Sunday, August 02, 2026
 

رانا ثنا نے شہید بھٹو پر الزام لگایا کہ وہ ملک ٹوٹنے کے بعد وزیراعظم بنے، رہنما پیپلز پارٹی

 



پاکستان پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر سید محمد علی شاہ باچا نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کی جانب سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیا گیا بیان سیاسی دیوالیہ پن اور تاریخی حقائق سے چشم پوشی کا مظہر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ صاحب آج شہید ذوالفقار علی بھٹو پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ملک ٹوٹنے کے بعد وزیراعظم بنے، مگر وہ قوم کو یہ بھی بتائیں کہ 1993 تک وہ کس جماعت میں تھے؟ کیا وہ اسی پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن نہیں تھے جس کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ کیا اُس وقت انہیں شہید بھٹو کی قیادت، نظریے اور تاریخ پر کوئی اعتراض نہیں تھا؟ اگر وہ واقعی سمجھتے تھے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک توڑنے والوں کی جماعت ہے تو پھر برسوں تک اسی جماعت کا حصہ کیوں رہے؟ سیاسی وفاداریاں بدلنے کے بعد تاریخ کو بھی اپنی سہولت کے مطابق بدلنے کی کوشش قابلِ افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ 1971 کے قومی سانحے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کے بجائے تاریخ کو دیانت داری سے دیکھا جانا چاہیے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، مزدور، کسان اور عام آدمی کو سیاسی شناخت دی اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کیا، ایسی شخصیت کو سیاسی مخالفت کی بنیاد پر متنازع بنانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ سید محمد علی شاہ باچا نے وفاقی وزیر امیر مقام کے اس بیان پر بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز یقیناً ریاستِ پاکستان کے ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ فنڈز لاڑکانہ یا کسی خاندان کی ذاتی ملکیت ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یہ فلاحی پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کا تاریخی اقدام تھا، جس نے لاکھوں مستحق خاندانوں کے لیے امید کا دروازہ کھولا۔ اس منصوبے کی بنیاد اور فلسفے کو سیاسی تعصب کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ریاستی اداروں اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی ذمہ دار ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ متنازع بیانات اور اقدامات کی سیاسی ذمہ داری بھی مسلم لیگ (ن) پر عائد ہوتی ہے۔ محسن نقوی آپ کی کابینہ کا حصہ ہیں؛ اگر ان کے بیانات حکومتی پالیسی نہیں تو وزیراعظم انہیں فوری طور پر ان بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کرائیں یا انہیں وفاقی کابینہ سے الگ کریں۔ خاموشی اختیار کرنا ان بیانات کی تائید کے مترادف سمجھا جائے گا۔ صوبائی صدر نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، انتظامی بے ضابطگیوں اور تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد حلقوں میں پولنگ کا عمل بروقت شروع نہ ہو سکا، جبکہ انتخابی عملے کی عدم موجودگی نے عوام کے حقِ رائے دہی کو متاثر کیا اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک کارکن کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر کسی بھی سیاسی جماعت کے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ عوام کے مینڈیٹ کو طاقت، دباؤ یا انتظامی ہتھکنڈوں سے تبدیل کرنے کی ہر کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل