Tuesday, August 11, 2026
 

آزادی کا جشن اور ادھورا خواب

 



ایک دن بعد ہم جشن آزادی منائیں گے۔ سبز ہلالی پرچم گھروں کی چھتوں، گاڑیوں اور بازاروں میں لہراتے دکھائی دیں گے، ملی نغموں کی آوازیں فضا میں بکھری ہوں گی، بچے اپنے چہروں پر سبز و سفید رنگ سجائے گلیوں میں پھریں گے اور ہم سب ایک دوسرے کو یومِ آزادی کی مبارک باد دیں گے۔ یہ منظر یقیناً خوب صورت ہوگا کیونکہ قومیں اپنی آزادی کے دن کو بھلا نہیں سکتیں لیکن ہر جشن کے بیچ ایک سوال بھی اپنا راستہ بناتا ہوا ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، کیا ہم نے آزادی حاصل کرلی یا صرف ایک آزاد مملکت حاصل کی ہے۔یہ سوال شاید تلخ ہے مگر ضروری ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کو ہیں۔ ایک نسل گئی، دوسری آئی، پھر تیسری اور چوتھی بھی تاریخ کے صفحات میں اپنا نام لکھوا کر رخصت ہو گئی۔ ہم نے کئی حکومتیں دیکھیں، کئی حکمران دیکھے، جمہوریت کے ادوار دیکھے، آمریت کے سائے دیکھے، جنگیں دیکھیں، ہجرتیں دیکھیں، سیاسی تحریکیں دیکھیں، معاشی بحران دیکھے اور ایسے لمحات بھی دیکھے جب پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔لیکن ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آئین و قانون کے مطبق عام پاکستانی کتنا آزاد ہے؟ کیا اسے قانون کے سامنے وہی تحفظ حاصل ہے جو ایک طاقتور شخص کو حاصل ہے؟ کیا اس کے بچے کو معیاری تعلیم کا وہ حق میسر ہے جو کسی صاحبِ اقتدار کے بچے کو حاصل ہے؟ کیا اسے روزگار، انصاف، صحت اور عزتِ نفس کی ضمانت حاصل ہے؟ کیا اسے حکومتوں کے فیصلوں پر اعتماد ہے یا وہ اب بھی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب ہمیں بے چین کرتے ہیں تو شاید اس یومِ آزادی پر ہمیں کچھ دیر کے لیے جشن کے شور سے نکل کر تاریخ کی خاموش گلیوں میں بھی جانا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ کسی ایک رنگ کی تاریخ نہیں ہے، اس میں کامیابیاں بھی ہیں اور ناکامیاں بھی، قربانیاں بھی ہیں اور غلط فیصلے بھی ہیں۔ ہم نے ایک ایسی ریاست کو قائم رکھا جس کے آغاز ہی میں مشکلات کا ایک پہاڑ سامنے کھڑا تھا۔ وسائل محدود تھے، مسائل بے شمار تھے، سرحدوں پر خطرات تھے اور ایک نئی ریاست کو اپنے وجود کا جواز دنیا کے سامنے ثابت کرنا تھا۔اس سب کے باوجود پاکستان کھڑا ہوا، آگے بڑھا اور آج ایک ایٹمی قوت ہے۔ اس حقیقت کو معمولی سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ مگر ریاست کے اندر قانون کی بالادستی، سیاسی استحکام اور معاشی خود انحصاری کے محاذ پر ہمارا سفر اتنا ہموار نہیں رہا۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری شاید یہی رہی کہ ہم نے اداروں کو اس طرح ترقی یافتہ ہونے کا موقع نہیں دیا جس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ضروری ہوتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں جمہوریت اور آمریت عجیب انداز میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی رہی ہیں۔ آمریت آئی تو اسے راستہ دینے والے صرف غیر سیاسی حلقے نہیں تھے، سیاست دانوں کے بڑے حصے نے بھی اسے قبول کیا اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کیے۔ جمہوری حکومتیں آئیں تو وہ بھی ہمیشہ جمہوریت کے بنیادی تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکیں۔یوں مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ آمریت نے جمہوریت کو کمزور کیا، مسئلہ یہ بھی تھا کہ جمہوریت اپنے اندر اتنی مضبوط نہ ہو سکی کہ کسی غیر جمہوری مداخلت کو مستقل طور پر روک سکتی۔ مگر یہاں بھی تاریخ سے انصاف کرنا ضروری ہے، پاکستان نے ملکی سلامتی اور دفاع کے میدان میں جو کردار ادا کیا، اسے یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹمی پروگرام کا سفر اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ہم نے دفاعی میدان میں تو ایک مقام حاصل کر لیا لیکن معاشی میدان میں ہم مسلسل دوسروں کے سہارے کیوں تلاش کرتے ہیں، قرض ہماری ضرورت بن جاتا ہے۔ ریاست کی حقیقی بنیاد اس کی معیشت، ادارے اور شہریوں کا اعتماد ہوتے ہیں،اگر خزانہ خالی ہو، تو ریاست کو دیرپا استحکام نہیں مل سکتا۔آج اگر ہم یہ سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان کی سمت درست کیوں نہیں تو ہمیں اس سوال کا جواب کسی ایک دروازے پر نہیں ملے گا۔ہم سیاست دانوں کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں اور ٹھہرانا بھی چاہیے جہاں انھوں نے غلطی کی۔ کرپشن، اقرباپروری، ناقص حکمرانی، سیاسی انتقام اور ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کا حساب بھی ہونا چاہیے مگر کیا تمام ذمے داری سیاست دانوں پر ڈال دینا کافی ہوگا ۔ ریاست کے تمام ستونوں کا اپنا اپنا کردار ہے۔ پارلیمان قانون بناتی ہے، حکومت اسے نافذ کرتی ہے، عدلیہ انصاف فراہم کرتی ہے اور ریاستی ادارے ملکی نظام چلاتے ہیں۔ جب یہ سب اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کریں تو ریاست کا پہیہ رواں رہتا ہے لیکن جب ستون ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں تو عمارت کمزور ہونے لگتی ہے۔یہی شاید ہماری اصل بیماری ہے۔ ہمیں اب ایک اجتماعی اعتراف کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی موجودہ مشکلات کسی ایک شخص، ایک جماعت یا ایک ادارے کی پیدا کردہ نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی غلط ترجیحات، کمزور فیصلوں، ادارہ جاتی کشمکش، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بے تدبیری کا مجموعہ ہیں۔اگر ناکامی اجتماعی ہے تو اصلاح بھی اجتماعی ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مایوسی کے بجائے امید کا چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ ہمیں انھیں ایسا پاکستان بھی دینا ہوگا جس پر وہ واقعی فخر کر سکیں۔آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اب ہمارے پاس الزام تراشی کے لیے وقت کم اور تعمیر کے لیے وقت زیادہ ہونا چاہیے۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگلی آٹھ دہائیاں بھی اسی سوال میں گزر جائیں گی کہ ہماری سمت درست کیوں نہیں ہے یا ہم اپنے فیصلوں، اداروں اور ترجیحات کو درست کرکے ایک نئی سمت اختیار کریں گے۔ ہم سب کو اپنے اپنے حصے کی ذمے داری اٹھانا ہو گی ۔ ہم نے بہت وقت گزار دیا ہے ۔ اب شاید وقت ہے کہ جشن آزادی کو احساسِ ذمے داری، احساسِ احتساب اور احساسِ تعمیرکے ساتھ منایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں جب پاکستان کا اگلا یومِ آزادی منائیں تو فخر سیکہہ سکیں کہ ہم واقعی ایک آزاد، مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست کے شہری ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل