Loading
بھارتی ریئلٹی شو ’خطروں کے کھلاڑی سیزن 15‘ کی حالیہ قسط ایک خطرناک اسٹنٹ کے باعث خبروں کی زینت بن گئی، جہاں مقابلے کے دوران کئی معروف اداکار زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے شو کے منتظمین اور حفاظتی انتظامات پر شدید تنقید شروع کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس ٹاسک میں گورو کھنہ، کرن واہی، وشال آدتیہ سنگھ اور شگون شرما شریک تھے۔ مقابلے کے دوران انہیں پشت کی جانب رخ کرکے کھڑا ہونا تھا جبکہ مخصوص مشینوں سے ان پر مسلسل ربڑ پیلٹس فائر کی جا رہی تھیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہنا تھا جب تک مقابلہ کرنے والا خود ٹاسک چھوڑنے کا فیصلہ نہ کرے۔
شو کے میزبان روہت شیٹی نے ٹاسک کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ٹیموں کے دو، دو شرکا ایلیمینیشن اسٹنٹ میں حصہ لیں گے اور مقابلہ اسی وقت ختم ہوگا جب شریک خود ہار مان لے گا۔ اگرچہ شرکا کو ریڑھ کی ہڈی کے تحفظ کے لیے اسپائن پروٹیکٹر فراہم کیے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود یہ چیلنج انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔
اسٹنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی گورو کھنہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ربڑ پیلٹس کی ضربیں شدید درد کا باعث بنیں گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب شو کا نام ہی ’خطروں کے کھلاڑی‘ ہے تو خطرات کا سامنا کرنا بھی مقابلے کا حصہ ہے۔ تاہم مسلسل فائرنگ سے درد ناقابل برداشت ہونے پر گورو کھنہ اور شگون شرما نے بالآخر ٹاسک ادھورا چھوڑ دیا۔
دورانِ مقابلہ شگون شرما شدید تکلیف کے باعث چیخ اٹھیں، جس پر شو میں موجود جاسمین بھسین نے انہیں مشورہ دیا کہ خود کو ہیرو ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ زیادہ زخمی ہونے کی صورت میں آئندہ ٹاسکس میں بھی حصہ لینا مشکل ہو جائے گا۔
بعد ازاں گورو کھنہ نے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے صرف گلے میں تکلیف تھی، لیکن اب پورا جسم درد سے متاثر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی کیفیت سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد ناظرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
View this post on Instagram
متعدد صارفین نے شو کے پروڈیوسرز پر الزام عائد کیا کہ ریٹنگ اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے خطرناک مقابلے کروانا مناسب نہیں جن میں شرکا کی جسمانی سلامتی داؤ پر لگ جائے۔ بعض افراد نے اس اسٹنٹ کو غیر ضروری حد تک ظالمانہ قرار دیتے ہوئے شو کے حفاظتی معیار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل