Loading
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نا ہونے کے تنازع پر وزیر اعظم اور صدر کو سیکرٹریز کے ذریعے کل کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری منظوری نا ہونے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے گئے۔ عدالت نے وزارت قانون کو بھی کل کے لیے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل تک جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سمری کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے؟۔
درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے زائد آصف چوہدری نے کیس کی پیروی کی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ آپ کی کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسے لگتا ہے وفاقی حکومت کو اس متعلق کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سمری کس اسٹیج پر ہے؟ آپ کو کچھ معلوم ہے؟ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی وہ بھی رک چکی ہے۔
ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس طرح سمری کو رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا، پہلے تو 15 دن نہیں ہوئے تھے اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔
وکیل زاہد آصف چوہدری نے دلائل دیے کہ آئین بڑا واضح ہے جب وقت گزر جائے تو کیا ہوگا، صدر اس طرح سمری کو رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ صدر اب تو سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ صدر کے اختیار کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے ابھی وفاقی حکومت تو بتائے اس نے 15 دن گزارنے کے بعد کیا کیا ہے؟ ہمارے اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے تعینات ہونے والے ججز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت سے کل تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل