Tuesday, August 04, 2026
 

آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے میں ایران اور عمان کے درمیان بڑی پیش رفت کی تصدیق

 



ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کے مجوزہ معاہدے پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایران کے زیرِ انتظام بحری راستے سے گزریں گے جبکہ خلیج سے باہر آنے والے جہاز عمان کے زیرِ انتظام راستے کو استعمال کریں گے۔ دونوں ممالک بحری سلامتی، رہنمائی اور سمندری ماحول کے تحفظ کی خدمات کے عوض سروس فیس وصول کریں گے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور حتمی معاہدے کی شکل میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔  ایک علاقائی ذرائع نے بتایا کہ اس مجوزہ معاہدے کو ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اگر امریکا ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ دوسری جانب عالمی شپنگ کمپنیوں نے امن مذاکرات کے باوجود محتاط رویہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ بحری ٹریفک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول سے کم ہے جبکہ حالیہ حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث کئی جہاز اب بھی متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ایران، عمان اور دیگر متعلقہ فریق کسی قابلِ قبول معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو نہ صرف عالمی تجارت بحال ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل