Loading
شہر قائد کے ضلع وسطی میں لیاری گینگ وار کے صمد کاٹھیا واڑی گروپ نے بھتہ نہ دینے پر مٹھائی کی دکان پر فائرنگ کی جس میں پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لیاری گینگ وار کے بھتہ خور صمد کاٹھیاواڑی کے کارندوں نے مٹھائی کی دکان پر فائرنگ کر کے پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 3 افراد کو زخمی کر دیا جبکہ اندھا دھند فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر کرائم سین یونٹ کو طلب کیا اور شواہد اکھٹے کرلیے۔ پولیس کے مطابق واقعہ نیو کراچی کے علاقے سیکٹر الیون جی میں قائم مٹھائی کی دکان پر پیش آیا۔
جہاں موٹر سائیکل سوار ملزمان اندھا دھند فائرنگ کر کے موقع سے فرار ہوگئے ، فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے سرکاری و نجی اسپتال لیجایا گیا جہاں زخمی پولیس اہلکار کی شناخت محمد تابش علی کے نام سے کی گئی جو پیٹ کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوا اور اسے آغا خان اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
فائرنگ کی زد میں آکر زخمی راہگیروں میں شامل خاتون کو نسرین اور ذاکر کے نام سے شناخت کیا گیا جنھیں عباسی شہید اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
فائرنگ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد حاصل کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کیا۔ اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا زاہد لودھی نے بتایا کہ رواں سال 17 مئی کو لیاری گینگ وار صمد کاٹھیا واڑی بھتہ خور گروپ نے مٹھائی کی دکان کے مالک سے 50 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا جس کا مقدمہ پولیس نے درج کر کے دکان پر ایک پولیس اہلکار کو تعینات کیا ہوا تھا جو کہ فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون کو گولی نہیں لگی وہ بھگدڑ کے باعث گرنے سے زخمی ہوگئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں صمد کاٹھیا واڑی گروپ کے موٹر سائیکل سوار 2 کارندے ملوث ہو سکتے ہیں جنھوں نے بھتہ نہ دینے پر دکان پر فائرنگ کی او رموقع سے فرار ہوگئے۔
ایس ایچ او کے مطابق پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 3 خول ملے ہیں ، ابتدائی معلومات کے مطابق فائرنگ کرنے والوں نے ہلمٹ اور چہرے پر ماسک لگائے ہوئے تھے تاہم پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر رہی ہے تاکہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکے جبکہ اس حوالے سے مقدمہ بھی درج کیا جارہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل