Loading
کئی دہائیوں تک سائنس دان اس بات کا مشاہدہ کرتے رہے کہ ہر نئی نسل کے ساتھ ذہانت یا آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ’فلن ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں مختلف ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والی تحقیقات نے ایک نیا رجحان سامنے لایا ہے، جس کے مطابق بعض نوجوانوں کے آئی کیو ٹیسٹ اسکورز میں کمی یا جمود دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اس رجحان کو ’ریورس فلن ایفیکٹ‘ کا نام دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی کیو ٹیسٹ دراصل انسانی ذہنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وقت کے ساتھ ذہانت پر مختلف عوامل کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ معروف سائنسی جریدے ’انٹیلیجنس‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی یہی رجحان سامنے آیا، تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ انسان فطری طور پر کم ذہین ہوتے جا رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق انسانی جینیاتی ساخت میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جو ذہانت میں کمی کی وجہ بنے۔ ماہرین کے نزدیک اصل مسئلہ ماحول، تعلیمی نظام، طرزِ زندگی اور معاشرتی تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جس طرح ماضی میں بہتر غذائیت، معیاری صحت کی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی نے آئی کیو اسکور میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی طرح موجودہ دور کی بعض عادات اور حالات ذہنی کارکردگی پر مختلف انداز سے اثر ڈال رہے ہیں۔
امریکا، برطانیہ، ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈ سمیت کئی ممالک میں کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان نسل کے بعض ذہانت کے ٹیسٹوں میں حاصل ہونے والے نتائج یا تو ایک حد پر آ کر رک گئے ہیں یا ان میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ متعدد عوامل مل کر اس صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔
تحقیقی ماہرین کے مطابق تعلیمی نظام میں آنے والی تبدیلیاں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر بڑھتا ہوا انحصار، کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کمی، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے توجہ کا منتشر ہونا، سماجی و معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی آلودگی اور بعض صحت سے متعلق مسائل ذہنی کارکردگی کو متاثر کرنے والے ممکنہ عوامل میں شامل ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روایتی آئی کیو ٹیسٹ انسان کی صرف چند مخصوص ذہنی صلاحیتوں، جیسے ریاضیاتی استدلال، یادداشت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ تخلیقی سوچ، جذباتی ذہانت، عملی مہارتوں یا روزمرہ زندگی میں فیصلے کرنے کی صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ رجحان دنیا کے تمام ممالک میں یکساں نہیں۔ بعض ممالک میں آئی کیو اسکورز اب بھی مستحکم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کا تعلیمی نظام، سماجی پالیسیاں اور بچوں کی پرورش کے بہتر طریقے ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید طویل المدتی تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ان کے مطابق اگر تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جائے، بچوں کی ابتدائی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جائے اور سماجی و معاشی مسائل میں کمی لائی جائے تو آئندہ نسلوں کی ذہنی استعداد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل