Loading
ملک میں رائج ہائبرڈ نظام کے ایک اہم ستون اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی صاحب نے نئے صوبے بنانے کے لیے منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں دل کی بات کہہ ہی ڈالی کہ موجودہ نظام نہیں چل پارہا، یہ تقریباً collapse کرچکا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک ایسا نظام جو مضبوط اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر استوار نہ ہو، وہ کمزور اور غیر مستحکم ہوتا ہے اور ملک کے تمام دور اندیش حضرات جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ یہ نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا اور یہ کسی وقت بھی collapse کرسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خبر دینے والے صاحب خود بھی تو نظام کے انہدام میں برابر کے ذمّے دار ہیں۔ کیا وہ اپنی ذمے داری قبول کرنے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں گے؟
یہاں پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ کیا موصوف نے اپنی ذمّے داری قبول کی یا صرف خبر دے کر آگے نکل گئے۔ حالانکہ موصوف خود ملک کی داخلی سیکیوریٹی کے انچارج ہیں جب کہ داخلی سیکیوریٹی کے حالات انتہائی دگرگوں ہیں، بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور حکومت کی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ کیا کسی نے کبھی بلوچستان کی genuine قیادت اور وہاں تعیّنات پولیس افسران سے اس بارے میں مشاورت کی گئی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر نظام منہدم ہوچکا ہے تو اس کا حل کیا تجویزکیا گیا ہے؟
نقوی صاحب نے مرض سے نجات کے لیے جو نسخہ تجویز کیا ہے، وہ چار کی بجائے بارہ صوبوں کا قیام ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ کس ’’دواخانے‘‘ کا تیار کردہ نسخہ ہے، مگر ہم اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ گذارش کریں گے کہ اس وقت قوم کی اکثریت دکھی اور زخم خوردہ ہے، ان کے زخموں کو بھرنے اور ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اِس وقت موجودہ صوبوں کی مزید تقسیم قوم کو مزید تقسیم کرے گی اور ان کے زخموں کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گی۔ صوبے ضرور بننے چاہئیں، مگر اس کے لیے نہ یہ وقت مناسب ہے اور نہ ہی یہ حکومت اس کام کے لیے مناسب ہے۔ اگر موجودہ حکومت نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو اس سے یہ بالکل سرے نہیں چڑھے گا بلکہ یہ ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔
اس وقت نئے صوبوں سے زیادہ اہم کام کرنے والے ہیں، جن کے لیے ضروری ہے کہ حکمران طبقات پاکستان کے مفاد کو اپنے مفادات سے زیادہ اہم اور مقدّم سمجھیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹیکسوں اور مہنگائی کی ماری ہوئی قوم کے پاس صرف ایک آئینی حق بچا ہوا ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے اپنے حکمران چُنتے ہیں۔ ان کا یہ حق بھی ان سے چھیننے کی کوشش ہورہی ہے۔ اگر عوام کی تالیفِ قلب درکار ہے تو سب سے پہلے عوام کا حقِ حکمرانی انھیں لوٹایا جائے ۔ ہر سطح پر انتخابات کا انعقاد انتہائی شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاک منعقد کیا جائے جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی ساری سیاسی قیادت کے علاوہ عسکری اور عدالتی قیادت بھی شریک ہو۔ وہاں کھل کر باتیں ہوں، اور کھل کر ایک دوسرے پر تنقید ہو، مگر دو یا تین دن کے اختتام پر تمام شرکاء ملک چلانے کے بنیادی اصولوں پر متفق ہو چکے ہوں۔ ان اصولوں پر عملدرآمد کا عہد مزارِ قائدؒ پر جاکر کیا جائے اور پوری قوم اس کی گواہ ہو۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج سرکاری ادارے اپنا وقار کھو چکے ہیں، پارلیمنٹ irrelevant ہے، عدلیہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، نظام انصاف اپاہج ہوجائے تو انصاف ناپید ہوجاتا ہے۔ اور جب انصاف ملنے کی امید دم توڑ جائے تو پھر شہریوں کا نظام کے ساتھ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ خدارا! یہ رشتہ نہ ٹوٹنے دیں۔ الیکشن کمیشن ، نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر حکومت کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہیں۔ ریاست کا چوتھا ستون یعنی میڈیا پر صرف تعریف وتحسین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسران حکمرانوں کے ذاتی ملازم بن جاتے ہیں، جو حکمرانوں کے کہنے پر ہر قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ ملک کے اکثر حصوں میں بے چینی اور بدامنی کی آگ لگی ہوئی ہے اور ہر روز سیکیوریٹی فورسز کے افسر اور جوان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ملک کے اندر یا باہر سے سرمایہ کاری نہیں ہورہی، سرکاری محکمے زوال کا شکار ہیں اور کرپشن ختم نہیں ہوسکی ہے۔ حرام خوروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں اور پروفیشنلز ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ حکمران طبقات نے یہ حال کردیا ہے قائدؒ کے پاکستان کا۔ یہ ہیں وہ عوامل جن کی بناء پر سسٹم نہیں چل رہا ۔
فوری طور پر نئے صوبوں کا خیال چھوڑیں اور اوپر بتائے گئے امراض کا علاج کیا جائے۔ فوری طور پر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کراکے انھیں بااختیار بنائیں۔ امن صرف قانون کی حکمرانی سے آسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل