Loading
انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے رینجرز کے ڈی ایس آر محمد حنیف قتل کیس میں لیاری گینگ کے مبینہ کارندے محمد سلام عرف ملا نثار کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے رہا کیا جائے۔
ملزم کے وکیل عابد زمان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد ناکافی تھے۔ دو ڈی ایس آرز نے اگرچہ ملزم کی شناخت کی، تاہم دفعہ 161 کے بیانات میں محمد سلام عرف ملا نثار کے کردار کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی جبکہ سرکاری وکیل بھی ان کے موکل کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔
استغاثہ کے مطابق رینجرز نے 2013 میں محمد سلام عرف ملا نثار کے مبینہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے ڈی ایس آر محمد حنیف، ایک خاتون شانتی اور عرفان جاں بحق ہوگئے تھے۔
استغاثہ نے مزید بتایا کہ اسی مقدمے میں ملزم محمد اطہر کو پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی ہے جبکہ مقدمہ سپر مارکیٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل