Tuesday, August 11, 2026
 

ریاست کا سب سے بڑا امتحان

 



کبھی کبھی ایک خبر اخبار کے ایک کونے میں چھپتی ہے چند سطریں ہمارے سامنے سے گزرتی ہیں اور ہم اگلے صفحے پر چلے جاتے ہیں، لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھنے کے بعد دل کے کسی گوشے میں ٹھہر جاتی ہیں، ہم انھیں بھولنا چاہیں بھی تو نہیں بھول سکتے، رضا میر کا قتل بھی ایسی ہی ایک خبر ہے۔ رضا میر جو انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن یعنی آئی بی اے سے تعلیم یافتہ تھا ،ایک ایسا نوجوان جس کے سامنے زندگی کا ایک طویل سفر موجود تھا۔ تعلیم ،خواب، امکانات، رشتے ،دوست، مستقبل اور وہ تمام چھوٹی بڑی امیدیں جو ایک انسان اپنے دل میں لے کر گھر سے نکلتا ہے، مگر ایک دن وہ گھر واپس نہیں آیا۔ ایک خاندان کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ جس اولاد کو انھوں نے زندگی کے سفر کے لیے تیار کیا جس کی تعلیم کے لیے برسوں محنت کی جس کے مستقبل کے خواب دیکھے وہ اچانک ان حالات کا شکار ہوجائے جس کا سامنا کسی شہری کو نہیں کرنا چاہیے،لیکن رضا میر کا قتل صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں ہے، یہ ہم سب کے لیے ایک سوال ہے، وہ سوال یہ ہے کہ ریاست کا سب سے بنیادی فرض کیا ہے۔ ریاستیں آئین بناتی ہیں، پارلیمان قائم کرتی ہیں ،بجٹ پیش کرتی ہیں، سڑکیں بناتی ہیں، عمارتیں تعمیر کرتی ہیں، ترقی کے اعداد و شمار جاری کرتی ہیں اور ہر چند سال بعد عوام سے ووٹ مانگتی ہیں، لیکن ان تمام ذمے داریوں سے پہلے ایک بنیادی ذمے داری ہے، اپنے شہریوں کی جان مال عزت اور آزادی کی حفاظت۔ اگر ایک شہری اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچنے لگے کہ شاید وہ واپس نہ آئے اگر ماں اپنے بیٹے کے موبائل کی گھنٹی بجنے پر خوفزدہ ہوجائے ،اگر باپ اپنے بچوں کو شہر میں سفر کرتے دیکھ کر مسلسل بے چینی میں مبتلا رہے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ریاست کی ترقی کے ہمارے تمام دعووں کی حقیقت کیا ہے۔ شہر صرف بلند عمارتوں وسیع شاہراہوں اور روشن بازاروں کا نام نہیں۔ شہر وہ جگہ ہے جہاں انسان کو اپنے مستقبل پر یقین ہونا چاہیے۔ کراچی ایک ایسا شہر ہے جس نے لاکھوں انسانوں کو اپنے اندر جگہ دی۔ یہاں ملک کے مختلف علاقوں زبانوں ثقافتوں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کی امید میں آئے۔ اس شہر نے سب کو کچھ نہ کچھ دیا لیکن بدلے میں شہر کے باسیوں کو سب سے کم جو چیز مل سکی وہ ہے تحفظ۔  ہم نے کراچی میں جرائم کو معمول سمجھنا شروع کردیا ہے۔ موبائل چھن جانا، موٹر سائیکل چھن جانا، مزاحمت پر زخمی ہونا، گولی چل جانا، کسی نوجوان کا قتل ہوجانا ،یہ سب اب ہماری اجتماعی یادداشت میں ایسے واقعات بن گئے ہیں، جن پر چند دن غم ہوتا ہے ،کچھ بیانات جاری ہوتے ہیں، پولیس کارروائی کا اعلان کرتی ہے اور پھر زندگی معمول پر آجاتی ہے۔ اس خاندان کا معمول کبھی واپس نہیں آتا جس کا بیٹا قتل ہوجائے۔ اس باپ کی زندگی معمول پر نہیں آتی جس نے اپنے جوان بیٹے کو قبر میں اتارا ہو۔اس ماں کی راتیں معمول کی راتیں نہیں رہتیں جسے معلوم ہو کہ اس کا بچہ محض اس لیے مارا گیا کہ شہر اس کے لیے محفوظ نہیں تھا۔ ہم جرائم کو اعداد میں تبدیل کرکے شاید اپنے ضمیر کو مطمئن کرلیتے ہیں۔ اتنے افراد گرفتار ہوئے، اتنے مقدمات درج ہوئے، اتنے ملزمان گرفتار کیے گئے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے ،ایک گھر ہوتا ہے، ایک ماں ہوتی ہے، ایک باپ ہوتا ہے، دوست ہوتے ہیں ،خواب ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے بکھر جاتے ہیں۔ ریاست صرف اس وقت نہیں ہوتی جب ٹیکس وصول کیا جائے۔ ریاست صرف اس وقت بھی نہیں ہوتی جب پولیس کسی احتجاج کو روکنے کے لیے سڑک پر کھڑی ہو۔ ریاست صرف اس وقت بھی نہیں ہوتی جب حکمرانوں کے قافلے سڑکوں سے گزریں۔ ریاست اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے جب ایک عام شہری بے بس ہو۔ ریاست کا اصل امتحان اس مقام پر شروع ہوتا ہے۔ جب اسے لوٹا جارہا ہو، جب اس پر حملہ ہورہا ہو ،جب اس کے شہریوں کی جان خطرے میں ہو جب اسے انصاف چاہیے ہو۔ ریاست کی طاقت کا اندازہ اس بات سے نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مخالف کو کتنی جلد گرفتار کرسکتی ہے بلکہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ وہ ایک عام شہری کو کتنا محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہاں ایک اور تلخ سوال سامنے آتا ہے۔ کیا ہماری ریاست میں تحفظ فراہم کرنا بھی طبقاتی ہوگیا ہے۔ جو لوگ اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے گرد حفاظتی حصار بنا سکتے ہیں، وہ شاید نسبتاً محفوظ ہوں۔ جن کے پاس محافظ ہیں، ان کے لیے شہر کی سڑکیں مختلف ہیں لیکن جس کے پاس صرف ایک موٹر سائیکل ہے، ایک موبائل فون ہے اور گھر واپس پہنچنے کی خواہش ہے، اس کے لیے یہ شہر کچھ اور ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان ہے جہاں دولت مند اپنے لیے محفوظ رہائشی بستیاں بناتے ہیں، نجی محافظ رکھتے ہیں، گاڑیوں کے شیشے بند رکھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں ایک عام شہری شام کے بعد سفر کرتے ہوئے اپنے موبائل فون اور اپنی جان دونوں کے بارے میں سوچتا ہے۔یہ صرف جرائم کا مسئلہ نہیں یہ سماجی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ ایک مہذب سماج اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ اس کے کمزور ترین شہری کی زندگی کتنی محفوظ ہے، اگر تحفظ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اسے خرید سکتے ہیں تو پھر ہم ریاستی ذمے داری کو بازار کے حوالے کرچکے ہیں، اگر انصاف بھی دولت تعلق اثر و رسوخ اور شہرت کے حساب سے تقسیم ہونے لگے تو ریاست کا بنیادی تصور ہی کمزور ہوجاتا ہے۔  رضا میر کا قتل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کس طرح کا مستقبل دے رہے ہیں۔ ہم انھیں بہترین تعلیم حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔ محنت کرنے کو کہتے ہیں۔ اپنے ملک میں رہنے اور ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کو کہتے ہیں لیکن جب وہ تعلیم مکمل کرکے زندگی کی دوڑ میں قدم رکھتے ہیں تو کیا ہم انھیں ایک محفوظ سماج دے پاتے ہیں ۔ایک نوجوان صرف ایک فرد نہیں ہوتا۔ وہ ایک خاندان کی امید ایک سماج کے مستقبل کا حصہ ہوتا ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک قاتل کو گرفتار کرلینا کافی نہیں۔ انصاف صرف گرفتاری کا نام نہیں۔ انصاف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب قانون بلاامتیاز حرکت کرے مقدمہ شفاف ہو مجرم کو سزا ملے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں آیندہ کسی اور کے گھر کا چراغ اس طرح نہ بجھے۔ ہم اکثر بڑے بڑے قومی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ معیشت سیاست انتخابات آئی ایم ایف ترقی سرمایہ کاری اور عالمی طاقتوں کے تعلقات۔ یہ سب اہم ہیں لیکن ان تمام سوالوں میں ایک سوال اور بھی ہے کیا اس ملک کا عام شہری محفوظ ہے۔ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنے ترقی کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ہوگا، کیونکہ جس شہر میں انسان محفوظ نہ ہو، وہاں ترقی کی روشنیاں بھی کچھ مدھم دکھائی دیتی ہیں۔ جس ریاست میں شہری اپنی جان کی حفاظت کے لیے خود کو بے سہارا محسوس کرے وہاں سب سے پہلے کسی نئی عمارت کسی نئے منصوبے یا کسی نئے نعرے کی نہیں بلکہ ریاستی ذمے داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ رضا میر واپس نہیں آسکتا ،اس کے اہل خانہ کا دکھ کوئی لفظ کم نہیں کرسکتا لیکن اس کی موت کو محض ایک اور خبر بنا دینا بھی اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس سانحے سے ہمیں ایک ایسا سوال اٹھانا ہوگا جو شاید ہمارے سیاسی اور سماجی شعور کا سب سے بنیادی سوال ہے۔ ریاست آخر کس کے لیے ہے۔ اگر ریاست اپنے شہری کی جان کی حفاظت نہیں کرسکتی تو پھر اس کی تمام طاقت تمام ادارے اور تمام دعوے کس کام کے ہیں ریاست کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ اس کے شہری کتنے محفوظ ہیں۔ شاید آج ہمیں ترقی کی تعریف بھی یہیں سے شروع کرنی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل