Loading
دنیا کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب توپوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی سرگوشیوں کو حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ انھی سرگوشیوں میں جنگ کے امکانات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں اور امن کی امید بھی۔ مشرق وسطیٰ اس وقت ایسے ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں طاقت، سفارت کاری، معاشی مفادات اور جغرافیائی سیاست ایک دوسرے سے اس انداز میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں کہ کسی ایک فریق کا معمولی قدم بھی پوری دنیا کے سیاسی اور معاشی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بظاہر جوہری پروگرام، بحری سلامتی اور علاقائی اثرورسوخ کا تنازع معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ عالمی طاقت کے توازن، توانائی کی منڈیوں اور مستقبل کے علاقائی نظم کی تشکیل کی جنگ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری جانب سخت دھمکیوں، بحری ناکہ بندی، عسکری تیاریوں اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے مخالف فریق کو جھکانے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اسی متضاد حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک جانب وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں معاہدہ ممکن ہے، جب کہ دوسری طرف یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران معاہدہ نہیں کر لیتا یا مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ سفارتی زبان میں اس قسم کے بیانات محض سیاسی اظہار نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد مذاکراتی میز پر نفسیاتی برتری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ واشنگٹن یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس اقتصادی، عسکری اور بحری دباؤ کے تمام ذرائع موجود ہیں، جب کہ تہران کو رعایت حاصل کرنے کے لیے اپنی پوزیشن نرم کرنا ہوگی، تاہم ایسی حکمت ِ عملی ہمیشہ مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرتی، کیونکہ دباؤ بڑھنے کے ساتھ مزاحمت کا جذبہ بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی دعووں کی مسلسل تردید اس کشمکش کا دوسرا رخ ہے۔ تہران یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کو مقدم رکھتے ہوئے صرف انھی اقدامات پر آمادہ ہوگا جو اس کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام پر رابطوں کا ذکر بھی اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ علاقائی معاملات کے حل کے لیے خطے کے ممالک زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایران بار بار اس موقف کو دہرا رہا ہے کہ بیرونی طاقتوں کی مسلسل عسکری موجودگی نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ اس پورے بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے توانائی کے بڑے مراکز اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اگر یہاں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہو تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ سمیت پوری دنیا کی صنعت، تجارت، نقل و حمل اور مہنگائی پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس گزرگاہ کو اپنی مذاکراتی حکمت عملی کا اہم ذریعہ سمجھ رہا ہے، جب کہ امریکا اسے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی سے جوڑ کر پیش کر رہا ہے۔
دراصل دونوں فریق اس آبی راستے کو عسکری تصادم کے بجائے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔حوثی جنگجوؤں کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب کے بڑے تیل بردار جہازوں کا اپنا راستہ تبدیل کرنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ صرف بیانات بھی عالمی تجارت پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج عدن سے لے کر بحرِ عرب تک پورے خطے میں بحری نقل و حرکت نئی احتیاطی حکمت عملی کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ اگر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے دعوے اور امریکی دفاعی نظام کی تیز رفتار توسیع کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سفارت کاری اور عسکری تیاری بیک وقت آگے بڑھ رہی ہیں، جس سے خطے میں غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس ساری صورتحال کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت بھی ہے۔ حیرت انگیز طور پر جیسے ہی ممکنہ امریکا۔ایران معاہدے کی خبریں سامنے آئیں، تیل کی قیمتوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس تنازع کو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ عالمی منڈیوں کے لیے کسی بھی معاہدے کی امید، جنگ کے خدشات سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ استحکام ہی سرمایہ کاری، تجارت اور توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضمانت بنتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے تیل کمپنیوں پر غیر معمولی منافع کمانے کی تنقید بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی بحران اکثر داخلی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتیں کسی بھی حکومت کی عوامی مقبولیت کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی تقاضے ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے بلکہ اکثر ایک دوسرے کی سمت متعین کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی بساط میں ایک اور قابلِ توجہ پیش رفت ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ علاقائی سلامتی اتحاد کی تجویز ہے۔
ایران، ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا تصور بظاہر خطے کی اجتماعی سلامتی کے لیے پیش کیا گیا ہے، لیکن اس تجویز کے پس منظر میں کئی سفارتی اور تزویراتی عوامل کارفرما ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی فوجی قوتوں کی موجودگی میں نہیں بلکہ علاقائی تعاون سے ممکن ہے، اگرچہ اس تجویز کی عملی صورت اختیار کرنا فوری طور پر آسان دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ مسلم دنیا خود سیاسی اختلافات، علاقائی رقابتوں اور متنوع خارجہ پالیسیوں کا شکار ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب علاقائی ریاستیں باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ دے۔
امریکا کی جانب سے دفاعی تیاریوں میں تیزی بھی موجودہ بحران کے ایک اور پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل نظام کی پیداوار میں غیرمعمولی اضافہ محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک واضح تزویراتی پیغام بھی ہے کہ واشنگٹن مستقبل کے ممکنہ خطرات کے لیے اپنی عسکری استعداد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس ایران بھی مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جب دونوں فریق طاقت کے اظہار کو اپنی سفارتی حکمت عملی کا حصہ بنا لیں تو مذاکرات کا ماحول بظاہر موجود ہونے کے باوجود باہمی اعتماد کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے جو کسی بھی معمولی غلط اندازے کو بڑے بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔ امریکی امن منصوبے پر اسرائیل کے تحفظات اور حماس کی مکمل غیر مسلح کرنے کو ناگزیر شرط قرار دینا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ بندی کا حصول اور پائیدار امن کا قیام دو مختلف مرحلے ہیں، اگر بنیادی سیاسی تنازعات، سلامتی کے خدشات اور عوامی حقوق سے متعلق معاملات حل نہ ہوں تو عارضی جنگ بندیاں دیرپا استحکام پیدا نہیں کرتیں۔ غزہ میں جاری حملے اس امر کا ثبوت ہیں کہ میدانِ جنگ کی خاموشی اس وقت تک حقیقی امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک انصاف، سلامتی اور سیاسی حل کے تقاضے بیک وقت پورے نہ کیے جائیں۔
یہی پیچیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو مزید حساس بنا دیتی ہے، کیونکہ ایک محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے محاذوں پر بھی فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ موجودہ حالات اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار سیاسی نتائج نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ معاشی پابندیاں، بحری ناکہ بندیاں، فضائی حملے اور عسکری دباؤ اگرچہ مخالف فریق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن ان کے ذریعے دیرپا امن، سیاسی اعتماد اور علاقائی استحکام حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اسی طرح صرف مزاحمتی حکمت ِ عملی، بحری راستوں پر دباؤ یا عسکری طاقت کے مظاہرے بھی مستقل کامیابی کی ضمانت نہیں بنتے۔ اگر عالمی برادری نے اس نازک مرحلے پر دانشمندی، تحمل اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے بحران کی گرفت میں آ سکتا ہے جس کے اثرات صرف علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی امن سب اس کی زد میں آئیں گے۔ اس کے برعکس اگر سفارت کاری کو عسکری برتری پر فوقیت دی جائے، باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور علاقائی ریاستوں کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی حیثیت دی جائے تو موجودہ کشیدگی ایک نئے توازن، زیادہ موثر علاقائی تعاون اور دیرپا استحکام کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ یہی راستہ خطے کے عوام کی سلامتی، عالمی معیشت کے تحفظ اور مستقبل کے امن کی حقیقی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل