Tuesday, August 04, 2026
 

پاکستانی تاریخ میں حکمرانوں کی کارکردگی

 



پاکستان کی تاریخ میں مختلف حکمرانوں کی کارکردگی کا جائزہ ہم کئی طرح سے لے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں راقم نے مختلف حکومتوں کی جانب سے مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں سے مختص کیے گئے ترقیاتی بجٹ، بجٹ خسارے، بے روزگاری اور غربت کی شرح کا ایک جائزہ لیا ہے، چونکہ ہر سال بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم میں فرق ہوتا ہے، اس لیے یہ دیکھا گیا کہ کسی حکمران کے پورے دورحکومت میں ترقیاتی بجٹ اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے لحاظ سے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا رہا۔واضح رہے کہ یہ جائزہ مختلف دستیاب معلومات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں کہیں کہیں کچھ فرق ہو سکتا ہے، تاہم اس سے حکمرانوں کی کارکردگی کا کافی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔  ہمارے جائزے کے مطابق ایوب خان کے دور حکومت (1958–1969) میں ترقیاتی بجٹ 6 تا 7 فیصد جب کہ بجٹ خسارہ 3 تا 5 فیصد تھا۔ یحییٰ خان کے دور (1969–1971) میں ترقیاتی بجٹ 5 تا 6 فیصد جب کہ بجٹ خسارہ 4 تا 6 فیصد رہا۔اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور (1971–1977) میں ترقیاتی بجٹ 5 تا 6 فیصد اور بجٹ خسارہ 5 تا 8 فیصد تھا۔ گویا ان تینوں ادوار میں بجٹ خسارہ بڑھ رہا تھا جب کہ ترقیاتی بجٹ بھی کم تھا۔ اس کے بعد ضیاء الحق کے دور (1977–1988) میں ترقیاتی بجٹ 4 تا 5 فیصد اور بجٹ خسارہ 5 تا 7 فیصد رہا۔ پھر بے نظیر بھٹو کے پہلے دور (1988–1990) میں ترقیاتی بجٹ 3 تا 4 فیصد اور بجٹ خسارہ 7 تا 8 فیصد ہو گیا، یعنی اس دور میں گزشتہ تمام حکمرانوں کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ بھی کم تھا جب کہ بجٹ خسارہ سب سے زیادہ تھا۔ اس کے بعد نواز شریف کے پہلے دور (1990–1993) میں ترقیاتی بجٹ 3 تا 5 فیصد اور بجٹ خسارہ 6 تا 7 فیصد رہا۔ یہ صورت حال بے نظیر بھٹو کے دور سے بہتر تھی، لیکن باقی تمام ادوار کے مقابلے میں کم تر تھی۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور (1993–1996) میں ترقیاتی بجٹ 3 تا 4 فیصد جب کہ بجٹ خسارہ 6 تا 7 فیصد رہا۔ یہ صورتِ حال نواز شریف کے پہلے دور کے تقریباً برابر تھی۔ پھر اس کے بعد دوبارہ نواز شریف کا دور (1997–1999) آیا تو اس میں ترقیاتی بجٹ وہی رہا جو بے نظیر بھٹو کے دور میں تھا، تاہم بجٹ خسارہ کم ہو کر 5 تا 6 فیصد پر آ گیا، جو ایک اچھی پیش رفت تھی۔ اس کے بعد پرویز مشرف کے دور (1999–2008) میں ترقیاتی بجٹ کچھ بڑھا، یعنی 3 تا 4 فیصد ہو گیا، جب کہ بجٹ خسارہ مزید کم ہو کر 3 تا 5 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں ایک اچھی پیش رفت تھی۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کا دور حکومت (2008–2013) آیا تو ترقیاتی بجٹ بہت کم، یعنی 2 تا 3 فیصد، جب کہ بجٹ خسارہ 6 تا 8 فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم اس کے بعد نواز شریف کا ایک بار پھر دور (2013–2018) آیا تو صورتِ حال کافی بہتر ہو گئی، جس میں ترقیاتی بجٹ 3 تا 4 فیصد ہوا جب کہ بجٹ خسارہ کم ہو کر 5 تا 6 فیصد رہ گیا۔ اس کے بعد پہلی مرتبہ عمران خان اقتدار میں آئے۔ ان کے دور (2018–2022) میں ترقیاتی بجٹ کم ہو کر 2 تا 3 فیصد رہ گیا جب کہ بجٹ خسارہ 7 تا 9 فیصد تک بڑھ گیا۔ اس کے بعد شہباز شریف کے دور (2022–2024) میں ترقیاتی بجٹ 2 تا 3 فیصد ہی رہا، مگر بجٹ خسارہ کم ہو کر 6 تا 7 فیصد پر آ گیا۔ واضح رہے کہ ترقیاتی بجٹ کی مختص کردہ رقم جتنی زیادہ ہوگی، اتنی ہی زیادہ ترقی ہوگی۔ اسی طرح جس قدر بجٹ خسارہ کم ہوگا، اسی قدر ملکی معیشت بہتر ہوگی، یوں کسی حکومت کی کارکردگی کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر بے روزگاری کی شرح کا جائزہ لیں تو یہ ایوب خان کے دور میں تقریباً 2 تا 3 فیصد، یحییٰ خان کے دور میں 3 تا 4 فیصد، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 3 تا 5 فیصد، ضیاء الحق کے دور میں 3 تا 5 فیصد، بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں 5 تا 6 فیصد، نواز شریف کے پہلے دور میں 5 تا 6 فیصد، بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں 5 تا 6 فیصد، نواز شریف کے دوسرے دور میں 6 تا 7 فیصد، پرویز مشرف کے دور میں 5 تا 6 فیصد، پیپلز پارٹی کے دور (آصف علی زرداری بطور صدرِ پاکستان، 2008–2013) میں 6 تا 7 فیصد، نواز شریف کے تیسرے دور میں 5 تا 6 فیصد، عمران خان کے دور میں 6 تا 7 فیصد، جب کہ شہباز شریف کے پہلے اور دوسرے دور میں 7 تا 8 فیصد رہی۔  حکمرانوں کی کارکردگی کے حوالے سے اگر ہم غربت کی شرح کا جائزہ لیں تو صورتِ حال کچھ یوں دکھائی دیتی ہے۔ ایوب خان کے دور میں تقریباً 40 تا 45 فیصد، یحییٰ خان کے دور میں 42 تا 46 فیصد، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 45 تا 50 فیصد، ضیاء الحق کے دور میں 29 تا 35 فیصد، بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں 32 تا 35 فیصد، نواز شریف کے پہلے دور میں 30 تا 34 فیصد، بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں 32 تا 36 فیصد، نواز شریف کے دوسرے دور میں 30 تا 32 فیصد، پرویز مشرف کے دور میں 22 تا 24 فیصد، پیپلز پارٹی کے دور (آصف علی زرداری بطور صدرِ پاکستان، 2008–2013) میں 30 تا 36 فیصد، نواز شریف کے تیسرے دور میں 24 تا 25 فیصد، عمران خان کے دور میں 35 تا 40 فیصد، جب کہ شہباز شریف کے پہلے اور دوسرے دور میں 39 تا 42 فیصد رہی۔  مذکورہ بالا اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جائزے کے مطابق سب سے کم غربت پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں (22 تا 24 فیصد) رہی اور دوسرے نمبر پر نواز شریف کے تیسرے دور میں (24 تا 25 فیصد) رہی، جب کہ سب سے زیادہ غربت ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں (45 تا 50 فیصد) رہی اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر یحییٰ خان کے دور میں (42 تا 46 فیصد) رہی۔ اسی طرح ایوب خان کے دور میں یہ شرح 40 تا 45 فیصد رہی، اگر ہم غربت میں کمی کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں کی کارکردگی کا موازنہ بنگلہ دیش اور بھارت سے کریں تو صورتِ حال کچھ یوں دکھائی دیتی ہے۔1980 میں بنگلہ دیش میں غربت کی شرح تقریباً 55 تا 60 فیصد تھی، جو 1990 میں کم ہو کر تقریباً 45 تا 50 فیصد، پھر 2000 میں 30 تا 35 فیصد، 2010 میں 18 تا 24 فیصد، اور اس کے بعد 2020 میں 5 تا 10 فیصد تک آ گئی۔ عالمی بینک کے تازہ تقابلی اعداد و شمار (2022) کے مطابق نچلے متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے مقررہ بین الاقوامی غربت کی لکیر پر پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 23 فیصد، بھارت میں 5.3 فیصد اور بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد تھی۔  یہ مختصر سا جائزہ بتاتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ غربت بنگلہ دیش میں تھی اور اسی ملک نے سب سے زیادہ تیزی سے غربت میں کمی کی۔ دوسرے نمبر پر بھارت نے بھی غربت میں نمایاں کمی کی، مگر پاکستان میں غربت کی شرح، جو کبھی ان دونوں ممالک سے کم تھی، اس میں کمی کی رفتار نسبتاً سب سے کم رہی۔ مختصر بات یہ ہے کہ ابھی ہمارے نہ صرف منتخب بلکہ غیر منتخب سیاسی رہنماؤں کو بھی عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے مزید ’’ہوم ورک‘‘ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ جو بھی اقتدار میں آئے، وہ اس ضمن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے، جیسا کہ بنگلہ دیش کے حکمرانوں نے اپنی عوام کے لیے کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل