Thursday, July 30, 2026
 

کاکروچوں کے اکٹھے ہونے سے پہلے نظام درست کریں، نئے صوبے بنائیں، محسن نقوی

 



وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو سب الٹ سکتے ہیں لہٰذا کے ان کی خواہش اظہار سے پہلے پوری کریں اور نظام کو درست کریں کیونکہ موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کے تاجروں نے اپنے اپنے مسائل بتائے اور ساتھ ساتھ اپنا غم بھی بتا رہے تھے کہ یہ پاکستان میں یہ بھی ہوسکتا ہے اور مواقع بھی بتا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں اس کے ذمہ دار جتنے لوگ ہیں وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ایک چیز جو 70 اور 80 سال سے نہیں چل رہی اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، میں پچھلے تین سال سے سیاست میں زیادہ فعال ہوں تو میں آپ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگ 10 سال بھی اسی طرح بیٹھ کر یہی باتیں کر رہے ہوں گے، اسی طرح تقریریں کر رہے ہوں گے کیونکہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ سسٹم گر چکا ہے،  آپ مان لیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک چیز کو آپ 70 سال سے گھسیٹ رہے ہیں، جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں، میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں اور رہوں گا لیکن جمہوریت کے اندر میں 5 -6 قسم کے نظام ہیں، صرف ایک نظام تو موجود نہیں ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں جو مرضی ہوجائے ہم اسی کو چلانا ہے اور اسی کو آگے بڑھانا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ چاہے ہم باہر سے 14 ارب کی زرعی مصنوعات لے آئیں، زرعی ملک ہوتے ہوئے گندم باہر سے لے آئیں اور ہر ایک نے اپنی مرضی بتائیں، سب سے کہا کہ پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند ہو رہا ہے، جو شخص 20-20 گھنٹے جاگ کر اللہ کے فضل سے پاکستان کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کو بھی کہوں گا یہ صرف فائر فائٹنگ ہے، جب تک آپ اس ملک کی بنیادی چیز کو جمہوریت کی روح میں رہ کر ٹھیک نہیں کریں گے یہ اسی طرح رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کو ٹھیک کون کرے گا، یہاں پاکستان کے سارے چیمبرز آف کامرس کے نمائندے موجود ہیں، یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سیاسی نظام کا حصہ ہیں اور یہ لوگ الیکشنز سے قبل اپنے من پسند سیاست دانوں کو فنڈنگ کرتے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے سیاسی نظام کو چلا رہے ہیں، کوئی کسی مجبوری پر دیتا ہے اور کوئی اور مجبوری پر دیتا ہے اور جس دن آپ نے فیصلہ کیا ہمیں یہ نظام کرنا ہے تو یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے لیکن ایک عام آدمی جو پاکستان کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا ہے اس کو بنیادی سہولت اور اپنی حکومت کے ساتھ رابطہ چاہیے جو ہم نہیں دے پاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم عوام کو بروقت انصاف نہیں دے پارہے ہیں، نئی عدالتیں بنی ہیں لیکن آج بھی عام آدمی انصاف کا متلاشی ہے، حل ایک ہے۔ محسن نقوی نے آپ کو انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا، جب تک یونٹس نہیں بنیں گے، یونٹس بن کر ذمہ داری نہیں لیں گے اور نئی لیڈرشپ نہیں آئے گی، مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ کاکروچ اکٹھا ہوگیا تو سب کچھ الٹ سکتا ہے، محسن نقوی انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنے نوجوانوں ماہانہ دو چار ہزار یا ٹیبلٹس دے کر خوش کریں گے تو ایسا نہیں ہے، آپ ان سے پوچھیں تو سہی ان کو چاہیے کیا، وہ صرف ایک چیز مانگتے ہیں، اپنا نظام ٹھیک کرلیں، ہمیں انصاف، میرٹ، روزگار مل جائے اور اگر سرکاری روزگار ہے تو اس پر ہمیں جائز طریقے سے سب چیز مل جائے تو ہم اس نوجوان کو وہ نہیں دے پاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوجوان کو نوجوان یا کاکروچ کہیں جو مرضی کہیں لیکن میں ایک چیز سب کو بتاؤں گا کہ اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہوگیا تو سب کچھ الٹ سکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے ان کی خواہش اس سے پہلے کہ وہ ظاہر کریں ہمیں پوری کرنی چاہیے اور ان کی خواہش صرف ایک ہے کہ ہمیں میرٹ پر جاب اور جاب کے مواقع مل جائیں، وہ آپ سے ٹیبلٹس یا دو چار ہزار ماہانہ نہیں مانگ رہے ہیں۔ نوجوانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دو چار ہزار ڈالر ماہانہ کما سکتے ہیں آپ ان کو صرف مواقع دیں، اس کے لیے ہمیں اپنی چیزیں ٹھیک کرنی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی نظام کے حوالے سے کہوں گا اگر کسی گھر جو مہینے کے پہلے دن ہی کئی لاکھ کا مقروض ہو اور آپ ان سے کہیں کہ گھر چلا کر دیکھیں تو ایسا نہیں ہوسکتا ہے، اس وفاقی حکومت کا حال یہ ہے کہ ہم جب بجٹ بناتے ہیں تو وہ منفی بناتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے، ہم قرض لیتے ہیں لیکن سسٹم ٹھیک نہیں کرتے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ یہ بات یہاں موجود سب لوگوں کو بھی پتا ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت میں شامل جماعتوں کو بھی پتا ہے، ہم سب کو پتا ہے لیکن ہمارا فرض نہیں ہے کہ یہ مسئلہ ہے تو اس کو ٹھیک کریں لیکن ہم قرض اور لیں گے مگر اس کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے ایک مہینہ بیٹھیں چاہے ایک سال بیٹھیں، ان کونئے یونٹس، صوبوں سے لے کر اپنے ملک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر ٹھیک کرنا پڑے گا، جب تک یہ لوگ نہیں کریں گے، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے اور اس چیز کو تبدیل نہیں کریں گے تو یہ ملک اسی حالت میں رہے گا، آپ جتنے مرضی سیمنار کر لیں اور جتنی دفعہ اکٹھے ہوجائیں یہ سب ٹھیک نہیں ہونے والا۔ محسن نقوی نے کہا کہ میں نے شہباز شریف کو دیکھا ہے وہ 12 سے 14 گھنٹے کام کرتا ہے، وہ 18 گھنٹے بھی کام کرے گا لیکن ہم صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں اور کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ بزنس مین سیاست میں کیوں نہیں آتے، آپ بزنس مین فنڈ نگ کرنے کو تیارہیں مگر خود سیاست میں آنے کو گالی سمجھتے ہیں، آپ لوگوں کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل