Loading
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے پانی کا کےفور منصوبے میں اب تک 86 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور 40 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے جبکہ مزید 70 روپے درکار ہوں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس ہوا جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن امین الحق نے کے فور منصوبے کی تاخیر پر توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کی، چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے بتایا کہ کے فور منصوبے پر فنڈزکی قلت تھی، اب حکومت سندھ نے بھی 7 ارب 70کروڑ روپے ادا کردیے ہیں اور اس وقت اچھی پیش رفت ہے۔
امین الحق نے کہا کہ بتایا جائے منصوبے پر حقیقت میں کتنی پیش رفت ہے، وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ اس منصوبے پر 86 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں اور مزید 70ارب روپے درکار ہوں گے جبکہ 40 فیصد کام ہو چکا ہے۔
وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم کا معاملہ صوبائی حکومت کا کام ہے۔
رکن کمیٹی سید وسیم آفتاب نے کہا کہ کراچی میں ٹینکر مافیا سرگرم ہے، لوگ 8،8 ہزارروپے کے پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔
رکن کمیٹی منور تالپور نے کہا کہ کے فور منصوبے کا واٹر سورس صرف کلری جھیل ہے جبکہ کلری جھیل خشک ہوچکی ہے، ایسے میں کراچی کو پانی کہاں سے دیں گے، اتنی بڑی سرمایہ کاری کر کے منصوبہ بنا رہے ہیں، پانی نہ ہوا تو کیا کراچی کے لوگوں کو مٹی پلائیں گے۔
منور تالپور نے کہا کہ کراچی میں ٹینکر مافیا رہے گی تو منصوبہ کیسے مکمل ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل