Loading
آج پوری رات میں نہیں سو سکی، ٹیلی ویژن کی اسکرین پر سمندر تھا، لہریں تھیں ،چھوٹی چھوٹی کشتیاں تھیں اور ان کشتیوں میں بیٹھے وہ لوگ تھے جن کی آنکھوں میں زندگی کا ایک آخری خواب جھلملا رہا تھا۔ مراکش سے ہزاروں انسان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسپین پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر یہ بھی تھی کہ درجنوں لوگ سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے۔ ان کے نام شاید کبھی کسی فہرست میں درج نہ ہوں، مگر ان کی ماؤں کی آنکھوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اسپین کے ایک عدالتی فیصلے نے یہ امید پیدا کی ہے کہ اگر کوئی سمندر کے راستے اسپین میں داخل ہو تو اس کی سیاسی پناہ کی درخواست کو سنا جا سکتا ہے اور اس کو فوری طور پر واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ امید کبھی کبھی انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں موت منزل سے زیادہ قریب ہوتی ہے، یہ امید ہی تھی جس نے ان لوگوں کو لہروں کے سپرد کر دیا۔
میں سوچتی رہی کہ آخر وہ کون سا دکھ تھا جس نے ایک انسان کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا ،آخر وہ کون سا زخم تھا جس نے اسے اپنے گھر کے دروازے کوآخری بار دیکھنے پر آمادہ کیا، اس نے اپنی ماں کو الوداع کیوں کہا؟ اس نے اپنے بچوں کو یہ کیوں بتایا کہ شاید اگلی ملاقات کسی اور ملک میں ہوگی ۔
ہجرت کبھی صرف فاصلے کا نام نہیں ہوتی۔ ہجرت دراصل انسان کے اندر ایک پورا جہان اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب کوئی اپنے شہر، اپنے قبرستان، اپنے بچپن کی گلیاں ،اپنے موسم اپنے پیارے اور اپنی زبان پیچھے چھوڑ دیتا ہے تو صرف جسم سفر نہیں کرتا ،روح بھی زخمی ہو جاتی ہے۔
ہماری اپنی تاریخ بھی ایسی ہی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت لاکھوں انسانوں نے ہجرت کی کچھ ہندوستان سے پاکستان آئے، کچھ پاکستان سے ہندوستان گئے۔ دونوں طرف ٹرینیں چلتی تھیں مگر ان میں صرف مسافر نہیں ہوتے تھے ،ان میں خواب، خوف، آنسو اور لاشیں بھی سفر کرتی تھیں۔ تاریخ نے سرحدیں کھینچ دیں مگر انسان کے دلوں پر جو گھاؤ لگے وہ آج تک مندمل نہیں ہوئے۔
آج جب مراکش ،سوڈان، شام، فلسطین، افغانستان یا دنیا کے کسی اور خطے سے لوگ اپنا وطن چھوڑتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ کس ملک میں جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک سے کیوں جا رہے ہیں۔
یہ سوال صرف ان حکومتوں سے نہیں ہے جو اپنے شہریوں کو روزگار تعلیم انصاف اور امن دینے میں ناکام رہیں۔ یہ سوال اس عالمی نظام سے بھی ہے جس نے دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیا اور غربت کو کروڑوں انسانوں کی قسمت بنا دیا۔ ایک طرف چند ملکوں کے گودام خوراک سے بھرے ہوئے ہیں ،دوسری طرف لاکھوں بچے بھوکے سوتے ہیں۔ ایک طرف اسلحہ بنانے والی صنعتیں مسلسل منافع کما رہی ہیں، دوسری طرف جنگوں سے اجڑے ہوئے انسان پناہ کی تلاش میں سمندر پار کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ کیسی دنیا ہے، جہاں سرمایہ آزادانہ سفر کر سکتا ہے مگر انسان نہیں جہاں دولت بغیر ویزے کے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتی ہے مگر ایک مزدور کو سرحد پار کرنے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ جہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں افریقہ اور ایشیا کے وسائل سے اربوں ڈالر کماتی ہیں مگر انھی خطوں کے لوگ جب بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ہیں تو ان کے لیے دیواریں خار دار تار اور بندرگاہوں پر مسلح افراد کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔
یہ صرف مراکش کی کہانی نہیں، یہ اس نوآبادیاتی نظام کی کہانی ہے جسے صدیوں تک نوآبادیاتی طاقتوں نے لوٹا جس کے وسائل پر قبضہ کیا جس کی معیشت کو قرضوں غیر مساوی تجارت اور سیاسی مداخلت کے ذریعے کمزور رکھا۔ پھر جب ان ممالک کے نوجوان اپنے لیے زندگی کا ایک موقع تلاش کرنے نکلتے ہیں تو انھیں غیر قانونی درانداز اور بوجھ قرار دے دیا جاتا ہے۔
مجھے ان نوجوانوں کی آنکھوں میں اپنے عہد کے بے شمار چہرے دکھائی دیتے ہیں، وہ کسی مہم جوئی کے لیے نہیں نکلے تھے۔ ان میں سے اکثر صرف اتنا چاہتے تھے کہ ان کے بچوں کو بھوک نہ ملے، انھیں عزت سے روزگار مل جائے اور وہ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ یہ خواہش کوئی جرم نہیں جرم وہ نظام ہے جو کروڑوں انسانوں کو ان بنیادی حقوق سے محروم کر دیتا ہے۔
سمندر نے اس بار پھر کتنے خواب نگل لیے۔ خبریں چند دن چلیں گی ،پھر نئی سرخیاں آ جائیں گی۔ مگر جن گھروں کے بیٹے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے وہاں وقت شاید کبھی آگے نہ بڑھے۔ وہاں ہر دستک پر یہی گمان ہوگا کہ شاید وہ واپس آ گیا ہے جسے سمندر اپنے ساتھ لے گیا۔
دنیا کو ہجرت روکنے کے لیے سمندر میں مزید گشتی کشتیاں نہیں بلکہ دنیا میں انصاف چاہیے۔ تاروں کی باڑ نہیں بلکہ معاشی برابری چاہیے۔ دیواریں نہیں بلکہ ایسا سماج چاہیے جہاں انسان کو اپنا گھر چھوڑنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
میں جانتی ہوں کہ انسان ہمیشہ بہتر زندگی کا خواب دیکھے۔ خواب دیکھنا اس کا حق ہے مگر ایک مہذب دنیا کی ذمے داری یہ ہے کہ خوابوں کی قیمت موت نہ ہو۔
رات ڈھل رہی ہے، ٹیلی ویژن کی آواز مدھم ہو چکی ہے مگر سمندر کی لہریں اب بھی میرے کانوں میں شور کر رہی ہیں۔ ان لہروں کے درمیان مجھے ان ماؤں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں جن کے بیٹے واپس نہیں آئیں گے ،ان بچوں کی بے نور آنکھیں دکھائی دیتی ہیں جو اپنے باپ کا انتظار کرتے رہیں گے اور ان بے نام قبروں کا خیال آتا ہے جو کسی ساحل پر خاموشی سے بن جائیں گی۔
ہجرت خواہ جنگ کی وجہ سے ہو، غربت کی وجہ سے آمریت کی وجہ سے، موسمیاتی تبدیلی کے سبب ہو یا بھوک کے ہاتھوں یہ کبھی جشن کا موضوع نہیں ہو سکتی۔ یہ ہمیشہ ایک اجتماعی ناکامی کی داستان ہوتی ہے۔ جب تک دنیا میں ایسا نظام قائم نہیں ہوتا جہاں انسان کو عزت، روزگار، امن اور انصاف میسر نہ ہو، تب تک سمندر خواب نگلتے رہیں گے اور انسان بھی۔
میں پھر کسی رات جاگنا نہیں چاہتی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل