Loading
شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بل آج ہر گھر کی بڑی پریشانی بن چکے ہیں۔ ائیر کنڈیشنر، کولر اور پنکھوں کا مسلسل استعمال جہاں گرمی سے وقتی ریلیف دیتا ہے، وہیں ماہانہ بجلی کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چند متبادل ٹیکنالوجیز اور گھریلو تدابیر اختیار کی جائیں تو کم بجلی خرچ کرکے بھی گھر کو کافی حد تک ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے۔
توانائی بچانے والی جدید ٹیکنالوجیز میں الیکٹرک ہیٹ پمپس کو مؤثر متبادل سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام گرمیوں میں گھر کے اندر کی گرم ہوا کو باہر منتقل کرکے ٹھنڈک فراہم کرتا ہے، جبکہ سردیوں میں یہی ٹیکنالوجی گھروں کو گرم رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روایتی ائیر کنڈیشنرز کے مقابلے میں ہیٹ پمپس کم توانائی استعمال کرتے ہیں، تاہم پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی ابھی عام نہیں ہو سکی۔
اگر ہیٹ پمپ دستیاب نہ ہوں تو سادہ چھت کے پنکھے بھی بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ پنکھے نہ صرف خریدنے میں سستے ہیں بلکہ بجلی بھی بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح خشک اور گرم علاقوں میں ایئر کولر (سویمپ کولر) بھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں، جو پانی کے بخارات کے ذریعے ہوا کو ٹھنڈا کرکے کمرے کا درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور ائیر کنڈیشنر کے مقابلے میں کہیں کم بجلی خرچ کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف برقی آلات پر انحصار کرنے کے بجائے گھر کی تعمیر اور ڈیزائن پر بھی توجہ دی جائے تو گرمی کے اثرات نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کناروں پر موجود شگاف بند کرنے سے باہر کی گرم ہوا اندر داخل نہیں ہوتی، جبکہ مناسب وینٹی لیشن بھی کمرے کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ گھر کی سمت اور کھڑکیوں کی درست منصوبہ بندی بھی اندرونی ماحول کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد بھی گرمی کے احساس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دھاتی شیٹس یا زیادہ حرارت جذب کرنے والے مواد کے بجائے آر سی سی کی چھت، سیمنٹ کے مضبوط سلیب، اینٹ اور پتھر جیسے مواد بہتر انتخاب ہیں کیونکہ یہ گرمی کو نسبتاً دیر سے جذب کرتے ہیں اور اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
گھر کی چھت کو سفید رنگ سے پینٹ کرنا بھی ایک مؤثر اور کم خرچ حل ہے۔ سفید رنگ سورج کی 60 سے 90 فیصد شعاعیں واپس منعکس کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں چھت کم گرم ہوتی ہے اور پورا گھر نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی گرم خطوں میں سفید چھتوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
قدرتی سایہ بھی گرمی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کھڑکیوں پر موٹے پردے لگانا، گھر کے اردگرد یا گلی میں درخت لگانا اور چھت پر سبز پودے اُگانا نہ صرف ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب شجرکاری بعض اوقات گرد و نواح کے درجہ حرارت کو 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے بجلی کی کھپت بھی کم ہوتی ہے اور گھر کا ماحول زیادہ آرام دہ رہتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل