ایران کے منجمد اثاثوں کو اسی پس منظر میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ان کے کسی جہاز کو آج سے ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیں گی۔
مزید بتایا گیا کہ حالیہ مہینوں میں جن جہازوں اور ٹینکرز کو نقصان پہنچا ہے وہ خطے میں امریکی فوج کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیریقینی صورت حال ہے۔
ایرانی مسلح افواج نے بیان میں کہا کہ جو جہاز تباہ ہوئے ہیں وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد ورفت کے لیے اعلان کردہ پروٹوکول کی خلاف ورزی کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں اور یہ جہاز غیرقانونی اور غیرمحفوظ راستے سے آبنائے ہرمز کے جنوب سے سفر کر رہے تھے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے امریکا میں منجمد ایرانی اثاثوں سے رقم استعمال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے زیر کنٹرول یا اس سے منسلک عناصر کی جانب سے تجاری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر نہیں ڈالا جائے گا بلکہ ہم ایران کے پیسوں سے وہ نقصان پورا کریں گے جو اس نے کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز کو متاثرہ جہازوں اور تجارتی سامان کے نقصانات کی ادائیگی کے لیے استعمال کریں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل