Wednesday, August 05, 2026
 

کےفور منصوبہ 86 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود مکمل نہیں ہوپایا، مزید 70 ارب درکار

 



قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے پانی کا کےفور منصوبے میں اب تک 86 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور 40 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے جبکہ مزید 70 روپے درکار ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس ہوا جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن امین الحق نے کے فور منصوبے کی تاخیر پر توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کی، چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے بتایا کہ کے فور منصوبے پر فنڈزکی قلت تھی، اب حکومت سندھ نے بھی 7 ارب 70کروڑ روپے ادا کردیے ہیں اور اس وقت اچھی پیش رفت ہے۔ امین الحق نے کہا کہ بتایا جائے منصوبے پر حقیقت میں کتنی پیش رفت ہے، وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ اس منصوبے  پر 86 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور مزید 70ارب روپے درکار ہوں گے جبکہ 40 فیصد کام ہو چکا ہے۔ وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم کا معاملہ صوبائی حکومت کا کام ہے۔ رکن کمیٹی سید وسیم آفتاب نے کہا کہ کراچی میں ٹینکر مافیا سرگرم ہے، لوگ 8،8 ہزارروپے کے پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ رکن کمیٹی منور تالپور نے کہا کہ کے فور منصوبے کا واٹر سورس صرف کلری جھیل ہے جبکہ کلری جھیل خشک ہوچکی ہے، ایسے میں کراچی کو پانی کہاں سے دیں گے، اتنی بڑی سرمایہ کاری کر کے منصوبہ بنا رہے ہیں، پانی نہ ہوا تو کیا کراچی کے لوگوں کو مٹی پلائیں گے۔ منور تالپور نے کہا کہ کراچی میں ٹینکر مافیا رہے گی تو منصوبہ کیسے مکمل ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل