Monday, August 10, 2026
 

بھارت میں سیکیورٹی گارڈ کی طالبہ سے زیادتی؛ گرفتاری کے بعد کان پکڑ اٹھک بیٹھک

 



بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی 23 سالہ طالبہ سے زیادتی کے الزام میں سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کرلیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے بتایا کہ واقعہ 8 اگست کی رات پیش آیا جب متاثرہ طالبہ عمارت کی چھت پر موجود تھی جہاں مبینہ طور پر سیکیورٹی گارڈ دھرم سنگھ اس کے پاس پہنچا اور زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ طالبہ کی جانب سے مزاحمت پر ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گلے میں تار لپیٹ کر اسے قابو کرنے کی کوشش کی جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔ سفاک سیکیورٹی گارڈ نے طالبہ کا موبائل فون بھی چھین لیا اور متاثرہ لڑکی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں چھت پر چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ متاثرہ طالبہ نے جب چھت کا دروازہ بند پایا تو اس نے مدد کے لیے شور مچایا جس پر پڑوسی موقع پر پہنچے اور اسے وہاں سے نکالا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مقامی پولیس اور کرائم برانچ کی متعدد ٹیموں نے تحقیقات شروع کردیں۔ عمارت اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لے کر ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ تفتیش کے دوران سامنے آیا کہ ملزم رات تقریباً 7 بج کر 22 منٹ پر لفٹ کے ذریعے عمارت کی پانچویں منزل پر پہنچا اور کچھ دیر بعد چھت کی جانب گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد اسے عمارت سے باہر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دھرم سنگھ کو اگلی صبح ہیبت پور کے قریب سے گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو قانونی کارروائی کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر حراست سے فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس انسپکٹر کی سرکاری پستول چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران ملزم اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس میں ایک کانسٹیبل بھی زخمی ہوگیا جب کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک گولی ملزم کی ٹانگ میں لگی جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھیننے اور فرار ہونے کی مبینہ کوشش پر ملزم کے خلاف الگ مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔ اسپتال میں زیر علاج ملزم نے پولیس سے معافی مانگتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر دوبارہ ایسا عمل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم پولیس نے اسے حراست میں رکھتے ہوئے قانونی کارروائی جاری رکھی ہے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ دھرم سنگھ کو مذکورہ سیکیورٹی ایجنسی نے واقعے سے صرف چار روز قبل گارڈ کی حیثیت سے تعینات کیا تھا اور اس کے پاس مطلوبہ رجسٹریشن بھی موجود نہیں تھا۔ پولیس کے بقول ملزم گزشتہ چار برس سے احمد آباد میں مقیم تھا اور اس سے قبل مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں میں کام کرچکا ہے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل