Thursday, August 06, 2026
 

آئی جی سندھ کا کراچی بار کی قیادت سے ملاقات، وکلاء کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان

 



آئی جی سندھ کی کراچی بار کی قیادت سے ملاقات کے بعد وکلاء نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق ممبر منیجنگ کمیٹی کراچی بار ایسوسی ایشن اشفاق ابڑو پر پولیس تشدد کے خلاف وکلا کے احتجاج کے حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے وکلاء قیادت سے کراچی بار میں ملاقات کی۔ اس موقع پر جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر سمیت ممبر مینجنگ کمیٹی کے اراکین، اے آئی جی آپریشن بشیر اے بروہی، ڈی آئی جنوبی اسد رضا، ایس ایس پی جنوبی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ آئی جی سندھ اور کراچی بار کی قیادت نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا جو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کر لیا گیا۔ بار، بینچ اور پولیس کو اکٹھے ہوکر کام کرنا ہے، تب ہی ریاست آگے چلے گی۔ ذاتیات کو سائڈ پر رکھ کر سسٹم کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ سے بھی میرا رابطہ ہوا میں نے انہیں کہا میرے والد بھی بیرسٹر تھے۔ جو مسئلہ ہوا اس سے تعلقات میں دراڑ نہیں آنی چاہیے۔ وکلاء اور پولیس کے درمیان تصادم پر مستقل حل کے لیے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم سب نے ملکر کام کرنا ہے اسی طرح معاملات آگے بڑھے گیں، ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ پولیس ڈنڈھا اٹھاتی ہے تو بہت ساری غلطیاں بھی کرتی ہیں۔ وکیلوں کے ہاتھ میں قلم ہے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ سنیارٹی کے معاملے پر سیئر وکلا نے سپریم کورٹ میں ہمارا ساتھ دیا، ہم کیس جیت گئے۔ جب کالا کوٹ پہن لیا ہے تو بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کرنا ہوگا، ہمیں ملکر عوام کی خدمت کرنی ہے۔ ہمارے جھگڑے سے عوام کا نقصان ہوگا۔ مستقبل میں پولیس اور وکلا کے درمیان کسی انا کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ جاوید عالم اوڈھو صاحب کی آمد پر مشکور ہوں۔ ہماری درخواست اتنی تھی کہ مقدمہ درج کیا جائے۔ اب آئی جی صاحب خود چل کر آئے ہیں تو ہم مزید ایکشن نہیں لیں گے۔ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک اچھا ریلیشن رکھیں۔ اوڈھو صاحب آپ وکیل کے بیٹے ہیں اور میں پولیس والے کے بیٹا ہوں۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ آپ بڑے ہیں آپ ہمارے پاس آئے، مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ واپس لیتے ہیں۔ ہماری درخواست بس اتنی ہے کہ وکیل تھانے آئے تو عزت سے نوازا جائے۔ کام ہو نہ ہو لیکن عزت ضروری ہے۔ اگر وکیل غلط کرے تو سندھ بار کونسل سے رجوع کریں۔ اپنے وکلاء سے بھی کہوں گا تھانے جائیں تو اپنا رویہ بہتر کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل