Loading
دنیا کے بڑے شہروں میں کچھ مقامات صرف سڑکیں، چوراہے یا عمارتیں نہیں رہتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ عوامی آواز، شہری شعور اور احتجاج کی علامت بن جاتے ہیں۔
کراچی میں ماضی میں ریگل چوک اور آج کراچی پریس کلب کے سامنے کا علاقہ احتجاج، مظاہروں اور مطالبات کے اظہار کی سب سے نمایاں جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کو عوامی احتجاج کی ایک معروف جگہ سمجھا جاتا ہے۔ کراچی کا ریگل چوک، پریڈی اسٹریٹ پر واقع ریگل سنیما کی نسبت سے مشہور ہوا، جبکہ دہلی کا جنتر منتر اپنی تاریخی فلکیاتی رصدگاہ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج کے باعث جنتر منتر ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بنا۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے یہاں تعلیمی کرپشن پر بھرپور عوامی احتجاج کیا۔ جنتر منتر کی تاریخ بیان کرنے سے قبل ہم آپ کو کراچی کے ریگل چوک کے بارے میں بتاتے ہیں۔
کراچی کی سیاسی، سماجی اور صحافتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں تک ریگل چوک احتجاجی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا۔ طلبا، مزدور، سیاسی کارکن، وکلاء، صحافی اور مختلف سماجی تنظیمیں اپنے مطالبات کے حق میں یہیں جمع ہوتی تھیں۔ متعدد احتجاجی ریلیاں ریگل چوک سے شروع ہوکر صدر کے مختلف علاقوں اور بندرروڈ تک جاتی رہیں، جبکہ کئی تاریخی تحریکوں کے دوران گرفتاریاں بھی اسی مقام پر پیش کی گئیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں تحریک بحالی جمہوریت (MRD) میں سب سے زیادہ یہاں احتجاج ریکارڈ کرانے کے علاوہ گرفتاریاں بھی پیش کیں۔ صدر کے ماضی کے سنیما ریگل سے منسوب اس چوک پر سنیما ختم ہونے کے بعد اوڈین سنیما اور روزنامہ آغاز کے دفترکے قریب احتجاج ہوتا تھا۔ اس احتجا ج میں اٹھی چارج، آنسو گیس اور ضیاء الحق کے مارشل لا کے دنوں میں ہوائی فائرنگ بھی ہوتی تھی۔ 1977 سے 1988 تک یہاں سیاسی جماعتوں کے سب سے زیادہ احتجاج ریکارڈ ہوئے۔ وقت کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں کا یہ اہم مرکز بتدریج کراچی پریس کلب منتقل ہوگیا۔
آج اگر کراچی میں کسی تنظیم، سیاسی جماعت، مزدور یونین، طلبا تنظیم، وکلاء، اساتذہ، سرکاری ملازمین یا انسانی حقوق کے کارکنوں کو اپنا مؤقف عوام اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا تک پہنچانا ہو، تو ان کی پہلی ترجیح عموماً کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج یا پریس کانفرنس ہوتی ہے۔ اس کو تشبیہ لندن کے مشہور ’ہائیڈ پارک‘ کے اسپیکرز کارنر سے دی جاتی ہے، جہاں عوام کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔
بھارت میں دہلی کا علاقہ جنتر منتر احتجاج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کراچی کے ریگل کی طرح جنتر منتر بھی ایک عمارت ہے اور بھارت کی فلکیاتی رصد گاہ ہے اور حالیہ دنوں میں جنتر منتر ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا، جب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے یہاں احتجاج کیا۔ تاہم اس سے بہت پہلے، 1724 میں، جنتر منتر کو مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ یہاں نصب بڑے پتھریلے آلات کے ذریعے سورج، چاند، ستاروں اور سیاروں کی گردش، وقت کا تعین اور دیگر فلکیاتی مشاہدات کیے جاتے تھے۔ تقریباً تین سو سال پہلے یہ اپنے دور کا ایک جدید فلکیاتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔
آج بھارتی میڈیا میں '’جنتر منتر'‘ کا نام آتے ہی ذہن میں سب سے پہلے احتجاج، دھرنے اور مظاہرے آتے ہیں۔ آج سے چند دہائیاں پہلے تک نئی دہلی میں بڑے احتجاج کا مرکزی مقام بوٹ کلب (Boat Club) تھا، جو بھارتی پارلیمنٹ کے قریب واقع ہے۔ لیکن 1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں ایک بہت بڑے کسان احتجاج کے بعد حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہاں بڑے اجتماعات پر پابندیاں عائد کردیں۔
اس کے بعد 1993 سے حکومت اور انتظامیہ نے جنتر منتر روڈ کو محدود پیمانے پر احتجاج کے لیے موزوں مقام کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ چونکہ یہ پارلیمنٹ اور اہم سرکاری دفاتر کے قریب تھا، اس لیے مختلف تنظیموں، طلبا، مزدوروں، سرکاری ملازمین، سابق فوجیوں، خواتین اور سماجی کارکنوں نے اپنے مطالبات کے اظہار کے لیے اسی مقام کا رخ کرنا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جنتر منتر بھارت میں پرامن احتجاج کی ایک علامت بن گیا۔
اگرچہ 1993 سے یہاں احتجاج ہوتے رہے، لیکن جنتر منتر کو عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت 2011 میں اس وقت ملی جب سماجی کارکن انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف جن لوک پال بل کے مطالبے پر یہاں بھوک ہڑتال شروع کی۔ اس تحریک نے نہ صرف پورے بھارت بلکہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی، اور جنتر منتر دنیا بھر میں احتجاج اور جمہوری اظہارِ رائے کی ایک معروف علامت کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ بعد کے برسوں میں بھی کسان، طلبا، خواتین، سابق فوجی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف سیاسی و سماجی گروہ اپنے مطالبات کے لیے اسی مقام پر احتجاج کرتے رہے۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً عدالتوں اور انتظامیہ کی جانب سے قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں کی جاتی رہیں، لیکن جنتر منتر کی احتجاجی شناخت برقرار رہی۔
حالیہ دنوں میں جنتر منتر ایک بار پھر اس وقت خبروں کی زینت بنا جب نوجوانوں کی بے روزگاری، امتحانی نظام اور دیگر سماجی مسائل کے حوالے سے سرگرم '’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے حامی بھی اپنے مطالبات کے اظہار کے لیے اسی مقام پر جمع ہوئے۔ اگرچہ اس تحریک کے بارے میں مختلف آراء اور دعوے سامنے آئے، لیکن اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا کہ بھارت میں جب بھی کسی گروہ کو اپنی آواز حکومت اور عوام تک پہنچانی ہوتی ہے تو جنتر منتر آج بھی اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ معروف اور علامتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ یوں تقریباً تین سو سال قبل فلکیاتی مشاہدات کے لیے تعمیر ہونے والا جنتر منتر آج بھی اپنی تاریخی، سائنسی اور عوامی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عوامی احتجاج، شہری حقوق اور جمہوری اظہارِ رائے کی ایک مستقل علامت بھی بن چکا ہے۔
کراچی کا ریگل چوک، کراچی پریس کلب اور نئی دہلی کا جنتر منتر اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کے بڑے شہروں میں بعض مقامات صرف عمارتیں یا سڑکیں نہیں رہتے، بلکہ وقت کے ساتھ شہری شعور، عوامی مطالبات اور جمہوری اظہارِ رائے کی دائمی علامت بن جاتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل