Loading
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں ملوث تین ملزمان کی شناخت ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کو پولیس ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق واردات میں ملوث تینوں شوٹرز کی شناخت ارسلان جٹ، سکندر اور ذیشان کے ناموں سے ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم ارسلان جٹ دونوں شوٹرز کو گاڑی میں لاہور لایا جبکہ سکندر اور ذیشان نے کلینک میں داخل ہو کر عبداللہ طاہر کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم ارسلان جٹ اور دونوں شوٹرز واردات کے بعد علاقہ غیر فرار ہو گئے ہیں اور تاحال سی سی ڈی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ڈی کی ایک خصوصی ٹیم وزیرستان میں موجود ہے اور مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق کیس میں عبداللہ طاہر کے ڈرائیور اصغر کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کرنے والی ٹک ٹاکر ماریہ، جو فیصل آباد کی رہائشی بتائی جاتی ہے وہ بھی ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ خاتون نے ڈرائیور سے دوستی کرکے عبداللہ طاہر کی نقل و حرکت اور دیگر معلومات حاصل کیں اور یہ معلومات مبینہ طور پر شوٹرز تک پہنچائیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ٹک ٹاکر ماریہ سمیت مرکزی ملزم اور دونوں شوٹرز کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول عبداللہ طاہر کو نارووال میں ریت کا ٹھیکہ لینے سے باز رہنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ طاہر اور ذوالفقار مہیس کو کی گئی دھمکی آمیز آڈیو کال کی ریکارڈنگ تفتیشی ٹیم کو مل گئی ہے۔
ریکارڈنگ کے مطابق عبداللہ طاہر کے منیجر احمد اور ذوالفقار مہیس کو علی حسن بٹ نامی شخص نے فون کر کے نارووال میں ریت کا ٹھیکہ نہ لینے کی تنبیہ کی۔
ذرائع کے مطابق کال کرنے والے نے خود کو زمان عرف کوگی بٹ کا آدمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نارووال میں ریت کا ٹھیکہ صرف زمان کوگی بٹ ہی چلائے گا۔
آڈیو کال میں مبینہ طور پر یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر ٹھیکے کے لیے بولی دی گئی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، حتیٰ کہ بچوں کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ذوالفقار مہیس، پی ٹی آئی رہنما سجاد مہیس کے بھائی ہیں، جبکہ سجاد مہیس اور عبداللہ طاہر کے درمیان پارٹی وابستگی کی بنیاد پر قریبی دوستی تھی۔
پولیس آڈیو ریکارڈنگ سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں قتل کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل