Thursday, August 13, 2026
 

ٹرمپ وائٹ ہاؤس کو دنیا کا سب سے مہنگا گھر بنانے پر تُل گئے؛’میک اوور‘کیلیے ایک ارب ڈالر

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو شاید دنیا کا سب سے مہنگا سرکاری گھر بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس اور اس کے اطراف تعمیر و تزئین کے مختلف منصوبوں پر مجموعی لاگت 927 ملین ڈالر یعنی تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ان منصوبوں میں نیا شاندار بال روم، ہیلی پیڈ، سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے نیا اسکریننگ سینٹر، روز گارڈن میں تبدیلیاں اور لافائیٹ اسکوائر کے اطراف مختلف تعمیراتی و سکیورٹی کام شامل ہیں۔ 600 ملین ڈالر کا بال روم صدر ٹرمپ کے منصوبے کا سب سے نمایاں حصہ وائٹ ہاؤس کے سابق ایسٹ ونگ کی جگہ تعمیر کیا جانے والا وسیع بال روم ہے جس کی لاگت مختلف مراحل میں بڑھتی رہی ہے اور اب تقریباً 600 ملین ڈالر تک بتائی جارہی ہے۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بال روم کے لیے 400 ملین ڈالر نجی عطیات سے فراہم کیے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبہ صرف مہنگا ہی نہیں بلکہ قانونی تنازع کا شکار بھی ہے۔ امریکی وفاقی اپیل عدالت نے رواں ماہ فیصلہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس بڑے بال روم کی تعمیر جاری نہیں رکھ سکتی۔ عدالت کے مطابق وائٹ ہاؤس کی تعمیر یا انہدام سے متعلق ایسے بڑے فیصلوں کا اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سرکاری خزانے سے کتنی رقم؟ سب سے زیادہ سوال اس رقم کے انتظام پر اٹھ رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات کے مطابق انتظامیہ نے کانگریس سے پورے منصوبے کے لیے براہِ راست رقم مانگنے کے بجائے مختلف سرکاری اداروں سے رقوم منتقل کیں اور نجی عطیات بھی حاصل کیے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک ایسے اکاؤنٹ میں، جو عام طور پر معمولی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوتا ہے، ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً 875 ملین ڈالر منتقل کیے گئے۔ اس میں 500 ملین ڈالر امریکی سیکرٹ سروس اور وائٹ ہاؤس ملٹری آفس سے، 305 ملین ڈالر نجی عطیات جبکہ تقریباً 70 ملین ڈالر ایسی رقم شامل ہے جس کا ذریعہ دستیاب دستاویزات سے واضح نہیں۔ یہ اکاؤنٹ عام طور پر کانگریس سے سالانہ صرف تقریباً 2.5 ملین ڈالر وصول کرتا ہے۔ یوں معمول کی مرمت کے لیے استعمال ہونے والے اکاؤنٹ میں اچانک سیکڑوں ملین ڈالر پہنچ جانا خود ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔ ٹرمپ کے لیے خصوصی ہیلی پیڈ بھی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں نیا ہیلی پیڈ بھی بنوانا شروع کردیا ہے۔ یہ منصوبہ نئے اور زیادہ طاقتور صدارتی ہیلی کاپٹروں کے لیے بنایا جارہا ہے۔ ابتدا میں اس کی لاگت تقریباً 6 ملین ڈالر بتائی گئی تھی جبکہ متعلقہ کاموں سمیت منصوبے کی لاگت تقریباً 13 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی صدر کے لیے گھر میں رہائش، دفتر اور سکیورٹی کے ساتھ اب ذاتی نوعیت کی ایئرپورٹ سہولت بھی تیار کی جارہی ہے۔ سیاحوں کے لیے زیرِ زمین سیکیورٹی سینٹر وائٹ ہاؤس کے اطراف تبدیلیوں کا دائرہ بال روم اور ہیلی پیڈ تک محدود نہیں۔ انتظامیہ نے سیاحوں اور وائٹ ہاؤس آنے والے گروپس کے لیے 33 ہزار مربع فٹ پر مشتمل نیا وزیٹر اسکریننگ سینٹر بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جو شرمن پارک کے نیچے تعمیر کیا جائے گا۔  رپورٹس کے مطابق بال روم منصوبے کے نیچے ایک وسیع زیرِ زمین سکیورٹی کمپلیکس بھی شامل ہے، جس کی بعض تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ ’’امریکا کا 250واں یومِ آزادی‘‘ بھی جواز ٹرمپ انتظامیہ ان منصوبوں کو وائٹ ہاؤس کی ضروری تزئین، جدید سکیورٹی اور امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کی تیاری سے جوڑ رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوڈ انگل نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ’’پیپلز ہاؤس‘‘ کی طویل عرصے سے زیر التوا ضروری تزئین و آرائش مکمل کررہے ہیں تاکہ یہ عمارت آنے والی نسلوں کے لیے بہترین حالت میں برقرار رہے۔ لیکن ناقدین کے لیے معاملہ کچھ یوں ہے کہ امریکہ میں مہنگائی، بجٹ اور سرکاری اخراجات پر بحث کے دوران وائٹ ہاؤس کا ’’میک اوور‘‘ تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے۔ جس بال روم کو ابتدا میں چند سو ملین ڈالر کا منصوبہ سمجھا گیا تھا وہ اب قیمت کے ساتھ ساتھ عدالتوں اور کانگریس کے اختیار کا بھی امتحان بن چکا ہے۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل