Loading
روس کے شہر کراسنویارسک میں ٹانگ کے درد کے علاج کے لیے ایکیوپنکچر کروانے والی خاتون کی علاج کے بعد حالت مزید خراب ہوگئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے ٹانگ کے درد کے باعث مقامی طور پر معروف ایکیوپنکچر ماہر سے علاج کرایا۔ تاہم، صرف ایک سیشن کے بعد اس کی تکلیف میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا اور وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو گئی۔
شدید درد کے باعث خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایکسرے میں انکشاف ہوا کہ اس کی ٹانگ میں ایکیوپنکچر کی کم از کم 10 سوئیوں کے ٹکڑے موجود ہیں، جو مسلسل شدید درد کا سبب بن رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایک ہی سیشن کے دوران اتنی زیادہ سوئیاں کیسے ٹوٹ گئیں، خصوصاً جب علاج ایک تجربہ کار معالج کی جانب سے کیا گیا تھا۔
ڈاکٹروں نے فی الحال خاتون کو اینٹی بایوٹکس اور سوزش کم کرنے والی ادویات تجویز کی ہیں۔ تاہم، خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی حالت میں بہتری نہ آئی تو ٹانگ کا بڑا آپریشن کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ سوئیوں کے باریک ٹکڑوں کو نکالنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس واقعے کو عوام کے لیے ایک تنبیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکیوپنکچر کروانے سے قبل صرف مستند اور تصدیق شدہ ماہرین سے ہی علاج کرایا جائے تاکہ اس قسم کی سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل