Tuesday, August 11, 2026
 

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا دفاعی معاہدہ، اسرائیل نے خطرناک پیشرفت قرار دے دیا

 



پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے پر اسرائیلی حکومت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک اہم اور خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے امورِ تارکین وطن نے مکہ میں طے پانے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت اسرائیل کے لیے انتہائی پریشان کن اور اس کے ممکنہ نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے دفاعی معاہدہ موجود ہے، تاہم اب ترکیے کی شمولیت نے اس انتظام کی نوعیت تبدیل کردی ہے۔ ان کے بقول اسرائیل اور ترکیے کے درمیان متعدد معاملات پر براہِ راست اختلافات موجود ہیں، اس لیے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دو روز قبل سعودی شہر مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کی اہم شق کے مطابق اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ کیا جاتا ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کے تحت کسی ایک ملک کو لاحق بڑے سکیورٹی خطرے کی صورت میں دیگر دونوں ممالک بھی اس صورتحال کو مشترکہ دفاعی معاملہ سمجھیں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس سے قبل بھی دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا تھا۔ نئے معاہدے میں ترکیے کی شمولیت سے اس دفاعی تعاون کو تین ملکی شکل مل گئی ہے، جسے علاقائی سکیورٹی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے تینوں ہی مسلم دنیا کے اہم ممالک ہیں اور ان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ترکیے اور اسرائیل کے درمیان موجود سیاسی اور سفارتی اختلافات بھی سمجھے جا رہے ہیں۔ غزہ کی صورتحال اور خطے کی مجموعی سیاست پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیر نے اسی تناظر میں مکہ معاہدے کو "خطرناک اور پریشان کن پیش رفت" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے مستقبل میں اسرائیل کے لیے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ دوسری جانب معاہدے میں شامل تینوں ممالک نے اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد قرار نہیں دیا بلکہ باہمی دفاع اور علاقائی سلامتی کے تعاون کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کی اصل اہمیت اس کے عملی نفاذ، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور مستقبل میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر پڑنے والے اثرات سے واضح ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل