Sunday, August 02, 2026
 

ریلوے تباہی کے دہانے پر ، ناکارہ کوچوں کے ذریعے مسافر ٹرینیں، مال بردار گاڑیاں چلائے جانے کا انکشاف

 



پاکستان ریلوے تباہی کے دہانے پر  ہے، لوکو موٹو  سپیئر پارٹس اور  پاور وین کی کمی، خستہ حال  ناکارہ ترین  ڈمی کوچوں کے ذریعے مال بردار  ریل گاڑیوں کے چلائے  جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو ملنے والی جوائنٹ سرٹیفکیٹ رپورٹ کے مطابق مال بردار ریل گاڑیوں میں انتہائی خستہ حال بوسیدہ ناقص ترین ناقابل استعمال کوچوں کے ذریعے آپریشن چلایا جارہا ہے مگر ریلوے نظامیہ ڈرائیوروں اور مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈال کر ٹرینیں چلا رہی ہے۔ یوسف والا حادثات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت پاکستان ریلوے کی جتنی بھی مال بردار ریل گاڑیاں چل رہی ہیں اس میں 50 پرسنٹ ایسی ٹرینیں ہیں جو انتہائی خستہ حال ہو چکی ہیں جو کسی بھی صورت ریلوے ٹریک پر دوڑ ہی نہیں سکتی مگر ریلوے انتظامیہ ان کوچوں کے ذریعے تاجروں اور صنعت کاروں کا اربوں روپے کا قیمتی مال خطرے میں ڈال کر چلا رہی ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسافر ٹرینوں میں بھی کچھ کوچیں 50 پرسنٹ بھی ٹھیک نہیں ہوتی مگر ان کو بھی ٹریک پر چلایا جا رہا ہے۔ حالیہ ہونے والے حادثات سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث حادثات بڑھ رہے ہیں ایک تو ریلوے ٹریک اس قابل نہیں دوسرا اس کے اوپر چلنے والی کوچیں بھی اس قابل نہیں ایک کوچ کے اندر 8بریک سلنڈر ہوتے ہیں مگر  کسی کے 6 ہیں کسی کے  چار یعنی کہ 100 پرسنٹ فٹ ٹرین کے ساتھ نہ تو سفر کیا جا رہا ہے نہ مال بردار ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے گزشتہ دو  ماہ کے عرصے میں 15 سے زائد چھوٹے بڑے حادثات  ہوچکے ہیں، دوسری جانب پاکستان ریلویز کے پاس ہاور وین اور کوچوں سمیت سپیئر پارٹس کی بھی شدید قلت ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے پاکستان ریلویز ورکشاپ کو بروقت نئی مسافر اور مال بردار کوچیں بنانے کا ٹارگٹ دیا مگر کوئی بھی آفیسر اس ٹارگٹ کو پورا نہ کر سکا۔ تقریباً سال  سوا سال کے عرصے میں چار افسران کو ڈی ایس ورکشاپ تعینات کیا گیا مگر ان چاروں افسران جن میں یوسف لغاری خالد خان افتخار احمد اور اب محمد ثقلین  شامل ہیں ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہی رہے ہیں، ان میں سے محمد ثقلین کو کچھ دن قبل ہی چارج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ مال بردار اور مسافر ریل گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے کئی بار ان کوچوں کے ساتھ آپریشن چلانے سے انکار کیا مگر ان ڈرائیور ز پر دباؤ ڈال کر آپریشن چلایا جارہا ہے مگر ڈرائیور بھی ان کو تحریر ی اور زبانی آگاہ کر دیتے ہیں کہ حادثات کی صورت میں وہ زمدار نہیں ہونگے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل