Loading
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں سوٹ کیس سے برآمد ہونے والی برطانوی خاتون کی لاش کے مقدمے میں پولیس نے ایک 26 سالہ افغان شہری پر قتل، ڈکیتی اور اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
38 سالہ الزبتھ جین راس (جو لیزا کے نام سے بھی جانی جاتی تھیں) کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز کے علاقے کیپسیلی میں ایک ویران پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑی کے اندر موجود سوٹ کیس سے ملی تھی۔ لاش ایک بے گھر شخص نے دریافت کی تھی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش قتل کا اعتراف کیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی ملاقات الزبتھ جین راس سے ان کے سماجی کام کے دوران ہوئی تھی، جہاں وہ مہاجرین اور بے گھر افراد کی مدد کیا کرتی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو وسطی ایتھنز سے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ اس نے مقتولہ کے بینک کارڈز استعمال کرکے رقم بھی نکالی، جس کی مدد سے پولیس اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق الزبتھ جین راس کی لاش 18 جولائی کو ملی جبکہ اس سے تین روز قبل انہوں نے اپنے یونانی دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ ایتھنز کے باہر اپنے قیام کے مقام سے امریکی دوستوں سے ملاقات کے لیے کیپسیلی جا رہی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ سوٹ کیس سے ملزم کے فنگر پرنٹس بھی ملے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے سوٹ کیس اٹھا کر ویران پارکنگ ایریا تک لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
یونانی پولیس نے ملزم کے خلاف دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحہ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمات درج کر لیے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل