Loading
ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست نے ایک بار پھر دوسری اننگز میں بیٹنگ کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
پہلی اننگز میں 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلنے والے امام الحق دوسری اننگز میں صرف چند گیندیں ہی کھیل سکے اور کیمار روچ کی شارٹ آف لینتھ گیند پر غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے۔
ان کی وکٹ نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا کہ پاکستانی بیٹرز دباؤ میں اپنی حکمت عملی برقرار رکھنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ اعداد و شمار بھی اس مسئلے کی تصدیق کرتے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں میں امام الحق کی پہلی اننگز میں اوسط 54.50 رہی لیکن دوسری اننگز میں یہ صرف 3.50 تک گر گئی۔
اسی طرح محمد رضوان اور سعود شکیل کی اوسط میں بھی دوسری اننگز کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی جو پوری بیٹنگ لائن کی ذہنی اور تکنیکی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔
Pakistan stung by second-innings syndrome yet again ???? pic.twitter.com/nioU7WAPkX
— Cricinfo (@cricinfo) July 30, 2026
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ دوسری اننگز میں بیٹنگ ٹیم کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق بیٹرز سے مسلسل بات چیت کی جا رہی ہے مگر ٹیم دباؤ میں اچانک بکھر جاتی ہے جس کا خمیازہ پورے میچ میں بھگتنا پڑتا ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کھیلنے والی تمام ٹیموں میں پاکستان کی دوسری اننگز کی بیٹنگ اوسط صرف 19.90 رہی جو سب سے کم ہے۔
View this post on Instagram
اسی عرصے میں پاکستان نے 14 میں سے 10 ٹیسٹ میچ ہارے جن میں بیرون ملک مسلسل آٹھ شکستیں بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرتی پاکستان کے لیے غیر ملکی میدانوں میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل