Wednesday, August 05, 2026
 

انگلش چینل میں خوفناک حادثہ، تارکین وطن کی کشتی میں آگ لگ گئی، 173 افراد کو بچا لیا گیا

 



فرانس اور برطانیہ کی ریسکیو ٹیموں نے انگلش چینل میں ایک تارکین وطن کی کشتی میں آگ لگنے کے بعد 173 افراد کو بحفاظت بچا لیا۔ حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں انگلش چینل میں ہونے والے سب سے بڑے امدادی آپریشنز میں سے ایک ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب فرانس اور برطانیہ کی سمندری حدود کے قریب ایک چھوٹی کشتی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگتے ہی کشتی میں سوار افراد نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگیں لگا دیں، جس کے بعد دونوں ممالک کی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ابتدائی طور پر ریسکیو کیے جانے والے افراد کی تعداد 157 بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں فرانسیسی حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 173 تارکین وطن کو بچایا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق کچھ افراد معمولی جھلسنے، خراشوں اور زخموں کا شکار ہوئے، تاہم کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام متاثرین کو طبی معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ فرانسیسی حکام نے بتایا کہ تارکین وطن پیر کے روز فرانس کے ساحلی علاقے ویول-لے-روز سے برطانیہ جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ برطانوی کوسٹ گارڈ نے بھی تصدیق کی کہ برطانیہ کے امدادی جہاز اور لائف بوٹس نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں انگلش چینل کے ذریعے برطانیہ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اسمگلر ہزاروں ڈالر لے کر لوگوں کو گنجائش سے کہیں زیادہ بھرے ہوئے ربڑ کی کشتیوں میں دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ 2021 میں ایک کشتی میں اوسطاً 26 افراد سوار ہوتے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر اوسطاً 65 افراد تک پہنچ چکی ہے، جس سے حادثات کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ برطانوی وزیر انصاف الیکس نورس نے کہا کہ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ انسانی اسمگلر انسانی جانوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور صرف مالی فائدے کے لیے لوگوں کو انتہائی خطرناک سفر پر مجبور کرتے ہیں۔ برطانوی حکام کے مطابق رواں سال اب تک 14 ہزار 526 تارکین وطن چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ دوسری جانب برطانیہ اور فرانس کے درمیان ’ون اِن، ون آؤٹ‘ معاہدے پر بھی عمل جاری ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر پہنچنے والے بعض افراد کو واپس بھیجا جاتا ہے جبکہ قانونی طریقے سے درخواست دینے والے بعض تارکین وطن کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اس خطرناک سفر میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل