Loading
کبھی کبھی تاریخ کے بڑے فیصلے کسی جنگ کے شور میں نہیں بلکہ چند دستخطوں کی خاموشی میں اپنی سمت متعین کرتے ہیں۔ مکہ میں ہونے والا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی محض ایک دفاعی دستاویز نہیں بلکہ بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کی تبدیل ہوتی صف بندی کی علامت ہے۔ اس معاہدے کی اصل معنویت شاید اس کے الفاظ سے زیادہ اس پس منظر میں پوشیدہ ہے جس میں یہ وجود میں آیا۔
ایک ایسا خطہ جہاں کئی دہائیوں سے بیرونی طاقتیں سلامتی کی تعریفیں طے کرتی رہی ہیں، جہاں دفاعی ترجیحات اکثر واشنگٹن، ماسکو یا دیگر عالمی مراکزِ طاقت کے زاویہ نگاہ سے دیکھی جاتی رہی ہیں، وہاں تین اہم مسلم ممالک کا اپنی سلامتی کو باہمی اعتماد کے رشتے سے جوڑنے کا فیصلہ یقیناً معمولی پیش رفت نہیں۔ اسی لیے تہران کا محتاط مگر مثبت ردعمل اور تل ابیب کی بے چینی، دونوں اس معاہدے کی اہمیت کو دو مختلف زاویوں سے واضح کر رہے ہیں۔
ایران نے جس انداز میں اس معاہدے کو دیکھا ہے، اس میں سفارت کاری کی وہ باریک بینی نمایاں ہے جس کی موجودہ مشرقِ وسطیٰ کو اشد ضرورت ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ تہران کو اس معاہدے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ ایران کے خلاف نہیں۔ یہ ردعمل بظاہر ایک سادہ سفارتی بیان محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے اندر کئی تہہ دار پیغامات موجود ہیں۔ ایران نے نہ تو اسے خطرہ قرار دے کر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا۔
اس نے اپنے تاریخی، مذہبی اور تہذیبی روابط کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اشارہ دیا کہ خطے کی سلامتی کا کوئی بھی نیا انتظام اگر علاقائی ممالک کے درمیان ہو تو اسے مکالمے اور تعاون کے امکانات کے ساتھ پرکھا جانا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ دفاعی معاہدہ روایتی عسکری اتحادوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے، اگر کسی معاہدے کی بنیاد کسی تیسرے ملک کو نشانہ بنانا ہو تو اس کی زبان میں عموماً دشمن کی نشان دہی، خطرے کی تخصیص اور جوابی کارروائی کی دھمکیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی طرف سے اس معاہدے کو دفاع، امن، استحکام اور خوش حالی سے جوڑنا ایک مختلف سیاسی فلسفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تاہم محض الفاظ کافی نہیں ہوتے، کسی بھی دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش اس کے عملی ڈھانچے، فیصلوں کے طریقہ کار، مشترکہ کمانڈ، انٹیلی جنس تعاون اور بحران کی صورت میں ردعمل کے اصولوں سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے جذباتی نعروں کے بجائے ایک منظم، شفاف اور قابلِ عمل علاقائی سلامتی کے فریم ورک میں کس حد تک ڈھالا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کئی جہتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔
سب سے پہلی جہت سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلق کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے روابط محض سفارتی مراسم تک محدود نہیں رہے۔ دفاعی تعاون، تربیت، افرادی روابط، اقتصادی مفادات اور حرمین شریفین سے وابستہ گہری عقیدت نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک منفرد نوعیت دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستانی عوام اور افواج اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مل کر حرمین کی ذمے داری ہمیشہ نبھاتے رہے ہیں، اسی تاریخی تناظر کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم اس جذباتی وابستگی کو جدید ریاستی تقاضوں کے ساتھ جوڑنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ مذہبی عقیدت، قومی مفاد اور علاقائی سفارت کاری کے درمیان ایسا توازن قائم رکھے جس سے اس کی دفاعی ترجیحات مضبوط ہوں مگر وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف محاذ کا حصہ نہ بنے۔
ترکیہ کی شمولیت اس معاہدے کو مزید اہم بناتی ہے۔ ترکیہ صرف ایک بڑی مسلم ریاست نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی طاقت، اہم علاقائی کردار اور نیٹو کا رکن بھی ہے۔ اس کا دفاعی تجربہ، عسکری صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری صلاحیت اور جدید جنگی منصوبہ بندی پاکستان اور سعودی عرب کے لیے تعاون کے نئے دروازے کھول سکتی ہے، اگر تینوں ممالک اپنے عسکری تجربات کو باقاعدہ مشترکہ تربیتی مشقوں، دفاعی پیداوار، سائبر سکیورٹی، فضائی نگرانی، بحری تحفظ اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں مربوط کرتے ہیں تو یہ معاہدہ محض کاغذی وعدہ نہیں رہے گا بلکہ ایک حقیقی علاقائی دفاعی صلاحیت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایران نے اس پیش رفت کو فوری طور پر اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھا۔ تہران کا یہ رویہ پاکستان کے لیے ایک قیمتی سفارتی موقع پیدا کرتا ہے۔ پاکستان بیک وقت سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والا ملک ہے اور اسی لیے وہ خطے میں پل کا کردار ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا پر انحصار کے خاتمے کی بات بھی اس بحث کو ایک وسیع تر تناظر فراہم کرتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سلامتی کا ایک بڑا تصور یہ رہا کہ بیرونی طاقت کی عسکری موجودگی ہی علاقائی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔ مگر عراق، شام، افغانستان، یمن اور غزہ کے تجربات نے اس تصور کو شدید سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ بیرونی فوجی طاقتیں کسی ملک کو وقتی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں، لیکن وہ ہمیشہ کے لیے علاقائی امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ دیرپا استحکام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب خطے کے ممالک اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے وجود، خودمختاری اور مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے سلامتی کا مشترکہ تصور تشکیل دیں۔
اس تناظر میں اسرائیل کی تشویش کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی وزیر برائے امور تارکین وطن کی جانب سے مکہ معاہدے کو خطرناک پیش رفت قرار دینا اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ تل ابیب اس نئے دفاعی بندوبست کو اپنے لیے ایک اہم تزویراتی تبدیلی سمجھ رہا ہے۔ خصوصاً ترکیہ کی شمولیت اس کے لیے حساس معاملہ ہے کیونکہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان کئی معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اور ترکیہ کی عسکری صلاحیت ایک نئے امتزاج کو جنم دیتی ہے جس کے اثرات صرف تین دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔
تاہم یہاں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیل اس معاہدے سے پریشان ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مسلم ممالک اپنی پالیسیوں کی بنیاد اسرائیلی ردعمل پر رکھیں گے یا اپنے حقیقی قومی اور علاقائی مفادات پر۔ اگر ہر علاقائی فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے کہ اسے اسرائیل کیسے دیکھے گا تو مسلم دنیا کبھی آزادانہ تزویراتی سوچ پیدا نہیں کر سکے گی۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ کسی دفاعی اتحاد کو اسرائیل مخالف جذباتی پلیٹ فارم میں تبدیل نہ کیا جائے۔ ایک مضبوط اتحاد وہ ہوتا ہے جو اپنے وجود کا جواز کسی دوسرے کے خلاف دشمنی میں نہیں بلکہ اپنے ارکان کے مشترکہ مفادات میں تلاش کرے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ مسلم دنیا میں ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں کے روایتی اثر و رسوخ کے بارے میں سوالات بڑھ رہے ہیں۔ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے ممالک اب اپنی سلامتی اور معاشی ترجیحات کو صرف ایک عالمی طاقت کے ساتھ وابستہ رکھنے کے بجائے متعدد شراکت داریوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں علاقائی طاقتوں کے درمیان باہمی دفاعی تعاون ایک فطری رجحان ہے، لیکن اس رجحان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اتحاد خوف کی بنیاد پر بنتا ہے یا اعتماد کی بنیاد پر۔آخرکار کسی بھی دفاعی اتحاد کی اصل طاقت اس کی فوجی تعداد نہیں بلکہ اس کی سیاسی بصیرت ہوتی ہے۔
اگر مکہ معاہدہ طاقت کو ذمے داری کے ساتھ استعمال کرنے، اختلاف کو مکالمے میں بدلنے اور بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی ممالک کو اپنے فیصلوں کا مالک بنانے کی طرف پیش قدمی کرتا ہے تو اس کی اہمیت آنے والے برسوں میں کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے کسی نئے بلاک کی بنیاد بنا کر دوسرے ممالک کو مدِمقابل کھڑا کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا پہلے سے موجود کشیدگیوں کے ایک نئے دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں۔
مکہ سے اٹھنے والا اصل پیغام اسی لیے دفاع سے زیادہ سفارت کاری کا ہونا چاہیے۔ تین ممالک کا ایک میز پر آنا اہم ہے، مگر اس سے بھی اہم یہ ہے کہ اس میز کو اتنا وسیع کیا جائے کہ اس پر اختلاف رکھنے والے ممالک بھی بیٹھ سکیں۔ ایران کا ردعمل بتا رہا ہے کہ اس امکان کا دروازہ ابھی کھلا ہے، جب کہ اسرائیل کی بے چینی اس تبدیلی کی تزویراتی اہمیت کو نمایاں کر رہی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ ایک نئے دفاعی معاہدے کا رکن بن گیا، بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اس معاہدے کو ایسی علاقائی حکمتِ عملی میں بدل دے جس میں طاقت کا مقصد جنگ روکنا، دفاع کا مقصد امن قائم کرنا اور اتحاد کا مقصد تقسیم ختم کرنا ہو، اگر مکہ کا یہ عہد اسی سمت بڑھتا ہے تو اس کی بازگشت صرف تین دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے سیاسی مستقبل میں سنائی دے سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل