Wednesday, July 29, 2026
 

سمندر برد ہونے والے طیارے کے بلیک باکس سگنلز خاموش ہونے کا خدشہ

 



سمندر برد ہونے والے طیارے کے بلیک باکس کے سگنلز خاموش ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ماہر ہوابازی عمران اسلم خان  کے مطابق سمندر میں گرنے والے طیارے فلائٹ 1732 کے بلیک باکس کے سگنلز 6 اگست کو خاموش ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے سرچ آپریشن فوری طور پر گہرے سمندر تک منتقل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 30 روز مکمل ہونے کے بعد انڈر واٹر لوکیٹر بیکنز کے سگنلز بند ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں بلیک باکس اور ملبے کی تلاش انتہائی مشکل، مہنگی اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ عمران اسلم خان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سطح سمندر پر تلاش مؤثر ثابت نہیں ہو رہی، کیونکہ قوی امکان ہے کہ طیارے کا اصل ملبہ سمندر کی تہہ میں موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ اورماڑہ کے قریب تقریباً 3 ہزار میٹر گہرائی میں سونار سرچ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملبے تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔ ہوابازی بلیک باکس سگنلز خاموش ہونے کا خدشہ فلائٹ 1732 کے بلیک باکس کی تلاش کے لیے فوری گہرے سمندر میں آپریشن کا مطالبہ ماہر ہوابازی کے مطابق 30 روز بعد بلیک باکس کے لوکیٹر بیکنز کے سگنلز بند ہو جائیں گے، جس کے بعد ملبے کی تلاش انتہائی دشوار ہو جائے گی، لہذا اورماڑہ کے قریب گہرے سمندر میں آپریشن ضروری ہے۔ ✈️ 1732 متاثرہ فلائٹ نمبر ???? 6 اگست سگنلز کی آخری تاریخ ⏳ 30 دن بیکنز کی کل مدت ???? 3,000 میٹر اورماڑہ سمندری گہرائی ???? سونار سرچ تلاش کا جدید طریقہ ???? خودکار گاڑیاں انڈر واٹر روبوٹکس ⏱️ 12 گھنٹے ابتدائی سرچ رسپانس ???? ریڈار مقام اصلی ملبے کی جگہ express.pk ایکسپریس نیوز انٹرایکٹو انفارمیشن سسٹم انہوں نے مزید کہا کہ سرچ آپریشن میں ٹوڈ پنگر لوکیٹرز اور خودکار زیرِ آب گاڑیوں کے استعمال سے تلاش کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ طیارے کا بھاری ملبہ آخری ریڈار مقام کے قریب موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ سطح پر موجود ملبہ سمندری لہروں اور بہاؤ کے باعث لاکھوں مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیل چکا ہے، جس سے سرچ گرڈ غیر معمولی حد تک وسیع ہو گیا ہے۔ ماہر ہوابازی نے زور دیا کہ وقت ضائع کیے بغیر گہرے سمندر میں جدید سرچ آپریشن شروع کیا جائے تاکہ بلیک باکس کے سگنلز بند ہونے سے پہلے اہم شواہد تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے پاکستانی سرچ ٹیموں کی جانب سے حادثے کے بعد ابتدائی 12 گھنٹوں میں ملبہ تلاش کرنے کی کوششوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل