Friday, July 31, 2026
 

اب کوئی رفعت النساء نہیں مرے گی؟

 



شہزادی نیلو فر ‘ ترکی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔1916ء میں استنبول کے بلندپایہ محل میں پیدا ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کا ‘اس دور میں تین براعظموں پر حکم چلتا تھا ۔ کمال اتا ترک نے جب خلافت کا خاتمہ کیا تو نیلوفر اپنی والدہ کے ساتھ فرانس کے ایک متمول شہر نیس میں پناہ گزین ہو گئی۔ شہزادی صاحبہ خوبصورتی میں بے مثال تھی ۔ حیدر آباد کے نظام کے بیٹے معظم جاہ نے نیلوفر کو پہلی بار دیکھا تو دل ہار بیٹھا ۔ فوراً نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ آپ حیران ہوں گے کہ ترک شاہی خاندان ہی کے ایک فرد شہزادہ عثمان اور ان کی اہلیہ شہزادی کریمہ خاتون نے خواہش ظاہر کی کہ معظم جاہ سے رشتہ کروانے کے عوض انھیں پچیس ہزار برطانوی پاؤنڈ سالانہ ملیں گے۔اور ایسے ہی ہوا۔ شہزادی نیلوفر کی طلاق 1952ء میں ہوئی ۔ اس وقت تک یہ پیسے شہزادہ عثمان کو ملتے رہے۔ معظم جاہ سے شادی فرانس کے ایک محل Villa Carabacelمیں منعقد ہوئی ۔ یورپ کے تمام اخبارات اور جریدوںنے اس شاہی تقریب کا ذکر کیا ۔ بارہ دسمبر 1931ء میں یہ حددرجہ نمایاں جوڑا ہندوستان کی ریاست حیدر آباد پہنچ گیا ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ پورے برصغیر میں حیدر آباد امیر ترین ریاست تھی ۔ حیدر آباد کے نظام نیلو فر کی بہت قدر کرتے تھے۔ یہ خاتون بغیر برقعے کے ‘ ہر شاہی تقریب اور دیگر مجالس میں شامل ہوتی تھی۔نیلو فر واحد خاتون تھی جو نظام کو پاپا کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ باقی تمام لڑکیاںنظام کو سرکار کے خطاب سے بات کرتی تھیں۔شہزادی نیلوفر کو دنیا کی دس خوبصورت ترین خواتین میں شامل کیا گیا۔ انھیں حیدر آباد کا کوہ نور قرار دیا گیا۔ مگر قسمت دیکھئے کہ معظم جاہ اور شہزادی صاحبہ کبھی بھی صاحب اولاد نہ ہو سکے۔رفعت النساء بیگم شہزادی صاحبہ کی قریبی ترین ملازمہ تھی۔ نیلوفر صاحبہ اس پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں۔ ملازمہ کا تعلق مقامی علاقے ہی سے تھا۔ اس کی شادی کے تمام اخراجات شاہی خاندان نے ادا کیے ۔ مگر قسمت دیکھئے کہ رفعت النساء زچگی کے دوران مناسب طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے فوت ہو گئی۔ جب نیلو فرکو یہ خبر سنائی گئی تو اس نے زارو قطار رونا شروع کر دیا ۔ تھوڑی دیر بعد اپنے حواس پر قابو پا کر کھڑی ہوئی اور اس نے ایک تاریخی جملہ کہا ‘ اب کوئی رفعت النساء طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں مرے گی ۔  نظام کے پاس گئی اور اسے سارا ماجرہ سنایا ۔ اس زمانے میں بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی تھی ۔ خدانخواستہ اگر کسی حاملہ ماں کو کوئی مسئلہ ہو جائے ‘ تو موت کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔ نظام کو درخواست کی کہ پوری ریاست میں ایک بھی زچہ بچہ اسپتال نہیں ہے۔بادشاہ نے کمال فیاضی کرتے ہوئے شہر کے بہترین علاقے میں اسپتال کے لیے زمین عطیہ کر دی۔ اس بیش قیمت علاقے کا نام ریڈ ہلز تھا۔ ساتھ ہی خطیر رقم بھی دی تاکہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک بہترین اسپتال بنایا جا سکے ۔ ابتدا ء میں اس اسپتال میں سو خواتین مریضوں کی گنجائش تھی۔ 1953ء میں بننے والا اسپتال آج بھی قائم ہے ۔ 2026ء میں اس میں پندرہ سو مریضوں کے جدید ترین علاج کی سہولت موجود ہے۔اسپتال کا نام نیلوفر اسپتال ہے۔ جو آج بھی لوگوں کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے ۔معظم جاہ اور نیلو فر کی شادی زیادہ دیر نہ چل سکی ۔ اولاد نہ ہونے کا علاج شہزادی صاحبہ یورپ اور امریکا کے بہترین اسپتالوں میں کرواتی رہیں ۔ مگرکوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل پایا۔ چنانچہ معظم جاہ نے رضیہ بیگم سے دوسری شادی کی۔اس کے بعد نیلوفر فرانس میں اپنی والدہ کے ساتھ منتقل ہو گئیں۔ حیدر آباد کے شاہی خاندان میں شہزادی صاحبہ کے ساتھ ‘ ترکی کے شاہی خاندان ہی کی ایک اور شہزادی بھی شادی کے بعد منتقل ہوئی تھیں جن کا نام درشہوار تھا۔ در شہوار کے والد نیلوفر کے قریبی عزیز تھے۔ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو ترک حکومت نے تدفین کی اجازت نہیں دی۔ خلافت اور بادشاہت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اب در شہوار کے والد کو کہاں دفن کیا جائے؟آپ حیران ہوں گے کہ یہ معاملہ پاکستان کی حکومت نے حل کیا۔ نیلو فر شہزادی نے ملک غلام محمد کو فون کیا جو اس وقت گورنر جنرل پاکستان تھے۔ پاکستان آنے سے پہلے وہ نظام کی حکومت میں ایک اہم عہدے پر تعینات تھے ۔ اس واسطے سے نیلوفر نے پاکستان کے گونرجنرل کو درخواست کی کہ در شہوار کے والد اور ان کے قریبی عزیز کی باعزت تدفین کا بندوبست کیا جائے۔ ملک غلام محمد نے سعودی عرب کے فرمانروا سعود بن عبدالعزیز سے درخواست کی کہ ترکی کے ایک شہزادے کو سعودی عریبیہ میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ نیلوفر کی درخواست پر ‘ در شہوار کے والد کو سعودی عرب کے جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ نیلوفر اسپتال آج بھی حاملہ عورتوں کی زندگی بچا رہا ہے۔ ساتھ ساتھ بچوں کے تمام امراض کا کامیابی سے علاج بھی جاری ہے۔ نیکی کا یہ عمل کوہ نور ہیرے کی طرح ہندوستان کے شہر حیدر آباد میں دمک رہا ہے۔  طالب علم کا سوال یہ ہے کہ حقوق العباد میں دراصل نیکی کی تعریف کیا ہے ؟ مکمل طور پر مغرب زدہ نیلو فر نے وہ کام کیا جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں دی۔ بلند مرتبے پر بیٹھ کر انسان اپنے سے کم استطاعت والے لوگوں کے لیے کیا کام کرتا ہے ‘ یہی نیکی ہے۔ جو ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ برصغیر میں عام لوگوں کے لیے سہولتیں پہنچانے کے کام میں مسلمان کافی پیچھے رہ گئے ۔ بٹوارے سے پہلے کا معاملہ دیکھیں ۔ تو آپ کو لاہور شہر میں اسپتال ‘ کلینک اور دیگر رفاعی کام ہندوؤں اور سکھوں کے دم قدم سے ہوتے معلوم پڑیں گے۔ گنگا رام اسپتال سے لے کر پنجاب یونیورسٹی کی عمارتیں بنانے میں کسی مخیر مسلمان کا حصہ نہیں۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے مسلمانوں میں امیر آدمی بہت کم تھے۔ شاید یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں آسانیاں تقسیم نہ کر پائے ۔اس ساری صورت حال کے برعکس 1947ء کے بعد تمام مالیاتی ‘ انتظامی اور کاروباری اختیارات ہمارے اپنے ہاتھ میں چلے گئے۔ یعنی یہ تمام کام ہم مسلمانوں کے پاس تھے اور ہیں۔ حکومت پاکستان نے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے ‘ایسا ماڈل ترتیب دیا جو پوری دنیا میں کہیں نہیں تھا۔ حکومت کے محکمے ‘ اپنے پیسوں سے کارخانے اور ملیں تعمیر کرتی تھی ۔ اس کے بعد انھیں پرائیویٹ لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا تھا۔ حکومتی سیڑھی کو معدودے چند افراد نے بھرپور استعمال کیا۔بقول ڈاکٹر محبوب الحق ‘ پاکستان کا سرمایہ بائیس خاندانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومتی امداد پر پیسہ کمانے والے یہ بائیس خانوادے کون تھے؟ المیہ یہ ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے ‘ حکومتی مدد سے امیر ہونے والے ان خاندانوں میں سے کسی ایک نے بھی عام شہریوں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دو چار اسپتال ضرور بنے مگر مجموعی طور پر ‘ امراء کا یہ ٹولہ صرف اپنے پیٹ بھرتا رہا۔ دولت کو بلا روک ٹوک ملک سے باہر لے جا کر اپنے ہی خاندان کو مزید امیر کرنے میں مصروف رہا ۔ چلیں چھوڑیئے! پچاس ساٹھ سال پہلے کے اس المیہ کو کیا دہرانا۔ موجودہ حالات کی طرف نظر دوڑائے ۔ چند شعبوں کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس کے بعد تفصیل عرض کروں گا۔ بجلی بنانے کے نجی کارخانے ‘ سیمنٹ اور چینی بنانے کی ملیں ‘ وہ سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہیں جنہوں نے پاکستان کے چند خاندانوں کو ہیرے اور جواہرات میں تول دیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی شاہی خاندان اس وقت تمام منافع بخش کاروبار کے واضح یا چھپے ہوئے مالک ہیں۔ ان کے پاس غیر معمولی دولت جمع ہو چکی ہے کہ یہ ملک کے وسائل پر قابض ہیں۔ ان امیر لوگوں نے آج تک ‘ نیلو فر شہزادی کی طرح کوئی فلاحی کام کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ ان کی ہوس کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ معاشرے میں ہر طرف دیکھتا ہوں۔امیر لوگ‘متوسط اور غریب طبقے سے بہت دور رہتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ‘ کچھ لوگوں کو مفت کھانا فراہم کر کے باقی تمام خدمت کے کاموں سے مبرا نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے خاندان میں آج نیلو فر شہزادی موجود نہیں ہے۔ جو بے اختیار کہہ اٹھے کہ میں ایک ملازمہ رفعت النساء کو مرنے نہیں دوں گی۔اس کے لیے ہر طرح کی طبی سہولتیں اور اسپتال مہیا کرونگی۔ سچ تو یہ ہے اس بنجر معاشرے میں جو بھی فلاحی کام کرنے کی کوشش کرے گا۔وہ نظام کے لیے خطرہ بن جائے گا ۔پھر اسے راستے سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل