Loading
یکم اگست 1990 مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جو کشمیری عوام کی جذبہ آزادی کی بے مثال قربانیوں میں سے ایک ہے۔
بارہمولہ سرینگر شاہراہ پرواقع پٹن قصبے کا سانحہ شاہراہ پرخون سےلکھے گئےعہد اور مزاحمت کے اٹل عزم کا ثبوت ہے، یکم اگست 1990 کے روز بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے متعدد نہتے کشمیری شہری شہید اوردیگر شدید زخمی ہوئے تھے۔
عوام کوخوفزدہ کرکے خاموش کرنے کی بھارتی کوشش ناکام ہوگئی اور اس سانحے نے کشمیریوں کے حوصلے مزید مضبوط کردیے، 1990 کے موسم گرما تک پوری وادی کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کیلیے ایک ہمہ گیر تحریک بن چکی تھی۔
قابض بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے سخت قوانین کے ذریعے تجارتی مراکز اور شہری علاقوں کوعسکری کنٹرول میں تبدیل کر دیا، عینی شاہدین کے مطابق گاڑی کے ٹائر پھٹنے کی آواز کو جواز بنا کر بھارتی فوجیوں نے بازار میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 12 نہتے کشمیری شہید جبکہ 80 سے زائد شدید زخمی ہوئے، قابض فورسز نے کئی رہائشی مکانات کو بھی آگ لگا دی۔
گاؤکدل، ہوال اور ہندواڑہ کی طرح پٹن کا قتلِ عام بھی کشمیر کی مزاحمتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے"کشمیربنےگاپاکستان"محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پٹن کی شاہراہ پربہنے والے خون سے مضبوط ہونےوالا قومی عزم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل