Tuesday, August 04, 2026
 

پیٹرول کمپنیاں ضرورت سے زیادہ پیسہ بنا رہی ہیں، میں اس پر خوش نہیں ہوں؛ ٹرمپ

 



امریکا ایران جنگ سے جہاں پیٹرولیم کمپنیوں کی چاندی ہوگئی لیکن بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے جہاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی ہے وہیں دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہیں کیونکہ چند ماہ بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی عوامی ناراضی کا سبب بن رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں تیل کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں آزاد منڈی کا حامی ہوں لیکن تیل کمپنیاں موجودہ صورت حال میں ضرورت سے زیادہ پیسہ بنا رہی ہیں اور میں اس پر خوش نہیں ہوں۔ امریکا ایران جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کی بڑی توانائی کمپنیوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے دوسری سہ ماہی میں 33.4 ارب ڈالر منافع حاصل کرنے کا اعلان کیا جو گزشتہ سال اسی مدت کے 25.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح امریکی کمپنی ایکسون موبل نے بتایا کہ اس کا سہ ماہی منافع بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری بڑی امریکی کمپنی شیورون نے 12.1 ارب ڈالر منافع کمایا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا سے زائد ہے۔ برطانوی توانائی کمپنی شیل نے بھی تقریباً 10 ارب ڈالر کا سہ ماہی منافع رپورٹ کیا جو کمپنی کی تاریخ کے دوسرے بڑے سہ ماہی منافع میں شمار کیا جا رہا ہے۔ امریکی عوام پر بھی مہنگے ایندھن کا بوجھ دوسری جانب امریکا میں جنگ شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے پہلے ہی مہنگائی کے شکار امریکی صارفین پر مزید مالی دباؤ پڑا ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایندھن کی قیمتیں کم کرنا ایک اہم سیاسی ہدف بن چکا ہے کیونکہ مہنگا پیٹرول اکثر حکمران جماعت کی مقبولیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور سپلائی میں رکاوٹ امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی کم ہوئی اور قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آئی ہیں تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہونے کے باعث تیل کی منڈی اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ باب المندب میں بھی خطرات برقرار توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب نے اپنی کچھ برآمدات کو آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے منتقل کیا لیکن وہاں بھی ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے راستے سعودی جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بحیرہ احمر کے ذریعے سعودی خام تیل کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ماہرین کی رائے توانائی سے متعلق تحقیقی ادارے رِسٹاڈ انرجی کے نائب صدر راہول چودھری کے مطابق سعودی آرامکو کے منافع میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ قیمت والی مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، کی برآمدات بھی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر معمولی منافع زیادہ عرصے تک برقرار رہنا مشکل ہے کیونکہ ذخائر کم ہو رہے ہیں اور اگر آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں سپلائی بڑھنے سے خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی بڑی تیل کمپنیاں غیر معمولی منافع کماتی رہیں گی، جبکہ اس کا بوجھ دنیا بھر کے صارفین کو مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل