Loading
ایک وقت تھا جب گھر کے دو چار فون نمبر ذہن میں محفوظ ہوتے تھے۔ آج ہمیں اپنے بعض قریبی لوگوں کے فون نمبر بھی یاد نہیں۔کیا ہماری یادداشت کمزور ہوگئی ہے؟پہلے راستے یاد کیے جاتے تھے، اب گوگل میپ راستہ بتاتا ہے۔ پہلے حساب ذہن میں کیا جاتا تھا، اب کیلکولیٹر موجود ہے۔ پہلے لغت کھولی جاتی تھی، اب گوگل ترجمہ کر دیتا ہے۔
اور اب تو ایک نئی طاقت، یعنی اے آئی ، ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اے آئی ، صرف نمبر محفوظ نہیں کرتا بلکہ ہمارے سوالوں کے جواب دیتا ہے، مضامین لکھتا ہے، خلاصہ تیار کرتا ہے، ترجمہ کرتا ہے، مشکل تصورات (Concepts) سمجھاتا ہے، پریزنٹیشن تیار کرتا ہے، کوڈ لکھتا ہے، بلکہ بعض اوقات ہمارے سوال پوچھنے سے پہلے ہی اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمیں کیا چاہیے۔یہ سہولت حیران کن ہے لیکن اگر مشین ہمارے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرتی گئی تو پھر ہمارا دماغ کیا کرے گا؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔آج کا بچہ انسانی تاریخ کے ایک عجیب ترین دور میں پیدا ہوا ہے۔ اس کے والد کو کسی موضوع پر معلومات حاصل کرنے کے لیے لائبریری جانا پڑتا تھا، جب کہ اسے صرف ایک سوال لکھنا ہوتا ہے۔
اس کی والدہ کھانا پکانے کا طریقہ معلوم کرنے کے لیے پڑوس کی خاتون سے پوچھتی تھیں، مگر وہ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی ریسپیز دیکھ سکتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معلومات بڑھنے کے ساتھ ذہنی محنت لازماً نہیں بڑھتی۔ہم اپنے ذہنی کام کا ایک حصہ بیرونی ذرائع کے حوالے کر دیتے ہیں۔کیلکولیٹر کو حساب دے دیا۔GPS کو راستہ یاد رکھنے کا کام سونپ دیا۔موبائل کو فون نمبرز محفوظ کرنے کی ذمے داری دے دی۔کیلنڈر کو تاریخیں یاد رکھنے کا کام دے دیااور اب اے آئی ،کو سوچنے، لکھنے اور جواب دینے جیسے بے شمار کام سونپے جا رہے ہیں۔مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی آلہ ہماری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے بجائے اس کی جگہ لینے لگے۔
ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی ورزش درکار ہوتی ہے۔ہم جسم کو ورزش دیتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ استعمال سے جسم مضبوط رہتا ہے جب کہ دماغ کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔اے آئی ،سے کسی چیز کو سمجھ لینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ’’سمجھ آگئی‘‘ اور ’’میں اسے اپنے الفاظ میں بیان کر سکتا ہوں‘‘ ایک ہی بات نہیں۔
اگر ہم اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس طرح کریں کہ اے آئی ،استاد کی طرح سوال کرے، طالب علم کو جواب دینے پر مجبور کرے، غلطی کی نشاندہی کرے اور پھر فیڈبیک (Feedback) دے تو وہ سیکھنے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن اگر اے آئی ، ہر سوال کا تیار جواب فراہم کر دے اور طالب علم صرف اسے پڑھتا رہے تو ممکن ہے کہ اسے سیکھنے کا احساس تو ہو، مگر اس کی سیکھنے کی صلاحیت اتنی مضبوط نہ ہو۔
2025ء میں شائع ہونے والی ایک کنٹرولڈ تحقیق میں طلبہ کا Retention Test لیا گیا۔ اس میں طلبہ کو ChatGPTاستعمال کرنے والے گروپ اور روایتی تدریسی طریقے سے پڑھنے والے گروپ میں تقسیم کیا گیا۔ نتائج کے مطابق ChatGPTگروپ کا اوسط اسکور 57.5 فیصدجب کہ روایتی تدریسی گروپ کا 68.5 فیصدرہا۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کتاب اب پرانی چیز بن چکی ہے۔ یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ کتاب کھولنے کے بجائے اے آئی ،سے پوچھ لیا جائے، نوٹس بنانے کے بجائے اے آئی ،سے خلاصہ تیار کروا لیا جائے، مضمون لکھنے کے بجائے اے آئی ،سے مضمون لکھوا لیا جائے اور آخر میں اسے پڑھ کر جمع کرا دیا جائے۔کام ختم۔
مگر تعلیم صرف کام مکمل کرنے کا نام نہیں۔تعلیم دراصل انسان کے اندر صلاحیت پیدا کرنے کا نام ہے،اگر ایک طالب علم خود مضمون لکھتا ہے تو وہ صرف مضمون نہیں لکھ رہا ہوتا بلکہ الفاظ منتخب کر رہا ہوتا ہے، خیالات کو ترتیب دے رہا ہوتا ہے، دلیل قائم کر رہا ہوتا ہے، غلطیاں کر رہا ہوتا ہے اور پھر انھیں درست بھی کر رہا ہوتا ہے۔اگر وہ ہر مرتبہ اے آئی ،سے مکمل مضمون لکھوا لیتا ہے تو شاید اسے بہتر مضمون مل جائے، مگر یہ ضروری نہیں کہ اس کی اپنی تحریری صلاحیت (Writing Skill) بھی اسی رفتار سے بہتر ہو۔اسی لیے اے آئی ،کے دور میں کتاب اور قلم شاید پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو جائیں۔
ممکن ہے کہ اگر AI کا استعمال Cognitive Offloading کو بہت زیادہ بڑھا دے اور Retrieval Practice کو کم کر دے تو سیکھنے اور یادداشت کی بعض اقسام ضرور متاثر ہوںتاہم اس بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اب ہمیں اے آئی ،کو جواب دینے والا نہیں، سوال پوچھنے والا بنانا چاہیے۔ہم اپنے بچوں کو AI سے ایک مختلف انداز میں کام لینا سکھا سکتے ہیں۔مثلاً ایک طالب علم اے آئی ،سے کہے کہ
’’مجھے اس باب کے پانچ سوالات دو، مگر جواب نہ بتاؤ۔ میں پہلے خود جواب دوں گا۔‘‘
’’میرے جواب کو چیک کرو اور صرف غلطیاں بتاؤ۔‘‘
اس کے علاوہ ہمیں اپنے بچوں کو ایک بنیادی فرق سمجھانا ہوگا کہ جو کام مشین بہتر کر سکتی ہے، وہ مشین سے کراؤ لیکن جو صلاحیت تمہیں خود پیدا کرنی ہے، اسے مشین کے حوالے مت کرو، اے آئی ،سے معلومات لو، مگر سوچ خودو، اے آئی ،سے فیڈبیک لو، مگر پہلا جواب خود دو، اے آئی ،سے مشکل تصور سمجھو، مگر پھر کتاب بند کرکے اسے اپنے الفاظ میں بیان کرو۔ اسی طرح اے آئی ،سے کوئز بنواؤ، مگر جواب خود دو۔
واضح رہے کہ ہم ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو اے آئی کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر پہلے سے زیادہ تخلیقی، زیادہ باخبر اور زیادہ ذہین بنے،ہمیں ایسی نسل تیار نہیں کرنی چاہیے جو ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے کسی بیرونی نظام پر انحصار کرنے لگے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم اے آئی ،کو استعمال کرنا سکھا رہے ہیں یا اے آئی ،پر انحصار کرنا؟
ہمیں بچوں کو سمجھا نا چاہیے کہ ہر سوال کا فوری جواب مل جانا ہی کامیابی نہیں۔کبھی کبھی سوال کے ساتھ کچھ دیر بیٹھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔کبھی غلط جواب دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔کبھی مشکل کتاب پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے،کبھی کیلکولیٹر کے بغیر حساب کرنا بھی ضروری ہوتا ہے،کبھی راستہ خود یاد رکھنا بھی ضروری ہوتا ہیاور کبھی اے آئی ،کو بند کرکے خاموشی میں سوچنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ انسان کا دماغ صرف معلومات کا ذخیرہ (Storage) نہیں بلکہ یہ سوال کرنے، تعلقات قائم کرنے، تجربے سے سیکھنے، غلطیوں سے سبق لینے اور نئی چیز تخلیق کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں سمجھدار والدین اپنے بچوں سے یہ نہیں پوچھیں کہ ’’تمہیں کتنے حقائق (Facts) یاد ہیں؟‘‘ بلکہ وہ پوچھیں کہ’’جب اے آئی ،تمہارے سامنے موجود نہ ہو تو تم کیا کر سکتے ہو؟‘‘اور شاید یہی آنے والے دور کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
موبائل نے ہمیں فون نمبر بھلا دیے،GPS نے کئی راستے ہمارے ذہن سے نکال دیے۔ کیلکولیٹر نے بہت سے حساب ہمارے ہاتھ سے لے لیے۔اب اے آئی ،ہمارے لیے لکھ بھی سکتا ہے، سوچنے میں مدد بھی کر سکتا ہے اور جواب بھی دے سکتا ہے۔لیکن ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کون سا کام مشین کے حوالے کرنا ہے اور کون سا کام اپنے دماغ کے لیے محفوظ رکھنا ہے کیونکہ اگر ہم نے اپنے بچوں کو صرف یہ سکھایا کہ اے آئی ، سے ہر کام کیسے کروانا ہے؟تو شاید وہ آنے والے وقت کے بہترین AI Usersتو بن جائیں، مگر ضروری نہیں کہ بہترین Thinkers یعنی باشعوربھی بن سکیں۔
اے آئی ، ہمارے ہاتھ میں ہے، لیکن یہ فیصلہ ہمارے دماغ کو کرنا ہے کہ اسے ہمارا معاون بنانا ہے یا ہمارا متبادل۔آئیے غور کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل