Loading
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے بلٹ سے نہیں، ووٹ کی چوری کو کسی صورت نہیں چھپایا جائے، کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے۔
مظفر آباد میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد ایک آئینی کنونشن بلائیں گے جس میں حکومت، اپوزیشن، مہاجرین کے نمائندے، وکلا اور سول سوسائٹی کو بھی بلائیں گے، میں کشمیر میں امن اور انصاف دیکھنا چاہتا ہوں، کشمیر کے فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی، میں حق حاکمیت چاہتا ہوں حق حاکمیت کا مطلب ہے کہ جس کا ووٹ ہے اس کے حق میں نکلے۔
انہوں ںے کہا کہ میں کشمیری باشندوں کے لیے حق ملکیت اور حق روزگار چاہتا ہوں، ہر پروجیکٹ میں انہیں ملازمتیں اور کاروبار کے مواقع دیے جائیں، ہم نے مظفر آباد اور میر پور میں بھی انٹرنیٹ کھلوایا، پونچھ میں بھی انٹرنیٹ کھوائیں گے تاکہ کشمیری دنیا سے جڑے رہیں۔
بلاول کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے لاہور میں جو کام کیا وہ تو ماشااللہ! مگر یہاں کے عوام آپ سے پوچھیں گے کہ آپ نے مظفر آباد میں کیا کیا؟ یہاں کے عوام کو سی ایم ایچ فلائی اوور کی کہانی معلوم ہے، یہ جو کراچی کے یونیورسٹی روڈ کا ذکر کرتے رہتے ہیں انہیں بتائیں کہ ن لیگ نے 2023ء میں خود اس منصوبے کا آغاز کیا تھا کیا وہ آج تک مکمل ہوگیا؟
چیئرمین پی پی نے کہا کہ لاہور کو لاہور کہتے رہتے ہیں مگر برسوں میں سی ایم ایچ فلائی اوور مکمل نہیں کرسکے جب کہ ہم نے مظفر آباد کو فلائی اوور دیا تھا، ہمیں نہیں معلوم لاہور میں آپ نے کام کیا ہوگا مگر کشمیر میں آپ نے کوئی کام نہیں کیا، کشمیر میں جامعات کسی اور نے نہیں پی پی نے بنائی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں کشمیر کو پنجاب یا سندھ نہیں بنانا چاہتا، میں کشمیر کو آزاد کشمیر ہی دیکھنا چاہتا ہوں۔
بلاول نے مطالبہ کیا کہ دو اگست سے قبل انتخابات کا تمام ریکارڈز سامنے لایا جائے، اگر الیکشن چوری نہیں کی تو گھبرانا کیسا، الیکشن جیسے ریاستی اداروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد، کیا پاکستان اور کشمیر کا مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا ذاتی و سیاسی مفاد زیادہ اہم ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ مظفر آباد اور میرپور میں بھی پی پی کے کارکن احتجاج کریں تو بتادیں، ہم اپنا مینڈیٹ واپس لینا جانتے ہیں، یہ انہوں ںے ہمارے لیے زندگی موت کا مسئلہ بنادیا ہے، جی بی میں شکست کے بعد انہوں نے یہ دھاندلی کی، الیکشن کمیشن کو نوٹی فکیشن کی بڑی جلدی تھی، میں پوچھتا ہوں تم ن لیگ کے الیکشن کمشنر ہو یا الیکشن کمیشن کے؟
اس موقع پر بلاول نے گولی کا الیکشن نامنظور، جعلی الیکشن منظور، سلیکٹڈ الیکشن نامنظور کے نعرے لگوائے۔
بلاول نے کہا کہ میں پی ٹی آئی سے کہتا ہوں کہ بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ دے، بائیکاٹ کرنا ہے تو گھر بیٹھ جاؤ، بائیکاٹ نہیں کرو الیکشن لڑو، میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے ہاتھ بڑھا رہا ہوں، ان کے سنجیدہ رہنماؤں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں اور ہر وہ جماعت جو ناانصافی کی شکار ہے میرا ہاتھ تھامے ہم مل کر اصلاحات لائیں گے، کشمیر میں بھی صاف اور شفاف انتخابات کرائیں گے اور بات صرف ون پوائنٹ ایجنڈا تک محدود ہوگی تو میں ہر جماعت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل