Tuesday, August 04, 2026
 

نئے صوبوں کی تشکیل اور مخالفت ؟

 



وفاقی وزیر داخلہ کی چھوٹے صوبوں اور چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حوالے سے ایک تقریرنے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ سب سیاسی جماعتیں اس پر تبصرہ کر رہی ہیں۔ لیکن ڈر بھی رہی ہیں۔ پہلی دفعہ احساس ہوا کہ محسن نقوی کا سسٹم میں ایک خوف بھی موجود ہے، ان کو جواب دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسی لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نے اپنے وزارء اور پارٹی کے لوگوں کو براہ راست اس ایشو میں الجھنے سے منع کر دیا ہے۔ماحول کو کشیدہ نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ البتہ پیپلزپارٹی ن لیگ کی نسبت زیادہ شدت سے مخالفت میں سامنے آئی ہے۔ ان کے بیان بھی سخت ہیں۔ اور وہ محسن نقوی کا لحاظ کرتے نظر بھی نہیں آرہے۔ حالانکہ محسن نقوی اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہمیشہ بہتر تعلقات رہے ہیں۔ لیکن اس بار تلخی نظر آرہی ہے۔  اس لیے اگر پچھلے چند دنوں سے جاری چھوٹے صوبوں کی ضرورت پر بحث کا احاطہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی جیسے اہم امور کو مخصوص سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس سوچ کے پیچھے چھپے مثبت عوامل کو جان بوجھ کر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات میں الجھایا گیا ہے۔سیاسی جماعتیں اپنے مخصوص مفادات کو سامنے رکھ رہی ہیں۔ ان کے پاس کوئی ایسی ٹھوس عوامی دلیل نہیں کہ اس سے عوام کو نقصان ہوگا۔ انھیں اپنے سیاسی نقصان کی فکر کھائی جا رہی ہے۔  پچھلے 79 سال سے پاکستان کے عوام ایک ایسے نظام کے تابع ہیں جو شہریوں کی بہتری کے لیے کی جانے والی مسلسل کاوشوں کے باوجود انھیں ریلیف نہیں دے سکا۔ 1972 میں 6 کروڑ آبادی والا ملک آج 25 کروڑ آبادی کے ساتھ انھی چار صوبوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گورننس کے ثمرات عام لوگوں تک نہیں پہنچ رہے۔ہم آبادی پر کنٹرول جیسا مسئلہ بھی حل نہیں کر سکے۔ ہم صوبائی تعصب کو ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکے۔ ہم وسائل کی منصفانہ تقسیم کا کوئی فارمولہ نہیں بنا سکے۔ صوبائی خود مختاری کے چکر میں ہم نے پاکستان کے مرکز کونہ صرف کمزور کر دیا ہے بلکہ کنگال بھی کر دیا ہے۔ این ایف سی کا رونا رونے والی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی صوبائی حکومتوں میں PFC بنانے کے لیے تیار نہیں۔ مرکز سے اختیار ملنے کے بعد انھیں مزید نیچے دینے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی بھی فعال بلدیاتی نظام بنانے کے لیے تیار نہیں۔مضبوط وزیر اعلیٰ کیا اٹھارویں ترمیم کا بنیادی مقصد تھا؟ کیا بلدیانتی نظام کو ختم کرنا اٹھارویں ترمیم کا مقصد تھا؟ فنڈز مرکز سے صوبوں میں آگئے ہیں۔ لیکن نیچے اضلاع اور ڈویژن میں نہیں جا سکے۔وزرء اعلیٰ نے انھیں اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا ہے۔ آئینِ پاکستان جہاں ملک کے رائج نظام میں مطلق اقتدار اور حاکمیت اللہ تعالیٰ کے پاس ہونے کی بات کرتا ہے، وہیں اس کے فوراً بعد عوامی اختیار کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام اختیارات کی عوام تک منتقلی کو ممکن بنا سکا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو تمام سیاسی، ذاتی، مالی، فروعی اور لسانی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے جو آئینِ پاکستان کی اصل روح سے مطابقت رکھتی ہو۔ اپنے آپ کو عوام کی نمایندہ کہلانے والی سیاسی قوتوں کو عوام کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے سوچنا ہو گا۔ کسی بھی مثبت اور تعمیری سوچ کو اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے مسائل کا حل ڈھونڈناہو گا۔ اگر عوام کی بہتری کے لیے بہتر گورننس کی ضرورت ہے تو اسے مخصوص سیاسی ایجنڈے کی خاطر پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔مخصوص سیاسی نعرے عوامی فلاح کے متبادل نہیں ہو سکتے۔ کیا صوبائی خود مختاری اختیارات کی نچلی سطح پر پہنچنے کا متبادل ہو سکتی ہے، نہیں ہر گز نہیں۔ نظام میں مثبت اور تعمیری تبدیلی کسی کی ذاتی خواہش پر منحصر نہیں بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عوامی تائید پہلی شرط ہے۔ اگر پاکستان کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ نئے صوبے بنا کر تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی ہونی چاہیے تو ہمیں ان کی اس رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک بگاڑ کا شکار ہے ۔آج وقت کے ساتھ ساتھ ریاست اور شہری کے باہمی تعلق میں واضح خلا دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کا کوئی نظام نہیں۔ جائز کام کے لیے بھی عوام کو افسر شاہی کے دھکے کھانے پر پڑتے ہیں۔ بڑے بڑے صوبے لوگوں کے لیے ایک عذاب بن گئے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت کے چکر، افسر شاہی کے چکر ، ہر ملازم کا نصیب بن گیا ہے۔ ملک کے دور افتادہ علاقوں میں صحت، تعلیم اور نظام انصاف کے تناظر میں احساس محرومی پروان چڑھا ہے۔لوگ نظام سے تنگ ہیں۔ لوگوں کا غصہ پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔ اس کا حل ہی پاکستان کی بقا ہے۔ ہم کیوں لوگوں کا لاوا پھٹنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے خود ہی مسائل کیوں نہیں حل کرتے۔  25 کروڑ آبادی والے ملک کو چار صوبوں سے چلانا دنیا میں Governance to  population ratio کی ایک بدترین مثال ہے۔دنیا میں کہیں بھی اتنی بڑی آبادی والے صوبے نہیں ہیں۔ ہمارے صوبے آبادی کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ اس بات کو سمجھیں۔ آبادی بڑھ گئی ہے۔ اس لیے انتظامی یونٹ بنانا مجبوری ہے۔ آج گوادر میں بیٹھا ایک عام شہری 910 کلومیٹرکا طویل سفر کر کے کوئٹہ میں اپنے مسائل کے حل کے لیے جانے سے قاصر ہے۔ چترال میں بیٹھا شخص 300 کلومیٹر دور پشاور میں اپنے مسائل کا حل تصور نہیں کر سکتا۔اسی طرح صادق آباد کا کوئی فرد 605 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے لاہور جانے سے گریزاں ہے۔ انھی مسائل کا گھوٹکی میں بیٹھا شخص بھی شکار ہے جو کراچی جانے کے لیے 532 کلومیٹر کا سفر طے کرنے سے پہلے متعدد بار اس سے جڑے اخراجات اور تکالیف کا سوچتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ عوام کو ریاست کے پاس نہیں آنا بلکہ ریاست کو عوام کی جانب جانا چاہیے۔ جو ناقدین اس بیانیے کی ترویج کرتے ہیں کہ مزید صوبے تشکیل دینے سے پہلے ضروری ہے کہ بنیادی انتظامی اصلاحات کی جائیں، انھیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی ان کی مجوزہ اصلاحات کی طرف پہلا قدم ہے۔  پاکستان کی باشعور عوام یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کے بیانیے پھیلانے والے عناصر صرف تنقید برائے تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ عوامی مسائل اور ان کے حل کا ادرک رکھتے ہوئے بھی اپنے مخصوص مفادات کی وجہ سے عوام کو مایوسی اور الجھاؤ کا شکار کرتے ہیں۔چھوٹے انتظامی یونٹس سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری بھی ختم کر دے گا۔ عام آدمی کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ سیاست میں جوابدہی اور احتساب بھی بڑھ جائے گا۔ شائد اسی خوف اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل