Tuesday, August 04, 2026
 

ابلاغ اور ابلاغِ عامہ (حصہ اول)

 



ڈاکٹر طاہر مسعود ہمہ گیر شخصیت ہیں،وہ ذرائع ابلاغ کے مستند استاد ہیں اور اعلیٰ پائے کے محقق ہیں۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کو کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے ریٹائر ہوئے عرصہ ہوا ،مگر موصوف مسلسل تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے ابلاغ اور ابلاغِ عامہ (نصابی ضرورتوں کے عین مطابق) کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی۔ انھوں نے ابلاغ عامہ اور تحقیق سے متعلق معروف شخصیتوں سے گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل رابطہ رکھا اور ان شخصیات سے بہترین مقالے تحریر کرائے اور ابلاغ عامہ کی تدریس سے وابستہ وہ اساتذہ جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں کے آرٹیکلز اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں، یہ کتاب 550 صفحات پر مشتمل ہے۔  ڈاکٹر طاہر مسعود نے کتاب کا انتساب ہم سب کے استاد پروفیسر زکریا ساجد کے نام کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے حرفِ آغاز کے عنوان سے لکھا ہے کہ ابلاغ اور ابلاغ عامہ کے موضوع پر یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ابلاغ عامہ کی بابت یہ کتاب ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آرہی ہے جب پورا میڈیا ہی نہیں پورا معاشرہ اضطرابی دور سے گزررہا ہے۔ پھر تعمیر و تخریب باہم دست بہ گریباں ہیں اور نہیں کہا جاسکتا کہ اس تصادم اور ٹوٹ پھوٹ کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہ جاننے کے باوجود آج کل کے طلبہ کا رشتہ کتاب سے ٹوٹ چکا ہے لیکن اس خوش گمانی کی بناء پر کتاب اخبار اور رسالہ کا احیاء ضرور ہوگا، اس امید یا خوش گمانی نے ہمیں ابھارا ہے کہ ایک ایسی کتاب ابلاغ عامہ کے موضوع پر ضرور مرتب کی جائے جو طلبہ اور عام قاری کے لیے دلچسپی کا حامل اور مفید ہو۔ ممتاز محقق ڈاکٹر جعفر احمد نے ’’اخبارات و جرائد کا مستقبل کیا ہے ‘‘ کے موضوع پر یوں اظہارِخیال کیا ہے کہ ذرائع ابلاغ بشمول اخبارات و جرائد ایک صنعت تو پہلے ہی بن چکے ہیں ،اب سائنس اور ٹیکنالوجی کے زیر اثر اس صنعت کا کردار اور مزاج ازسرِنو طے ہورہا ہے۔ کئی مصنوعات تیزی سے اپنی جگہ بنارہے ہیں اور پرانی پروڈکشن بازار سے ہٹائی جارہی ہیں، کچھ اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی ہیں۔ ان چیزوں میں زندگی کی حرارت کو بچایا جاسکتا ہے، ان کو بچانا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہاں کا مشہور جریدہ انڈیا ٹوڈے کو اس وقت 8ملین لوگ پڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح ٹائم میگزین گارجین چھپ رہے ہیں اور کئی اور جرائد خود کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مظہر عباس نے ’’لفافہ جرنلزم کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ پاکستان میں سیاست میں بریف کیس اور صحافت میں لفافہ کی اپنی ایک مضبوط تاریخ ہے۔ اس کلچر نے پاکستانی معاشرہ کو بدترین حالت میں پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ صحافت معاشرہ کا عکاس اور آئینہ ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام حقائق اور واقعات کو من و عن پیش کرنا ہوتا ہے۔ وقت بدلتا گیا، سیاست میں بریف کیس کے ساتھ لوٹا کلچر آگیا، صحافت میں بھی لوٹے آگئے۔ ابلاغ عامہ کے استاد ڈاکٹر عرفان عزیز نے اکیسویں صدی میں ابلاغ عامہ کی تعلیم و تحقیق کے موضوع پر لکھا ہے کہ اکیسویں صدی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں نے یونیورسٹی کی سطح پر ابلاغ عامہ کی تعلیم و حریت اور اس کے نصاب کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرور کو مزید نمایاں کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے میڈیا خواندگی کو پرائمری ،سیکنڈری اور کالج کی سطح پر بھی شامل کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔  ڈاکٹر طاہر مسعود نے قومی صحافت میں ایڈیٹر کے ادارہ کے موضوع پر یوں لکھا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں نصف صدی سے اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کا لامتناعی سلسلہ جاری ہو وہاں ایڈیٹر کے ادارہ کا موضوع چھیڑنا خاصا دلچسپی اور معنی خیز ہے۔ دلچسپ اور بامعنی ہونے کے باوجود ستم ظریفی یہ ہے کہ اس اہم موضوع کو سنجیدگی سے غوروفکر کا موضوع ہی نہیں بنایا گیا۔ وہ لکھتے ہیںکہ قیام پاکستان کی تحریک کے وقت قائد اعظم کی اپیل پر نئے اخبارات نکلے۔ کچھ اخبارات مسلم لیگ نے بھی نکالے جس کے ایڈیٹر ملازم تھے۔ ڈاکٹر فاروق عادل نے ’’ابلاغی اضطراب، نظریہ اور اس کا پاکستانی ماڈل ‘‘ کے موضوع پر یوں لکھا ہے کہ جمہوریت کا عدم استحکام ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی وجوہات معاشرہ میں پرورش پانے والے لاتعداد عوامل میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ ان میں ایک اور موثر عنصر ذرائع ابلاغ یا ان کے ذریعہ پھیلنے والے پیغامات بھی ہیں۔ ان کے اثرات اور جنم لینے والے ذہنی رجحانات سے کئی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں۔ صحافت جدید معاشرہ کی ایک موثر قوت ہے جس کے اثرات اور جنم لینے والے ذہنی رجحانات سے نئی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عادل آخر میں لکھتے ہیں کہ پاکستان (اور اس جیسے سیاسی پس منظر رکھنے والے ممالک) ابلاغی اضطراب کے نتیجہ میں اور سیاست دانوں کو مطعون کرنے کے نتیجے میں سیاسی خلاء کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ابلاغی اضطراب کے ذریعے ہی اس کے تاثر کو مزید گہرا کرکے فوج کی شکل میں روشنی جیسی ایک کرن دکھائی جاتی ہے، جسے ترغیب کا نام دیا جاسکتا ہے۔ منتخب حکومت کاخاتمہ کر کے شخصی یا فوجی آمریت قائم کردی جاتی ہے یا ابلاغ اضطراب کے پہلے سے موجود اثرات اس کے خلاف ردعمل کو کمزور یا ختم کردیتے ہیں۔ پاکستان اور اس جیسی دیگر کمزور جمہوریتیں بار بار اسی تجربہ سے گزری ہیں۔ یہی تجربہ اس نظریہ میں ابلاغی اضطراب کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے جو عناصر کی نشاندہی کرتا ہے ان میں ایک سیاسی خلاء ہے اور دوسرا آئینی خلاء سے فائدہ اٹھا کر دی جانے والی ترغیب اور اس کے اثرات کی شناخت کر کے نظریہ ابلاغ اضطراب کا پاکستان ماڈل سامنے آتا ہے۔  وسعت اﷲ خان نے ’’ٹی وی ٹاک شوز ، پس منظر و پیش منظر‘‘ کے موضوع پر اپنا آرٹیکل اس پیراگراف پر ختم کیا ہے، ’’یوں سمجھیے کہ ایک گھنٹے کا ٹاک شو معیشت کا سوفٹ ویئر ہے۔ اینکر اور ٹیکنیکل عملہ طے شدہ معاوضہ پر ملازم ہے۔ سیٹ ایک ہی بار بنتا ہے، مہمان بلا معاوضہ دستیاب ہیں۔ ہر ٹاک شو 24 گھنٹوں میں تین بار نشر مکرر ہوتا ہے۔ پانچ گھنٹوں کے معیشت کے سوفٹ ویئر کو تین سے ضرب دے دیں تو 24 میں سے 15 گھنٹے بھر گئے، باقی رہ گئے 9 گھنٹے تو ان میں ہر گھنٹے بعد ایک نیوز بلیٹن، کبھی کبھی بریکنگ نیوز، لائیو رپورٹنگ، مارننگ شو اور اشتہارات کا ایئر ٹائم جوڑ لیجیے تو بھر گئے نا 24 گھنٹے۔ ‘‘ بی گل نے ’’ٹی وی ڈراما کیسے لکھا جائے‘‘ کے موضوع پر یوں لکھا ہے کہ ڈراما انڈسٹری میں پہہ آست سے کاروباری لوگ اس صنعت سے منسلک ہونے لگے۔ جن کا ڈراما کی صنعت سے تعلق نہ تھا۔ ان کے لیے منافع بخش کاروبار سے بڑھ کر اور کچھ نہ تھا۔ انھوں نے ڈرامے کی کہانی اور Content کو مکمل طور پر ہائی جیک کیا۔  امریکا میں مقیم صحافی جمال محسن امریکا میں اردو صحافت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابتدائی دنوں کی صحافت میں گندی سیاست اور کمیونٹی کی سیاست میں گندی صحافت گڈ مڈ رہی۔ ایک دوسرے کی فیملی کے لیے نازیبا تحریریں ،گروسری اسٹور سے دوسرے گروپ کے اخبارات کو اٹھا کر کچرے میں پھینک دینے کی روش میں چلی۔ کمیونٹی کے معتبر لوگوں کی مدد سے اس رویہ کا خاتمہ ہوا۔ خرم سہیل نے ہماری فلمی صنعت کے امکانات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان روایتی فلمی صنعت غیر معیاری فلموں کی اکثریت، مہنگے سینما تھیٹرز، ناقص اسکرپٹس پر بننے والی پاکستانی فلمیں اور دوسری طرف آدھی قیمت پر ملنے والا عالمی سینما، معیاری فلمیں اور وہ سب کچھ کو کسی فلم بین کو چاہیے ہوتا ہے وہ مل گیا۔ اسٹوڈیو،سینما اور پروڈکشن کمپنیوں کے دفاتر ویران پڑے ہیں۔ مختلف پاکستانی جامعات میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا مستقبل مخدوش ہے۔ (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل