Loading
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی اور راستے سے اپنے جنگی جہاز داخل کیے تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گی اور امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی جاری رہنے نہیں دیں گی۔
محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی بھی صورت آبنائے ہرمز میں اپنی مقررہ گزرگاہ کے علاوہ کسی دوسرے بحری راستے کو کھولنے کی اجازت نہیں دے گا۔
محسن رضائی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز میں غیر قانونی راستے سے اپنے جنگی جہاز لاتا ہے تو ہم انھیں نشانہ بنائیں گے۔
امریکا نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی تھی۔
ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو دیگر پر امریکی اہلکاروں نے چڑھ کر تلاشی بھی لی۔
ایرانی فوجی مشیر نے الزام لگایا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تنازع کو طے شدہ تنازعاتی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے بجائے براہ راست فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے جولائی کے آغاز میں ایران پر دوبارہ حملے اس وقت شروع کیے تھے جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے چند بحری جہازوں کو ایسے راستے استعمال کرنے پر نشانہ بنایا تھا جنھیں ایران نے منظور نہیں کیا تھا۔
محسن رضائی نے کہا کہ اگر امریکا واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کو سب سے پہلے ایران کے منجمد مالی اثاثے واپس کرنے اور یہ اعلان کرے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کی حالت میں نہیں ہے اور آبنائے ہرمز میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیاں بند کرنا ہوں گی۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو اپنے انتظامات کے تحت پہلے سے بھی بہتر انداز میں یقینی بنا سکتا ہے اور اگر امریکا اپنے وعدوں پر عمل شروع کرتا ہے تو ایران اسے اس کے رویے میں مثبت تبدیلی تصور کرے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل