Thursday, July 30, 2026
 

گرفتاری کی کوشش ہوئی تو تحفظ کیلئے خصوصی دستے موجود ہوں گے، نیتن یاہو کا دعویٰ

 



واشنگٹن / نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں بیرونِ ملک گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے تحفظ کے لیے خصوصی دستے موجود ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئندہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی میڈیا کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اپنے دورۂ نیویارک کو منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی گرفتاری کی کوشش کی گئی تو ان کے اردگرد خصوصی دستے موجود ہوں گے، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ دستے کس نوعیت کے ہوں گے یا ایسی صورتحال میں ان کا کردار کیا ہوگا۔ نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر چکے ہیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری گرفتاری وارنٹ پر بھی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ حالیہ سروے، جو اکنامسٹ اور یوگو نے کرایا، کے مطابق 49 فیصد امریکی بالغ شہریوں کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئیں تو انہیں آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ سروے میں 27 فیصد افراد نے اس کی مخالفت کی، جبکہ 23 فیصد نے اس معاملے پر کوئی واضح رائے نہیں دی۔ انٹرویو میں نیتن یاہو نے ظہران ممدانی پر الزام عائد کیا کہ وہ نیویارک میں یہودی برادری کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں اور شہر کے مختلف طبقات کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو غیر جانبدار ادارہ نہیں سمجھتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی کارروائیاں مستقبل میں امریکی حکام اور فوجیوں کے خلاف بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اسرائیل پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو اسے سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ ابراہیم معاہدوں کا دائرہ مزید وسیع ہو اور مستقبل میں سعودی عرب بھی اس عمل کا حصہ بنے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات ان کے متوقع دورۂ امریکا، آئی سی سی کے وارنٹ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل