Loading
معیشت اس وقت ایک ایسی کشتی ہے جو دو طوفانوں کے بیچ میں ہے اور ایک اوپر سے بھی بم گر رہا ہے، ایک طوفان باہر سے آ رہا ہے برینٹ کا ، اس وقت 87 ڈالر پر اچھلنا۔ دوسرا اندر سے پٹرول کی قیمت کا روزانہ طے ہونا اور اوپر سے جو بم گرایا جا رہا ہے وہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بجلی کی قیمت میں 1.20 روپے اضافے کی خبر ہے۔
اس دوران اسٹیٹ بینک کی تازہ مانیٹری پالیسی جو پاکستانی معیشت کی کشتی کا ملاح ہے اس نے سوچ رکھا ہے کہ شرح سود 11.5 پر ہی برقرار رکھنا ہے، اگر ہرمز کھل گیا اور امریکا نے ہرمز کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا تو بہت سی معیشتوں میں جشن کی کیفیت بپا ہو جائے گی اور پہلے جیسی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تک پہنچتے ہی اسٹیٹ بینک بھی شرح سود پر نظرثانی کر پائے گا، اگر تنازع نہ بڑھا تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے معلوم دے رہا ہے کہ اگلے دو مہینوں میں مہنگائی میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔
فی الحال تو رپورٹ بتاتی ہے کہ مہنگائی بڑھنے کے خطرات موجود ہیں جن میں عالمی قیمتوں کا ملکی توانائی قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر منتقل ہونا، بجلی اور گیس کے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کے مطالبات اور میرا خیال ہے کہ جس طرح سے ہندوستان اپنے اسپلز کھولتا چلا جا رہا ہے چونکہ پچھلے سال جو کچھ ہم پر گزری اس سے سبق حاصل نہ کرسکے۔ اسی طرح 2022 میں جس طرح سندھ کا بڑا حصہ ڈوب گیا تھا، ہم نے کچھ بھی نہ سیکھا۔ اس طرح زرعی پیداوار کی کمی مہنگائی لا سکتی ہے۔ کم از کم آئندہ کیلیے پالیسی ہو کہ جتنا بھی سیلابی پانی آئے ان کو ذخیرہ کرنے کی کوئی نہ کوئی تدبیر ہونی چاہیے۔
زرعی سائنسدان، فلڈ واٹر مینجمنٹ سے متعلق انجینئرز اس کا فوری حل نکال سکتے ہیں۔ فروری کے آخر میں امریکا، ایران کشیدگی کے ساتھ ہی جس طرح برینٹ 72 ڈالر سے چھلانگ لگا کر 120 ڈالر کی چوٹی تک گیا تھا اور جولائی میں واپسی کا عمل شروع ہوا پھر اضافہ اب پھر کمی کا رجحان۔ ہمارے ملک میں تو رات 12 بجے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ میں صورتحال مزید نازک ہے۔ وہاں پر تو صبح کچھ شام کچھ اور آج کی صورت حال یہ رہی کہ برینٹ نے تین دن کی 16 فی صد گراوٹ کے بعد دوبارہ 3 فی صد کی چھلانگ لے کر 87 ڈالر فی بیرل کو چھو لیا۔ وجہ اب یہ بنی کہ آبنائے ہرمز کے ساتھ عراق پر حملہ اور سپلائی میں خلل کا خوف حوثیوں کی طرف سے پھر احکامات۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں نرمی آئے گی یا آ رہی ہے لیکن قیمتیں تو 72 ڈالر کے مقابلے میں اس وقت 87 ڈالر ہیں، اگر حالات پرامن ہو جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ تیل کی عالمی طلب میں کچھ کمی آ سکتی ہے، کیونکہ ان ملکوں نے جنھوں نے دوران جنگ کچھ اسٹاک ذخیرہ کر لیے تھے وہ ان کو استعمال کریں گے جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب میں کمی ہوگی۔ ایسے میں کئی ممالک اپنا تیل زیادہ بیچنے کی خاطر تیل کی قیمت کو کم کر سکتے ہیں لیکن ایسا جب ہی ہوگا جب دنیا جنگ کے خوف سے باہر نکل آئے گی۔
معاشی حالات آئندہ چل کر کیا رخ اختیار کرتے ہیں فی الحال تو پاکستان مہنگائی کے شدید کرب میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے ملکی غذائی اشیا کی ترسیل کو مہنگا کر دیا ہے۔ ہر چیز ادھر سے ادھر ٹرکوں، کہیں سوزوکی پر لاد کر پہنچائی جاتی ہے اور ان کے کرائے بڑھنے کی وجہ سے بھی اور کرائے بڑھتے رہے تو کسان سوچنے پر مجبور ہوگا کہ قریبی منڈی لے جا کر اونے پونے فروخت کر دے یا پھر سستی فصل کو کھیت میں دبا دے یا پھر ان اشیا کی کاشت میں کمی کر دے۔ حکومت ڈیزل کی قیمت بڑھاتی ہے تو اس طرح کے عوامل کو بھی مدنظر رکھا کرے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمت میں اضافہ براہ راست عوام کی جیب پر بھاری قیمت لے کر اترتا ہے۔ پھر حکومت ٹیکس لیوی وصول کرتی ہے کسی قسم کی سبسڈی دینے پر آئی ایم ایف کی طرف سے پابندی ہے۔ فروری میں ڈیزل 281 پر تھا اب 388 پر ہے۔ یعنی ڈیزل مہنگا تو ٹرانسپورٹ کے کرائے مہنگے اور ہر شے مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے، لہٰذا ہرمز سے اٹھنے والی بلند لہر پاکستان میں مہنگائی کی بلند لہر سے بدل کر دکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ میں مہنگائی 7.3 فی صد سے مہنگائی بڑھانے کیلیے بجلی کا زخم لگایا جانے والا ہے۔ حکومت اس کا فوری نوٹس لے اور کوشش کرے کہ جو معاملہ حکومت نمٹا سکتی ہے اسے تو حل کرے۔
1.20 روپے فی یونٹ اضافے کو منظور کر لیا گیا تو اگست کا بجلی بل عوام کیلیے آگ بگولا ہو جائے گا۔ اس وقت جو مہنگائی چل رہی ہے وہ مشرق وسطیٰ تنازع سے براہ راست متاثر ہو کر ملکی توانائی کی قیمت بڑھا رہی ہے۔ چاہے وہ تیل ہو یا گیس ہو، لیکن اب اگر بجلی کے نرخ بھی بڑھا دیتے ہیں تو پھر غریب عوام کا کیا بنے گا؟ یعنی بجلی کی قیمت میں اضافہ یہ دوسرا راؤنڈ ایفیکٹ ہوگا جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گا اور معیشت کی شرح نمو میں کمی لے کر آئے گا، کیونکہ بھاری بھرکم بجلی بل بھرنے کے بعد عوام کے پاس جو رقم بچے گی اس سے وہ بازار سے کیا خریدے گا اور گھر کیا لے کر جائے گا؟
ہرمز سے جو ہوائیں چل رہی ہیں حکومت ان کو روکنے سے تو قاصر ہے لیکن شاید آئی ایم ایف کی پابند ہے کہ عوام پر جو برق گرتی ہے اسے گرنے دیا جائے۔ پہلے ہی بجلی بل کیا کم ہیں کہ اب اس میں مزید اضافے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کچھ بڑھتے ہوئے بجلی بلوں کو کم کرنے کی کوشش کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل